سوڈان میں جنگ بندی کے لیے اسلامی ممالک کردار ادا کریں 183

سوڈان میں جنگ بندی کے لیے اسلامی ممالک کردار ادا کریں

    تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی مسلمانوں نے رنگ اور نسل کی بنیاد پر ایک دوسرے سے اختلافات کیے تو انہیں ناقابل تلافی نقصان اٹھانا پڑا۔ رنگ اور نسل کی بنیاد پر ہونے والے اختلافات نے مسلمانوں کی تاریخ کو ہی بدل ڈالا ۔ سلطنت عثمانیہ بھی صرف اور صرف رنگ و نسل کی بنیاد پر ہونے والے اختلافات کی وجہ سے ٹوٹی اور امت مسلمہ کا شیرازہ بکھر گیا اور آج تک امت دوبارہ سنبھل نہیں پائی ۔ امت مسلمہ کی چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں تقسیم ہو گئی جن کا ایک دوسرے کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ۔ اگر کفار ایک ریاست پر حملہ کرتے ہیں تو دوسری بیٹھ کر تماشہ دیکھتی ہے دوسری پر حملہ کرتے ہیں تو تیسریتماشہ دیکھتیہے ۔ کفار ایک کے بعد ایک ریاست کو نگلتے جا رہے ہیں لیکن دوسرے ممالک خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ یہ سب اسی وجہ سے ہو رہا ہے کہ مسلمان امت واحدہ بننے کی بجائے رنگ و نسل ، ممالک اور ریاستوں میں بٹ چکے ہیں اور ان کا جسد واحد والا تصور تقریبا مفقود ہو چکا ہے ۔ 
    سوڈان میں بھی حالیہ دنوں سے جاری کشیدگی کے پیچھے یہی رنگ اور نسل کا تصور کار فرما ہے۔ اگرچہ اسے دو جرنیلوں کی لڑائی قرار دیا جا رہا ہے گو کہ بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے لیکن اس کے پیچھے اگر تاریخ دیکھی جائے تو اس کی ابتداء بھی رنگ اور نسل کی بنیاد پر ہونے والی لڑائیوں سے ہوئی جو آج اس بھیانک جنگ تک پہنچ چکی ہے۔ دراصل سوڈان میں دو طرح کی قومیں آباد تھیں ایک تو وہ جو عربی النسل سوڈانی ہیں جو عربی بولنے والے ہیں اور وہ عرب ممالک سے ہجرت کرکے سینکڑوں سال پہلے وہاں آئے اور آباد ہوگئے اور دوسرے وہ ہیں جو حقیقت میں سوڈانی ہیں اور افریقی و غیر عربی ہیں۔ ان کی آبادی کے تناسب میں بھی بہت بڑا فرق ہے ۔ عربی النسل سوڈانی 70 فیصد کے لگ بھگ ہیں جبکہ تیس فیصد غیر عربی سوڈانی سوڈان میں آباد ہیں۔ پہلے غیر عربی سوڈانیوں کا علاقہ آزاد مملکت ہوا کرتا تھا جس پر انگریزوں نے قبضہ کرکے سوڈان میں شامل کردیا پھر جب انگریزوں نے سوڈان کو آزاد کیا تو انہوں نے اسے آزاد کرنے کی بجائے سوڈان میں ہی شامل رکھا جس پر اکثریتی آبادی یعنی عربی النسل سوڈانیوں نے حکومت قائم کر لی کیونکہ پورے سوڈان پران کی حکومت قائم ہوئی تو غیر عربی النسل سوڈانی علاقے پر بھی انہی کی حکومت قائم ہوگئی۔ 
    اب اصلی سوڈانیوں نے رنگ اور نسل کی بنیاد پر عربی النسل سوڈانیوں کی حکومت کو ماننے سے انکار کردیا حالانکہ وہ بھی مسلمان تھے اور یہ بھی ۔ لیکن رنگ و نسل کا جب فرق آجاتا ہے تو پھر مسلمان اپنے امت مسلمہ کی وحدانیت کے تصور کو بھول جاتے ہیں ۔ یہی وجہ تھی کہ انہوں نے ان کے خلاف ہتھیار اٹھا لیے اور اپنے علاقے کو آزاد کرانے کی کوشش شروع کر دی۔ انہی لوگوں کو باغی بھی کہا جاتا ہے انہوں نے سوڈانی حکومت کو بے تحاشہ نقصان پہنچایا اور پھر بدلے میں سوڈانی حکومت نے بھی ان پر بہت زیادہ ظلم و ستم ڈھائے۔ مگر جب یہ سوڈانی حکومت کی گرفت سے باہر ہوگئے تو سوڈانی حکومت نے ان پر قابو کرنے کے لیے ان کے علاقوں میں رہنے والے عربی النسل سوڈانیوں کو تیار کرنا شروع کر دیا جنہوں نے ان کے خلاف ہتھیار اٹھائے اور حکومت نے انہیں ہتھیار مہیا کیے۔
    بہرحال یہ لڑائی بڑھتی رہی اور عربی النسل سوڈانیوں کے کمانڈر جنہیں جنرل حمیدتی کے نام سے جانا جاتا ہے انہوں نے بہت زیادہ طاقت حاصل کرلی اور بالآخر انہوں نے سوڈانی صدر کو ہی عہدے سے فارغ کر دیا اس کے بعد سرکاری فوج کے جنرل کے خلاف بھی محاذ آرائی شروع کر دی کیونکہ وہ اقتدار پر قابض ہونا چاہتے ہیں لیکن سرکاری فوج کے کمانڈر جنرل الفتح برہان ان کی راہ میں رکاوٹ ہیںلہٰذا جنرل حمیدتی نے جنرل برہان کے خلاف بھی محاذ شروع کر دیا ۔ اب موجودہ وقت میں دونوں جنرلوں کے درمیان اقتدار کے حصول کے لیے رسہ کشی جاری ہے اور دونوں ایک دوسرے کی حکومت ماننے سے انکاری ہیں اور اپنے اپنے عہدوں سے دستبردار ہونے پر بھی آمادہ نہیں ہیں۔ اس کا خمیازہ سوڈان کے عوام بھگت رہے ہیں سوڈان میں اس وقت شدید لڑائی جاری ہے جو گلیوں اور محلوں تک پہنچ چکی ہے لوگوں کے پاس کھانے پینے کی اشیاء تک موجود نہیں ہے لوگ علاج معالجے سے محروم ہیں۔ سینکڑوں افراد مارے جا چکے ہیں ہزاروں افراد زخمی ہیں جبکہ لاکھوں افراد اپنے گھر بار چھوڑ کر ہجرت کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔
    سوڈان کے عوام کو ان دگرگوں حالات سے نکالنے کے لئے اسلامی ممالک کو آگے بڑھنا چاہیے اور دونوں جنرلوں کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرتے ہوئے جنگ بندی کرانی چاہیے کہ وہ بیٹھ کر اس مسئلے کا حل نکالیں۔ دونوں جنرلوں پر دباؤ ڈالیں کہ وہ افہام و تفہیم سے اختلافات کو ختم کریں اور ملک میں ایک نظام حکومت پر اتفاق کر کے اختیارات آپس میں تقسیم کر لیں۔ پوری دنیا اس وقت سوڈان کا تماشا دیکھ رہی ہے اور امت مسلمہ کا سر شرم سے جھک رہا ہے ۔ اگر اسلامی ممالک اس وقت بھی ثالثی کے لئے آگے نہ بڑھے تو بے تحاشہ نقصان کا اندیشہ ہے۔

بشکریہ اردو کالمز