سعودی عرب کی ریکوڈک میں دلچسپی 348

سعودی عرب کی ریکوڈک میں دلچسپی

پاکستان میں بیرونی سرمایہ کاری لانے کیلئے خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC) جن بڑے پروجیکٹس پر کام کر رہی ہے، وہ سول اور ملٹری قیادت کا مشترکہ کام کرنے کا انقلابی تصور ہے جس میں پاکستان کے ریکوڈک کے شیئرز کی سعودی عرب کو فروخت شامل ہے۔ اس سلسلے میں ریکوڈک کے شیئرز کی عالمی مشیر سے قیمت لگوالی گئی ہے اور پاکستان، سعودی عرب اور بیرک گولڈ معاہدے کیلئے تیار ہیں حالانکہ غزہ کی جنگ نے خلیجی ممالک سے 60 ارب ڈالر کی پاکستان میں متوقع سرمایہ کاری پر منفی اثرات ڈالے ہیں۔

ریکوڈک پاکستان کی معاشی ترقی کیلئے نہایت اہم منصوبہ ہے جس پر میں کئی کالم لکھ چکا ہوں۔ ریکوڈک میں تانبے کے 22ارب پائونڈ اور سونے کے 13 ملین اونس ذخائر پائے جاتے ہیں جن کی مجموعی مالیت 500ارب ڈالر ہے جو دنیا کے نویں بڑے سونے اور تانبے کے ذخائر شمار کئے جاتے ہیں۔ آسٹریلوی کمپنی ٹی تھیان (TCC) نے سونے اور تانبے کی کان کنی کے ریکوڈک منصوبے کیلئے 3.3ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا تھا جس میں ایئر پورٹ، سڑکیں، رہائشی مکانات، معدنیات کی کان کنی اور گوادر تک بین الاقوامی مارکیٹ تک رسائی کیلئے 682 کلومیٹر طویل ٹرانسپورٹیشن پائپ لائن کی تعمیر شامل تھی۔ معاہدے کے مطابق TCC آمدنی کا 25فیصد بلوچستان حکومت کو بغیر کسی سرمایہ کاری کے دینے کی پابند تھی کیونکہ معدنیات صوبوں کی ملکیت ہوتی ہیں لیکن سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں قائم 3 رکنی بینچ نے پاکستان اور ٹی تھیان کمپنی کے مابین 23 جولائی 1993ء کے معاہدے کو 7 جنوری 2013ء میں کالعدم قرار دیتے ہوئے کمپنی کو جاری کان کنی لائسنس منسوخ کردیا جس پر ٹی تھیان معاملے کو ورلڈ بینک کی عالمی عدالت لے گئی جس نے پاکستان پر 6 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا اور جرمانہ ادا نہ کرنیکی صورت میں پاکستان کے بیرونی اثاثے، ہوٹلز اور ایئر لائنز ضبط کی جاسکتی تھیں لیکن بعد میں پی ٹی آئی حکومت نے ریکوڈک کے فریقین کے ساتھ ایک باہمی تصفیہ اور بحالی کے فریم ورک پر اتفاق کیا جس کی سپریم کورٹ نے دسمبر 2022 ء میں توثیق کی۔ سپریم کورٹ کے تصفیے معاہدے میں پاکستان کی 3 کمپنیوں OGDC، PPL اور GHPL نے ریکوڈک منصوبے کی سابقہ پارٹنر چلی کی کمپنی Antofagasta کو پروجیکٹ سے الگ کرنے کیلئے 900 ملین ڈالر ادا کئے ، جس کے بعد بیرک گولڈ 50 فیصد، پاکستان اور حکومت بلوچستان نے 50 فیصد شیئرز کے ساتھ اس منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے پر اتفاق کیا۔ ریکوڈک سے سونا اور تانبہ نکالنے کیلئے کینیڈین کمپنی بیرک گولڈ کو 10ارب ڈالر کی نئی سرمایہ کاری لانی تھی جو اب سعودی عربیہ پبلک انویسٹمنٹ فنڈ (PIF) کے پاکستان اور حکومت بلوچستان کے شیئرز خریدنے سے کی جائیگی۔ سعودی انویسٹمنٹ فنڈ پوری دنیا میں معدنیات کے شعبے میں سرمایہ کاری کررہا ہے اور پاکستان میں ریکوڈک منصوبے میں سرمایہ کاری اسی کی ایک کڑی ہے۔ موجودہ زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی اور بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں کے باعث پاکستان کی مالی صورتحال ریکوڈک منصوبے میں نئی سرمایہ کاری کے قابل نہیں لہٰذاپاکستان نے اپنے شیئرز سعودی کمپنی کو فروخت کرنے کی آفر کی ہے جس پر بیرک گولڈ بھی متفق ہے۔

ریکوڈک منصوبے کا لائسنس منسوخ کرنے کے بعد تانبے اور سونے کی کان کنی کیلئے کچھ لائسنس چینی کمپنیوں کو دیئے گئے اور ان کے منصوبے سینڈک کے تحت 2004ء سے 2008ء تک 7.746 ٹن سونا،86013 ٹن تانبہ،11046 ٹن چاندی اور 14482 ٹن میگنائٹ حاصل کیا گیا لیکن موثر مانیٹرنگ نظام نہ ہونے کی وجہ سے ملک اس معدنی دولت سے فائدہ نہ اٹھاسکا۔ اس وقت دنیا میں قدرتی معدنیات سے مالا مال ممالک میں پہلے نمبر پر روس، دوسرے نمبر پر امریکہ، تیسرے نمبر پر سعودی عرب، چوتھے نمبر پر کینیڈا، پانچویں نمبر پر ایران، چھٹے نمبر پر چین، ساتویں نمبر پر برازیل، آٹھویں نمبر پر آسٹریلیا، نویں نمبر پر عراق اور دسویں نمبر پر وینزویلا ہے جو تیل، گیس، سونا، تانبہ ، کوئلہ اور دیگر معدنی وسائل سے مالا مال ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو بھی بے شمار معدنی وسائل سے مالا مال کیا ہے لیکن ہماری یہ بدقسمتی ہے کہ ہم 76 برسوں کے بعد بھی اس قدرتی دولت سے فائدہ نہیںاٹھاسکے اور آج ہمارے عوام دو وقت کی روٹی کیلئے پریشان ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں سونے، تانبے، چاندی کے علاوہ تھر میں 175 ارب ٹن کوئلے کے ذخائر عطا کئے ہیں جو سعودی عرب اور ایران کے تیل کے مجموعی ذخائر سے بھی زیادہ ہیں لیکن ہم آج بھی اس کالے سونے کو زمین سے نکال کر توانائی پیدا نہیں کرسکے بلکہ کوئلہ امپورٹ کرنے پر مجبور ہیں۔ یہی صورتحال ریکوڈک منصوبے کی ہے جس کی ابتداء 23 جولائی 1993 میں ہوئی تھی اور 30سال گزرنے کے باوجود اس منصوبے میں کان کنی شروع نہ کی جاسکی لیکن خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC) کے قیام اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی ذاتی دلچسپی اور کوششوں سے امید ہے کہ معدنیات کی کان کنی کا یہ اہم منصوبہ ان شاء اللّٰہ پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے گا۔

بشکریہ ہم سب