سیاسی استحکام ممکن نہ اقتصادی! 222

سیاسی استحکام ممکن نہ اقتصادی!

پاکستانیو سنو پڑھو اور سوچو! مجموعی ملکی قومی ابلاغی دھارے(NATIONAL COMMUNICATION FLOW) میں غالب سیاسی ابلاغ کے جیسے تیسے اطلاق سے بنے بیمار جمہوری عمل میں بھی خود حکومت موجود کی رکاوٹوں اور اب تو تصادم سے کوئی اور بڑا المیہ ہونے کا انتباہ مختلف ذرائع سے بار بار کیا جا رہا ہے یہ تکرار کوئی نیم اسیر ہو گئے اور اتحادی حکومت کیلئے بنے ڈرائونے خواب عمران خان کے فقط گھر بیٹھے بار بار کے خطاب تک محدود ہیں۔ انہوں نے تو کرنی ہی ہے موجود فسطائی ماحول میں احترام آئین بری طرح اور مسلسل پامال ہونے مدلل نشاندہی پر پہلی اور زور دار تنقید ہی نہیں احتجاجی نشاندہی کی ہمت سب سے پہلے اتحادی حکومت کی بڑی سرخیل جماعت پیپلز پارٹی کے ماہرین آئین و قانون اور منجھے ہوئے گورننس کے تجربے کار سینیٹرز و بیرسٹر اعتزاز احسن اور سردار لطیف کھوسہ کی طرف سے ہوئی جو تکرار سے جاری ہے اور بہت ذرائع ہونے پر اب یہ ٹھوس رائے عامہ میں ڈھل چکی لیکن شہباز حکومت کا معاملہ اب آئینی عمل اور بنیادی تقاضوں کی تکمیل میں مکمل رکاوٹوں او رتاخیر تک محدود نہیں رہا وہ حکومت عدالتی فیصلوں سے تصادم کے بعد اب پارلیمان میں آنے والی نگراں حکومت کو بھی ٹیلر میڈ بنانے کیلئے آئین و قانون اور پارلیمانی ضوابط کو روندتے پارلیمانی کھلواڑ مچا رہی ہے اگرچہ اس کے خلاف بلاامتیاز حکومت و اپوزیشن کے ارکان نے بھی اپنے جمہوری ہونے کا بھرم رکھتے احتجاج و اعتراضات کئے لیکن غیر آئینی و غیر جمہوری و سیاسی اور مرضی کے الیکشن سےمتعلق ضرورتیں پوری کرنے کے یہ قانونی بل منظور کرکے پی ڈی ایم جماعتوں میں بظاہر پیدا کئے باہمی اختلاف کے باوجود ’’نورا کشتی ‘‘ بھی مکمل بے نقاب ہو گئی ۔

اب میڈیا سیاسی سرگرمیوں اور ابلاغ عامہ کو پابند حکومت کرنے کے لئے جو قانونی بل ٹاک شوز اور پرنٹ کے تجزیوں میں زیر بحث ہیں وہ واضح طور پر ملک میں چند ہفتوں ،مہینوں کے بعد ہونے و الے انتخابات کے مکمل جانبدار اور کئی اعتبار سے آلودہ ہونے کے خدشات و خطرات سے اٹے معلوم دے رہے ہیں۔

حکومت کی جانب سے شہباز اسپیڈ سے ہونے والی متنازعہ قانون سازی چونکہ بعض مثبت اطلاعات اور روایتی اور واضح شک و شبہات کی بنیاد پر علمی اختلاف (COGNATIVE DISSONANCE)سے خالی نہیں یعنی اس (اختلاف) کی بنیاد پر جو بھی مکمل آئوٹ آف دی وے قانون سازی ہو رہی ہے اس کا بھی مدلل جواز موجود ہے اور تنہا حکومت کا ہی نہیں اہم ملکی طاقت کی تائید کے ساتھ SHAREDہے۔ سو جو وضاحت حکومتی حلقوں کی جانب سے آ رہی ہے اس کے مطابق متنازعہ قانون سازی کو آئی ایم ایف کی لگی پابندیوں،دوست ملکوں کی امکانی سرمایہ کاری کی بنیاد پر چیف صاحب کے قوم کے سامنے پیش کئے گئے پروگریسو فارمنگ کے میگا پروجیکٹس اور ملک بھر میں انڈسٹریل زونز کے ساتھ جوڑا جا رہا ہے۔بلاشبہ یقینی فوڈ سیکورٹی کا بڑا ترقیاتی ہدف موجود گمبھیر ملکی اقتصادی صورتحال میں قومی ترجیح کے حوالے سے اولین حساس اور فوری توجہ کا طالب ہے۔ آئین نو میں تو کوویڈ19کے آتے ہی اسکو موضوع بنا کر اسکی اہمیت پر وقفوں سے بات جاری ہے۔ اس حوالے سے چیف صاحب کی نیت اور کوشش بھی قابل قدر ہے لیکن یہ دو اہم علمی ہی سوالوں سے جڑ ی ہوئی ہے۔ جدید ترقیاتی سائنس کے مطابق کسی بھی ترقیاتی عمل کو جاری و ساری رکھنے (SUSTAINABLE)اور اسے نتیجہ خیزبنانے کیلئے بمطابق آزمودہ متعلقہ علم کا اطلاق لازم ہے کہ اسے شراکت داری (پارٹیسپیٹری اپروچ) سے بنایا اور چلایا جائے جس کا بنیادی اور آئینی بھی تقاضا ہے کہ یہ عمل ملک میں ایک حقیقی منتخب حکومت پاکستانی عوام الناس کے آئینی تائید اور اطمینان اور بین الاقوامی سطح پر مکمل تسلیم شدہ اور معتبر حیثیت کا حامل ہو۔ افواج پاکستان کی منظم قوت کا اس کے لئے استعمال کیخلاف بھی جاری محتاط دلائل پر اس بڑے اور سنجیدہ آپشن کو رد بالکل نہیں کیا جا سکتا لیکن اس آپشن کو بھی دیکھنا ضروری ہے جو بذریعہ منتخب حکومت ہو گا اگر یہ ترقیاتی پروجیکٹس جتنے بھی ویل پلینڈ ہوئے سرمایہ کاری مطلوب کے مطابق ہوئی لیکن کن شرائط پر اور کس کی ؟ان پر عوام کو مطمئن کرنا لازم ہے ان پروجیکٹس کو براہ راست عوام کی عملی شرکت سے چلانا اور اس میں ’’فوج برائے امن‘‘ کے علمی جواز کےآپشن کو بھی ان سے منوانا یہ لازم بھی ہے اور ممکن بھی اس کی عملی اور قابل قبول شکل واضح کرنے کےلئے متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کی پوٹینشنل نمائندوں میں ایک ڈبیٹ اور اس کی سفارشات اور نتائج کو منتخب گورننس اور نئے آپشن سے جوڑنا ناگزیر ہے انشااللہ نتائج بہتر ہی نکلیں گے زرعی انقلاب تو پاکستان میں پہلے ہی برپا ہو گیا تھا لیکن متنازعہ آئین اور الیکشن کے باوجود برپا زرعی انقلاب سمیت پورا نتائج دیتا ترقیاتی عمل ہی ریورس ہو کر سیاسی انتشار اور بدترین انارکی میں تبدیل ہو گیا۔1977ء کے الیکشن کی سچی کہانی بھی یہ ہی ہے کہ متفقہ آئین کی بڑی پیش رفت جس پر دیانت دارانہ عملدرآمد بھٹو صاحب کو مزید ایک عشرے کا پاپولر لیڈر رہنے دیتا، آئین کے ساتھ نافذ ہوتے ہی اور جاری رہنے والے حکومتی سیاسی کھلواڑ سے جو نتائج نکلے وہ جتنا بڑا ملکی خسارہ بنے اتنے ہی سبق آموز تھے اور اب بھی ہیں۔

واضح رہے کہ COGNATIVE DISSONANCE ’’علمی اختلاف‘‘ کوئی تھیوری ہی نہیں اطلاقی باجوازا اور منفی نتائج کا حامل TESTED KNOWLEDGEہے یوں سمجھا جائے کہ سگریٹ نوشی مہلک ہونے کے باوجود ریلیکس ہونے، بے چینی اور اضطراب کو وقتی طور پر کم یا ختم کرنے اور امن و سکون کا ذریعہ بننے جیسے جو از اور دلائل کی حامل ہے لیکن نتیجہ خرابی ،صحت، حتی کہ وجہ مرگ تک مہلک لیکن ریاست کی سطح پر ترقیاتی اقدامات میں PARTICIPATERY APPROACH شراکت داری اختیار کرتے BENEFICIARIESجن کی ترقی تو ہے کی پالیسی و فیصلہ سازی اور عملدرآمد کے عمل میں عملی شرکت بذریعہ مستحکم ترقیاتی عمل مقررہ ترقیاتی اہداف کے حصول کی سکہ بند ضامن ہے۔ جان کی امان پاکر عرض ہے کہ ناچیز راقم قوت علم پر یقین اور پاکستان سے وفا کے لازمے پر اس نشاندہی کا مرتکب ہو رہا ہے کہ ہم کسی ٹیلر میڈ الیکشن اور ایسی ہی متنازعہ حکومت گھڑ کر انتخابی عمل میں عوام الناس اور مطلوب منتخب حکومت کی تشکیل کی راہ بند کرکے کہیں،مصنوعی سیاسی استحکام اور متنازعہ حکومت کی معاونت سے مجوزہ خوبصورت اور زبردست اقتصادی اور ترقیاتی منصوبوں کو اولیگار کی (مافیا راج) کے سہاروں کے ’’ثمرآور‘‘ سراب کی طرف تو نہیں بڑھ رہے غور فرمایا جائے۔وماعلینا الالبلاغ

بشکریہ جنگ نیوزکالم