سردار خالد ابراہیم ۔۔۔۔زیارت گاہِ اہل 143

سردار خالد ابراہیم ۔۔۔۔زیارت گاہِ اہل

قومی حمیت اور غیرت یہ انتہائی کتابی لفظ ہیں مگر ان کا مقام تخلیق انسان کے مقاصد کا اصل ھے ، اسی طرح درویشی محض ایک پھٹا پرانا کرتا پہننے کا نام بن گیا ، قانون کو دور کہیں غریبوں کی بستی میں چھوڑ دیا گیا تاکہ ضرورت پڑنے پر وہیں استعمال کیا جائے ، جمہوریت صرف طاقت اور اختیار حاصل کرنے کے لیے امیروں کا دھندا بن گیا ، شخصی اور اجتماعی اوصاف کو دانشوروں کے تکیے کے نیچے چھپا دیا گیا ہے تاکہ کوئی دیکھ نہ لے ، سر سید احمد خان نے کہا تھا کہ اصل غلام وہ نہیں جو کسی آقا نے قید رکھا ھو بلکہ اصل غلام وہ ھے ، جو خود غرض ، لالچی اور قومی ترقی سے بے پروا ھو ، کشمیر آج انہی غلاموں کی سیاست اور کردار کا غلام زیادہ اور دوسروں کا غلام کم ھے ، یہ اتنا بڑا خلا ھے کہ جسے پر کرنے کے لیے ایسے ایسے شعبدہ باز آگے آ چکے ہیں کہ الامین الحفیظ ۔ اسی نگری میں دو درویش صفت انسان تھے ایک نے سیاسی تربیت قائد اعظم سے حاصل کی اور دوسرے نے اپنے والد کا فیص پایا گویا یہ کہ۔ یہ فیضان نظر تھا کہ مکتب کی کرامت تھی سکھائے کس نے اسماعیل کو آداب فرزندی ،؟ سردار خالد ابراہیم خان نے جس نے تربیت اپنے درویش صفت والد سے حاصل کی اور یہ فیض حاصل کیا ، دوسرے درویش جناب کے ایچ خورشید مرحوم تھے جنہوں نے سیاسی تربیت قائد اعظم محمد علی جناح سے پائی تھی دونوں سیاست ، خوداری اور قومی حمیت میں امر ھو گئے ، آپ اندازہ کریں ایک لبریشن لیگ کا سربراہ ایک عام پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرتے ہوئے حادثے میں جاں دے دے اور اس کی جیب سے فقط کل سرمایہ 36 روپے نکلے ، کیا درویشی ھوگی ، اور وہ چاہتے تو کیا نہیں کر سکتے تھے ، اس درویشی کے لیے سردار خالد ابراہیم خان مرحوم نے دولت ، موروثی سرمائے اور سیاسی مفادات کی آسانی کو ٹھکرا مار دی وہ جو باتیں ھم کتابوں میں پڑھتے تھے خالد ابراہیم نے عمل میں لا کر دکھائیں ، ان کے اصولوں پر سمجھوتہ نہ کرنے کے عمل پر لوگوں نے بہت تنقید کی مگر میں نے اسلام آباد میں رہتے ہوئے درویشی اور سیاسی جدوجہد کو قریب سے دیکھا ، ان کی دولت ، کوٹھیوں ، گاڑیوں اور روپے پیسے سے کئی گنا بڑی تھی ، بقول اقبال ، متاعِ بے بہا ھے درد و سوز آرزو مندی مقام بندگی دے کر نہ لوں شانِ خداوندی سردار خالد ابراہیم مقام بندگی کے جس معیار پر فائز تھے وہاں شان خداوندی سے بھی گریزاں ھونا پڑتا ہے ، جو سوز و گداز اور عروج و کمال سجدہ ریزی میں ھے وہ خدا وندی میں نہیں خودی اور خدا کی ذات کی پہچان کا یہ سفر بڑا کٹھن مگر عظیم ھے جہاں انسان زماں و مکاں کا غلام نہیں رہتا بلکہ حق پرست ھو کر دنیا و مافیہا سے آزادی حاصل کر لیتا ہے ، سردار خالد ابراہیم خان انہی آزاد بندوں میں شامل تھے ، اگرچیکہ وہ غازی ملت سردار ابراہیم خان کے گھر پیدا ہوئے تھے مگر خالد ابراہیم اپنے منصب ، اصول اور درویشی کا اکیلا مسافر تھا ، " تیرے آزاد بندوں کی نہ یہ دنیا نہ وہ دنیا " ایسا آزاد منش آدمی پوری قوم کے لیے ایک رہنما ھے ، آج کشمیر میں سب سے بڑا مسئلہ قیادت کا بحران ھے ، لیڈر بہت مگر سردار خالد ابراہیم ، کے ایچ خورشید کوئی نہیں جو حق کی بات کرے ، کشمیری عوام کی قیادت کر سکے ، یہاں تک کہ آج ڈاکٹر فاروق عبداللہ ، اور انڈین نواز سیاست دان سب یہ کہتے ہیں کہ آج ایک جناح ھوتا تو کشمیر کے ساتھ یہ ظلم نہ ھوتا ، سردار خالد ابراہیم خان 5 نومبر 1947ء کو راولاکوٹ کے نواحی قصبے کوٹ متے خان میں پیدا ہوئے 70ء کی دہائی میں سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لیا تاہم پیپلز پارٹی سے اختلاف کی وجہ سے 1990ء میں نئی جماعت بنائی اور رکن اسمبلی منتخب ہوئے ، اس سارے عرصے میں اسمبلی ، سیاست اور قیادت میں ذرا بھی جھول نہیں آنے دیا ، انصاف ، آزادی اور حقوق کے لیے آواز اٹھائی اپنا سارا مفاد قربان کر کے اصول ، قانون ، انصاف اور حریت کو زندہ رکھا ، مفادات کے لیے کبھی سمجھوتہ نہیں کیا ، میری پہلی ملاقات ان سے سردار شہزاد حسرت ایڈووکیٹ کے جنازے پہ ھوئی تھی ، دوسری ملاقات سال بعد ان کی برسی پر ،البتہ اسلام آباد میں ان کو قریب سے سمجھنے کا موقع ملا ، میں نے ایسا درویش صفت انسان اور خصوصاً سیاستدان نہیں دیکھا ، ان کا خلا شاید کوئی پر نہ کر سکے ، لیکن خالد ابراہیم خان کے اصول ، قانون کی پاسداری اور انصاف کے لیے جدوجہد ہر شخص کے لیے مشعل راہ ہے ، زیارت گاہِ اہل عزم و ہمت ھے لحد میری کہ خاک راہ کو میں نے بتایا راز الوندی انہوں نے قوم کو عروج کا راز بتا دیا ، اور یہی راز انسانی تخلیق کا اصل مقصد ھے ، سردار خالد ابراہیم خان 4 نومبر 2018ء کو اپنے خالق حقیقی سے جا ملے اور لاکھوں افراد کو سوگوار چھوڑ گئے ،

بشکریہ اردو کالمز