مسلسل سنگین صورت اختیار کرتے ملکی معاشی بحران کی بڑی وجہ بننے والے اور اس سے پیوستہ ہوئے گھمبیر سیاسی بحران کا متفقہ حل نہیں نکل پایا۔حکومت ،تحریک انصاف مذاکرات کیلئے صدر مملکت جیسا بڑا چینل بہت تاخیر سے کھلا اور کھلا تو اس کا واضح تاثر اب یہ بن رہا ہے کہ ہر دو نے ’’مذاکرات کی مزاحمت‘‘ کے طعنے و تنقید سے بچنے اور اپنی اپنی کھال بچانے کیلئے اس اتمام حجت کو جاری رکھا ہوا ہے۔صدر کی آئینی سربراہ ہونے کی حیثیت اور ا علیٰ جمہوری روایت کے اعتبار سے یہ مناسب ترین چینل ہونا چاہئے، اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ صدر عارف علوی اپنے تئیں مکمل خلوص اور اعلیٰ ترین منصب کے عین مطابق دونوں فریقین کو سن کر اور اپنی رائے اور مشوروں سے کوئی درمیانہ اور متفقہ حل نکالنے کیلئے پاپڑ بیل رہے ہیں لیکن تادم کوئی بڑی پیش رفت ہوئی نہ ہونے کا امکان ہے۔فقط دونوں جانب سے مذاکرات میں شامل ہونے کا بھرم رکھا جا رہا ہے نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ پی ڈی ایم حکومت ضمنی انتخابات میں عمران خان اور ان کی جماعت کی عین متوقع غیر معمولی کامیابیوں کے بعد یکسو ہو گئی کہ عام انتخابات کے انعقاد سے جتنا بچا جا سکتا ہے بچا جائے۔دوسری جانب عمران خان کو آئندہ ہونے والے الیکشن سے باہر کرنے کیلئے جتنا بھی اور جو کچھ ہو سکتا ہے، حکومتی اختیار سے وہ سب کچھ کیا جائے۔
تیسرا یہ کہ اپنے جہاں جہاں کسی ملنی کے دھڑکے ہیں ،لیڈروں کو ملکی عدالتوں سے جو سزائیں مل چکی ہیں،ان سب دھڑکوں کو جڑ سے اکھاڑ دیا جائے۔ حکومت ٹیلر میڈ قانون سازی کے تجربہ سے اس کی بڑی بینی فشری پہلے ہی بن چکی ہے۔اسٹیٹس کو پالیٹکس کی عینک سے پی ڈی ایم حکومت کی اس سیاسی مار دھاڑ اپروچ کا جائزہ لیا جائے تو اس کی جلد اور شفاف الیکشن کے خلاف مزاحمت کا عقلی جواز اس کے تئیں بہت واضح ہے۔
متذکرہ حکومتی و سیاسی ثابت شدہ اپروچ اور اس کے مطابق کھلواڑجیسے اقدامات، جن پر حکومت جارحانہ رویے سے فوکس کئے ہوئے ہے کے مقابل عوام کی بھاری اکثریت (جس کا ثبوت ضمنی انتخابات کے نتائج اور عمومی رائے سے ملا اور مل رہاہے ) رجیم چینج کو قبول نہ کرتے حیران کن ملک گیر احتجاج سے عمران خان کے ساتھ ہوتی گئی اور وہ بھی کمال برجستگی سے عوام کے ساتھ جڑ گئے ،حکومتی متذکرہ منفی اپروچ کے بالکل برعکس عمران نے عوام الناس کو پرامن احتجاج، اجتماع اور جلسہ و جلوس کے آئینی حق کے سرگرم استعمال سے جمہوری راہ اختیار کی۔دوسرا بڑا (قدرے متنازعہ)اقدام انہوں نے قومی اسمبلی میں اپنے سب سے بڑے پارلیمانی گروپ کو اسمبلی سے نکال کر پہلے سے ہی اپنے آئینی فریضے کی ادائیگی سے کمزور منتخب ایوان کو لنگڑا ہی کر دیا سو متنازعہ بنی حکومت کو اپوزیشن بھی ٹریژری بینچوں سے نکالنا پڑی ،تحریک انصاف کو اقتدار سے الگ ہوتے ہی تیزی سے مقبول کرنے اور اس کے قطعی برعکس حکومتی مقبولیت کا گراف اتنی ہی تیزی سے گرنے میں تبدیلی حکومت کے ساتھ ہی پٹرول، گیس، بجلی اور اشیائے خورونوش کے نرخ تیزی سے بڑھنے ،ڈالر کی قدر میں غیر معمولی اضافے کے حکومتی فیصلے اور ایکسپورٹ امپورٹ کے بحال ہوتے جانے سے عمران دور میں بحالی اور سرگرم ہوئی ٹیکسٹائل اور کنسٹرکشن انڈسٹری اور تجارتی سرگرمیوں کے دوبارہ تیزی سے ریورس میں جانے سے جو مہنگائی کم تر نظر آنے لگی، اب مہنگائی مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔ ان 8ماہ کی تمام صورتحال میں حکومت کی بیڈگورننس، عمران خان کو جکڑنے ،پرامن احتجاج پر بہیمانہ تشدد اور عشروں کے بعد کسی سول حکومت پر فسطائی اقدامات کے یقینی حد تک درست ہونے کے الزامات لگے اور لگ رہے ہیں ۔اس میں25مئی کے لانگ مارچ میں اسلام آباد کی پرتشدد شام سے قبل کی رات اور لاہور سے نکلنے والے قافلوں پر، وسیع تر گرفتاریوں اور پولیس کے وحشیانہ تشدد نے حکومت اور عوام کے فاصلے کو مزید بڑھایا ہی نہیں محتاط اندازہ یہ ہے کہ اس آمرانہ حکومتی رویے ،جس کا دھمکی آمیز اظہار وزارت داخلہ و اطلاعات کی طرف سے تواتر سے ہوا، نے پی ڈی ایم خصوصاً پنجاب میں ن لیگ کے روایتی ووٹ بینک کو بہت خاموشی سے ایک فکرمند کرنے والے فیصد میں گھٹا دیا ، یہ اتنا زیادہ ہے کہ اس کا اعتراف خود ن لیگی رہنمائوں کو کرکے ’’عمران خان کو فتنہ قرار دینا پڑا ‘‘جوبذات خود ایک اور فائر بیک بن گیا۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ آئینی حق کے مطابق تحریک انصاف کو اس کے استعمال سے روکنے کیلئے حکومت نے جو اقدامات اور پر خطر سیاسی ابلاغ کیا اس نے وقتی طور پر عمران کے سیاسی اہداف کے حصول میں سردست کامیاب رکاوٹیں ڈالیں، جس نے عمران خان کو اپنی صوبائی حکومتوں کی اسمبلیاں توڑنے کی آخری چال اختیار کرنے پر مجبور کر دیا،جو خود تحریک انصاف اور اتحادی ق لیگ میں زیربحث بن گئی ،اس حوالے سے اب تک سیاسی تجزیوں کا واضح جھکائو ، ق لیگ کے عدم تعاون ہونے کی طرف ہی رہا لیکن آخری بات جو سامنے آئی وہ یہ ہے کہ تحریک انصاف ن لیگ کے گڑھ میں اسٹیٹس کو پالیٹکس کے سب سےسرگرم، تاریخی اور محترم سیاسی خاندان ’’چوہدری برادران‘‘ کے سیاسی قلعے میں جگہ بنا چکی ہے۔
مونس الٰہی نے محدود ق لیگ کو اپنے والد پر اثرانداز ہو کر نہ صرف پنجاب میں اسٹیٹس کو پالیٹکس کو توڑ کر تازگی اور جدت اختیار کرنے کی ٹھان لی، ملک بھر کے جوانوں کے بدلتے تیور سے آخر مونس الٰہی کیسے متاثر نہ ہوتے ۔تحریک انصاف شکر کرے اسے ن لیگ کی حربہ سیاست اور انتظامی تجربے کے مقابل، باپ بیٹے کی مشترکہ اپروچ سے بننے والا پنجاب سیاست کے تازہ ماڈل کی معاونت مل گئی۔ لگتا ہے مارچ کے بعد چوہدری پرویز الٰہی فخر سے کہیں گے کہ کٹورے پہ کٹورا بیٹا باپ سے بھی گورا، میرا بیٹا ہی صحیح نکلا، وجہ انتخابی عمل کو موخر کرنا تو شاید حکومت کیلئے مزید بڑے سیاسی خساروں کے ساتھ ممکن ہو جائے، اب چوہدری پرویز الٰہی کی عمران خان کی سیاسی امامت کو حتمی قبول کرنے سے پنجاب میں پہلے سے سازگار ماحول میں جو نتیجہ خیز اضافہ ہو گا ، ن لیگ اور پوری پی ڈی ایم کسی بھی طور تحریک انصاف اور اسمارٹ اتحاد کے حق میں واضح امکانی نتائج کو بالکل روک نہ سکے گی۔رہی بات عمران کو دیوار سے لگا کر ان کو ان عدالتوں سے پھنسانے پر اکتفا کی ،جن سے انہیں حیران کن اور بے مثال ریلیف ملا ، اس پر عدالتوں کا پروفیشنلزم اور حلف سے وفا کا امتحان ہے کہ وہ آئین پاکستان سے متصادم ٹیلر میڈ قانون سازی پر کیا فیصلے کرتی ہیں جبکہ اسلامی جمہوریہ میں دو قانونی نظام کے تسلط کا یقین گھر گھر ہو چکا ہے ۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس
ایپ رائےدیں00923004647998)