سیروسیاحت کے لئے منصوبہ بندی ناگزیر ہے۔  263

 سیروسیاحت کے لئے منصوبہ بندی ناگزیر ہے۔ 

موسم گرما کی تعطیلات کاآغاز ہوتے ہی سیاحوں کا رخ شمالی علاقہ جات کی طرف ہوجاتا ہے، باوجود اس کے قریباً ہر سال کچھ سیاح حادثات کی نذر ہو جاتے ہیں ،بعض کوبہت سی مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے، اس کی بڑی وجہ عدم منصوبہ بندی اور بھیڑ چال ہے،سرکاری اور نیم سرکاری طور پر مذکورہ مقامات پر مطالعاتی اور تفریحی دوروں کا جو اہتمام منصوبہ بندی سے کیا جاتا ہے، اس کے شرکاء لطف اندوز ہوتے اور محفوظ بھی رہتے ہیں۔ 
راقم کو 1984کی وہ سہ پہر یاد ہے جب کلاس فیلوز کے ساتھ ملتان سے راولپنڈی جانے کے لئے ریلوے اسٹیشن پر براجمان تھے، کالج کا یہ مطالعاتی اور تفریحی دورہ پندرہ روزہ تک محیط تھا، اگرچہ اس دور میں ذرائع آمدورفت تیز تر نہ تھے ،مگر ہمارے اساتذہ کرام اللہ یار خاں اور عبدالوحید خاں مرحوم نے ایسے بہترین انتظامات کئے کہ اسلام آباد ،مری، سوات ،مرغزار،بحرین، کالام، سیدو شریف،پشاور تا درہ خیبر تک کے سفر میں کسی پریشانی کا سامنا نہ تھا، بہت سے تفریحی مقامات پر جانے کا اتفاق بعد ازاں بھی ہوا،ذاتی مشاہدہ کی بناء پر رائے قائم کی جاسکتی ہے کہ سیاح کسی تفریحی مقام پر جانے سے قبل نہ تو ہوم ورک کرتے ہیں ، نہ ہی منصوبہ بندی جس کا نتیجہ کسی نہ کسی پریشانی کی صورت ہی میں نکلتا ہے۔
گزشتہ دنوں ساہیوال کے ایک ہی خاندان کے آٹھ افراد لقمہ اجل بن گئے انکی وین بابو سر ٹاپ کے قریب حادثہ کا شکار ہو گئی،اسکی بریک فیل ہوگئی،ڈرائیور نے ٹائیر کے پیچھے پتھر لگانے کو کہا مگر یہ کنٹرول نہ ہوسکی یوں گہری کھائی میں گر گئی،مرحومین کا شمالی علاقہ جات کی طرف   پہلا اور آخری سفر ثابت ہوا۔اسی طرح راجن پور کے چھ نوجوان بھی سکردو سے واپسی پر دریا میں اس وقت ڈوب گئے جب انکی گاڑی بھی بریک فیل ہونے سے مسافروں سمیت دریا میں جاگری، اخباری اطلاع کے مطابق ان میں سے چار نوجوانوں کی لاشیں تاحال نہیں مل سکی ہیں۔ان کے خاندان نجانے کس قرب سے گذ ر رہے ہوں گے۔ 
ماہرین سیا حت کا کہنا ہے کہ میدانی اور پہاڑی علاقہ جات میں ڈرائیورنگ ایک جیسی نہیں ہوتی، میدانی علاقوں کے ڈرائیورگیئر کی بجائے بریک کا استعمال زیادہ کرتے ہیں اس لئے بریک فیل ہو جاتی ہے،یوں گاڑی کو کنٹرول کرنا بہت مشکل ہوتا ہے، ماہرین ان علاقہ جات میں حادثات کی یہ وجوہات بتاتے ہیں ایک تو ماہر ڈرئیور کا نہ ہونا، دوسرا گاڑی کا پہاڑی علاقہ کے سفر کے لئے فٹ نہ ہونا،تیسرا ڈرائیور کی ضروریات اور آرام کا خیال نہ رکھنا مقامی ڈرائیور کی خدمات نہ لینا،راستوں کا درست علم نہ ہوناشامل ہے۔
سیاحتی ماہرین تجویز دیتے ہیں کہ سیاح برسات کے موسم میںشمالی علاقہ جات میں آنے سے اس لئے گریز کریں کیونکہ ان دنوں میں بہت لینڈ سلائیڈنگ ہوتی ہے راستے بند ہو جاتے ہیں، بچے، خواتین بڑی اذیت میں مبتلا ہوتے ہیں ،اس کا عملی مظاہرہ مری میں برفانی طوفان اور 22  ہلاکتوں کی صورت میں دیکھ چکے ہیں،ان کا  یہ بھی کہنا ہے کہ ڈرائیور سٹیئرنگ پر مکمل کنٹرول رکھیں،شیشوں کا بروقت استعمال کریں، نیز سفر کا آغاز کرنے سے پہلے موسم دیکھ لیں اور آنے سے قبل رہائش کا معقول انتظام کر لیں، خیبر پختون خواہ کی موبائل ایپ سے

 راہنمائی لیں، ایمرجنسی کی صورت میں ہیلپ لائین1422 پر رابطہ کریں، ذاتی مشاہدہ ہے کہ دوستوں کے ہمراہ جب بابو سر ٹاپ اور فیملی کے ساتھ وادی نیلم میں اڑنگ کیل پر موجود تھے تو کسی بھی بڑے نیٹ ورک کے وہاں سگنل دستیاب نہیں تھے ، نہ ہی ہیلپ ڈیسک کسی جگہ پایا گیا یہ معاملہ تاحال حل طلب ہے۔
سیاحت کے شوقین افراد کو چاہئے کہ شمالی علاقہ جات میں مستند گائیڈ ز کی خدمات حاصل کریں مقامی ہوٹل انتظامیہ سے اسکی گارنٹی بھی لیں ،تجربہ بتاتا ہے کہ بعض گائیڈ سیاحوں کو پہاڑی کی چوٹی یا جھیلوں پر چھوڑ کر غائب ہو جاتے ہیں۔نیز بچے،بڑے فرط جذبات میں دریائوں کے کنارے کھڑے ہو کر تصاویر بناتے ہیں پھسلن کی وجہ سے توازن برقرار نہ رکھنے کی صورت دریا میں گر جاتے ہیں،وڈیوز یا تصاویر بناتے ہوئے والدین بچوں پر لازمی نگاہ رکھیں۔
ترکی سے وی لاگر اور سیاحت کی شوقین سیدہ نور کا کہنا ہے کہ شمالی علاقہ جات میں معیاری پبلک ٹرانسپورٹ اور واش رومز کی بہت کمی ہے۔یورپ کی طرح یہاں پیدل چلنے والوں کے لئے راستے بہت محدود ہیں، نیز بیرون سیاحوں کے لئے کرنسی انٹر چینج کے لئے ان علاقہ جات میں بنک نہ ہونے کے برابر ہیں۔
18آئینی ترمیم کے بعد سیاحت کے شعبہ میں اصلاحات لانا صوبہ جات کی ذمہ داری ہے کہ وہ سیاحوں کی توجہ حاصل کرنے کے لئے تفریحی مقامات کے انفراسٹریکچر میں کلیدی تبدیلیاں لائیں،ان علاقہ جات میں چھوٹے طیاروں کی سروس کا بھی آغاز کریں،ٹورسٹ گائیڈز کی باقاعدہ رجسٹریشن اور تربیت کا بھی اہتمام کیا جائے،سیاحت کا سیزن شروع ہونے سے قبل سیاحوں کو میڈیا اور ہیلپ لائین سے مسلسل آگاہ رکھا جائے ۔ بہتر یہ ہے کہ ہر صوبہ سیاحتی ایپ متعارف کروائے۔ 
بدقسمتی سے ان علاقہ جات میں ریلیف کی فراہمی میں بہت وقت درکار ہوتا ہے، بھاری بھر مشینری کی نقل و حرکت بھی بڑا مسئلہ ہے، لینڈ سلائنڈنگ سے حادثہ نا بھی ہو توسڑک کے متاثر ہونے ٹریفک کا جام رہنا معمول بن جاتا ہے، ایندھن کا کافی ذخیرہ اورمسافروں کے پاس پانی ہونا لازم ہے۔نیز یہ کہ ٹورازم ڈیپارٹمنٹ کو اپنے اپنے صوبہ جات میں فعال ہونا چاہئے تاکہ ہر طرح کی بنیادی معلومات سیاحوں کو فراہم کر سکے۔ 
 سماجی علوم کے ماہرین کا کہنا ہے کہ85 فیصد حادثات کی وجہ انسانی رویئے اور لاپر واہی ہوتی ہے،تفریح کے لئے مکمل سہولیات کی عدم فراہمی ہی خطرات کو جنم دیتی ہے اور سیاح حادثات سے دور چار ہوتے ہیں۔ساہیوال اور راجن پور کے بدقسمت سیاح جن کو حادثات پیش آئے ہیں ،ان میں بڑا عمل دخل ان کی لاعلمی کا بھی ہے ۔
ارض وطن خوبصورت دھرتی ہے، چاروں صوبہ جات اور آزاد کشمیر میں ہزاروں دلکش مناظر اور مقامات ہیں جو سیاحوں کو اپنی طرف کھینچتے ہیں ،مگر آئے روز حادثات کی خبریں انکے جذبات کو ٹھنڈا کر دیتے ہیں ، اس شعبہ کو صنعت کا درجہ دیں، نئے سیاحتی مقامات دریافت کئے جائیں تو بیرون ملک سے بھی سیاح کشاں کشاں چلے آئیں گے ، تاہم بہترین گورننس سے حادثات پر قابو پایا جاسکتا ہے تاکہ پھر کسی خاندان کو
 اجتماعی حادثہ کا دکھ نہ اٹھانا پڑے۔ البتہ مرنے والوں کی مالی اعانت سرکارپر قرض نہیں بلکہ اس پر فرض ہے۔

بشکریہ اردو کالمز