پنجاب میں سپرنٹنڈنٹ جیل مدثر خان کی قائدانہ صلاحیتوں کا اعتراف کرنا ہی ایک فرض شناس پولیس آفیسر کے شایان شان ہیعرصہ پہلے لیہ میں ان سے ہونے والی ملاقات میں یہ بات واضح ہوگئی تھی کہ ان کے اندر قائدانہ صلاحیتیں موجود ہیں۔انسانی زندگی کا اصل تقاضا تو یہ ہے کہ وہ امن وعافیت سے گزرے،ا صلاح وفلاح غالب ہوں اور نیکیاں رواج پائیں لیکن کیا کیا جائے انسان کے شرور نفسی کہ وہ موقع بموقع بے لگام ہوتے ہیں اور امن وسلامتی کو تباہ کر دیتے ہیں۔ جرم وسزا کی تاریخ بڑی پرانی ہے۔ جب سے انسان نے شعور کی آنکھ کھولی، جزاوسزا کا دنیوی تصور بھی پیدا ہوگیا۔ اچھے کام پر انعام سے نوازا جانے لگا اور برے کاموں پر سزا دی جانے لگی۔بالعموم ہر طرح کے ملزموں کو قبل از عدالتی کارروائی بھی جیل میں رکھا جاتا ہے جن میں ہر عمر کے لوگ ہوتے ہیں۔ بچے بھی، جوان بھی، اور بوڑھے بھی۔ بالکل کچی عمر کے بچے جن کے حصول تعلیم اور کھیل کود کے دن ہوتے ہیں، جیلوں میں جاکر مکاریاں، دغابازیاں، جرم کوشیاں اور بدکردار یاں سیکھ جاتے ہیں۔مدثر خان کا یہ کارنامہ سنہری حروف میں لکھا جائے گا کہ انہوں نے اپنی تعیناتی کے دوران ڈسٹرکٹ جیل لیہ میں ان نوعمر قیدیوں کیلئے تعلیم کے حصول کی خاطر اپنی بھر پور کاوشیں کرکے ایک سکول کا قیام ممکن بنایا جہاں ان قیدیوں کو کتابیں و تعلیم کی دیگر ضروریات کی اشیا مفت فراہم کی گئیں، مدثر خان جہاں بھی گئے داستان چھوڑ آئے اورقیدیوں کی اصلاح کے ضمن میں اپنی تمام کوششیں کرکے انہیں جرائم سے نفرت دلائی،لیہ سے پاکپتن ان کا تبادلہ ہوا تو انہوں نے پاکپتن جیل میں بھی انقلابی اصلاحات کیں،مدثر احمد خان کا ہمیشہ سے موقف رہا ہے جس کا وہ برملا اظہار کرتے ہیں کہ قیدیوں کی اصلاح اور تربیت کا اہتمام کر کے اور ان کے ذہنوں میں جرائم سے نفرت پیدا کر کے انہیں شریف اور فرض شناس شہری کی حیثیت سے اپنے فرائض سرانجام دینے کے لئے تیار کیا جا سکتا ہے، انہیں مختلف ہنر سکھانے کی طرف بھی توجہ دینی چاہیے تاکہ رہائی کے بعد پوری خود اعتمادی کے ساتھ شریفانہ زندگی کا آ غاز کر سکیں، مروجہ قوانین پر عمل درآ مد میں سست روی اور ان قوانین میں پائی جانے والی پیچیدگی کے باعث لا تعداد لوگ مقدمات کے فیصلوں کے انتظار میں طویل عرصہ حوالاتی کی حیثیت سے جیل میں بلا وجہ محبوس رہتے ہیں۔
میری جستجو کا دائرہ محدود تھا کہ میرے پاس نہ زیادہ وسائل ہیں، نہ فرصت، نہ میں کسی دانشگاہ سے وابستہ ہوں، نہ آس پاس کسی کتب خانہ کا ذخیرہ ہے، اس کے علاوہ ہم جیسوں کی ساری توانائی تو دفتری اور گھریلوتناؤہی میں ختم ہوجاتی ہے۔ ایسے میں کیسی جستجو، کہاں کا ذوق و شوق۔۔۔ پھر بھی جب میں نے اس عنوان کے تحت چیزیں تلاش کرنی شروع کیں تومحسوس ہوا کہ مختلف میدانوں میں پولیس کی خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ ہرایک میدان میں پولیس محکمہ سے جڑی ہوئی شخصیتوں نے اپنے تخلیقی اور تنقیدی جوہر دکھائے ہیں اور معاشرہ کو یہ محسوس کرنے پر مجبور کیا ہے کہ ان کا منصبی فرض کچھ بھی ہو مگر ان کی رگوں میں تخلیقیت رواں دواں ہے۔ ان کا حساس ذہن سماجی، سیاسی اور ثقافتی مسائل کے ادراک میں کامیاب ہے۔ ان کے باطن میں احساس کا ارتعاش ہے۔ ا ن کے اندر بھی جذبات کا دریا موجزن ہے۔
بطور سپرنٹنڈنٹ جیل مدثر خان کی طویل سروس کا حصہ شاندار اور خدمت سے مزین ہے جنہوں نے ایمانداری اور فرض شناسی سے فرائض انجام دیتے ہوئے محکمہ جیل خانہ جات کی عزت وتوقیر میں اضافہ کیا ان کی خدمات کوہر پاکستانی قدر کی نگاہ سے دیکھتاہے، ڈیوٹی کو انتہائی تندہی اور ایمانداری سے انجام دینا عبادت سے کم نہیں‘ افسران اور ملازمین کو دوران ملازمت نشیب فراز آتے رہتے ہیں‘ جوانمردی اور لگن سے محکمانہ فرائض انجام دینے والے ہمیشہ کامیاب و کامران اورسرخرو ہوتے ہیں۔ایماندار اور خدمت کرنے والے اللہ تعالی کے حضور عظیم ہوتے ہیں۔مدثر خان جہاں بھی گئے انہوں نے اپنے فرائض منصبی انتہائی فرض شناسی‘ خوشی اسلوبی اور احسن انداز میں انجام دئیے۔ایسے فرض شناس اور محنتی افسران اور ملازمین دیگر سٹاف کے لئے مشعل راہ ہوتے ہیں
یہ سوال ازل سے انسانوں کے ذہنوں میں گونجتا ہے کہ سماج کا توازن بگاڑنے والوں اور معاشرے کے وضع کردہ قوانین کو پامال کرنے والوں کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے؟ یہ سوال ہر دور اور ہر زمانے میں اربابِ بست و کشاد کے لئے دردِ سر بنا رہا ہے اور اس کا جواب تلاش کرنے کے عمل کو اہمیت دی جاتی رہی ہے،لمبے اور طویل سوچ بچار کے بعد یہ طے پایا کہ ملکی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو قید کر دیا جانا چاہئے،اس کے پیچھے جواز یہ تھا کہ قانون توڑنے والوں کو ایک جگہ محدود اور پابند رکھ کر ایک تو انہیں آ زادی کا احساس دلایا جائے اور دوسرا یہ کہ وہ تنہا رہ کر سوچ بچار کریں اور خود کو معاشرے کا اچھا رکن بنانے پر توجہ دیں، سوچا گیا کہ اس طرح سماجی بگاڑ دور ہو سکے گا اور معاشرتی توازن کو برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔
306