سکولوں میں فحاشی کا فروغ 419

سکولوں میں فحاشی کا فروغ

چند روز قبل ہمارے قریب ایک چھوٹے سے پرائیویٹ سکول میں رزلٹ فنکشن ہوا ۔ رزلٹ فنکشن کیا تھا اس میں سارا دن ناچ گانا چلتا رہا ہے معصوم بچوں کو نہایت بے دردی سے گانوں پر رقص کرایا جاتا رہا۔ سارا دن محلے کی فضاؤں میں میوزک اور گانوں کی آوازیں گونجتی رہیں جس سے محلے کی فضا ناپاک ہوتی رہی ۔ بہت سے لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو گانا نہیں سنتے ، نہ ہی اسے پسند کرتے ہیں کیونکہ شریعت مطہرہ نے گانے بجانے کو حرام قرار دیا ہے۔ اس لیے بہت سے لوگ گانے گانے اور سننے سے احتراز کرتے ہیں لیکن اس طرح کے ماحول میں جب بلند آواز سے گانے چل رہے ہوں اور پورے محلے میں ان کی آواز یں سنائی دے رہی ہوں تو ان لوگوں کا بچنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ چھوٹے چھوٹے سکولوں میں ثقافت کے نام پر بے حیائی اور ناچ گانے کے کلچر کو فروغ دیا جارہا ہے ان سکولوں کی کارکردگی اور کچھ نہیں ہوتی صرف اتنا ہی کہ وہ بچوں کو دو چار انگریزی نظمیں سکھا دیتے ہیں اور رزلٹ کے نام پر پروگرام میں پورے محلے میں ہلا گلا مچاتے ہیں ، ان کا رزلٹ بھی کیا ہوتا ہے کلاس میں کل چھ بجے ہوتے ہیں جن میں سے تین کو پہلی پوزیشن ، دو کودوسری اور ایک بچے کو تیسری پوزیشن دے دی جاتی ہے اس طرح پورا محلہ خوشی سے جھوم رہا ہوتا ہے اور ہر بچے کے ہاتھ میں ٹرافی اور انعامات ہوتے ہیں۔ ایسے سکولوں کی انتظامیہ کا یہ خیال ہوتا ہے کہ موجودہ دور میں اسکولوں کو اسی طرح چلایا جا سکتا ہے اور اس طرح سکول کی کارکردگی لوگوں کے سامنے بہتر طریقے سے پیش کی جا سکتی ہے مگر حقیقت میں ایسا ہرگز نہیں ہے کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے سکول ایسے بھی ہیں جن کی کارکردگی نہایت تسلی بخش ہے جن نتائج بھی بہت بہترین ہیں اور وہ اسلامی طریقوں پر چل رہے ہیں۔ ان میں ناچ گانے کے کلچر کو فروغ نہیں دیا جاتا بلکہ بچوں کو بہت سی بہترین چیزیں سکھائی جاتی ہیں ، دینی تعلیمات دی جاتی ہیں ، اس کے ساتھ ساتھ بچوں کو عصری تعلیم بھی نہایت عمدہ طریقے سے دی جاتی ہے۔ ویسے تو علاقائی سطح پر کئی سکول اس طرح کے موجود ہیں لیکن جو ملکی سطح پر اس نے بڑا نام ہے وہ دارارقم سکول کا ہے جس کی مثال پیش کی جاسکتی ہے کہ وہاں پر اس قسم کے کلچر کو فروغ نہیں دیا جاتا اور وہ ایک برینڈ ہے اور ملک کے بڑے تعلیمی اداروں میں اس کا ایک نام ہے۔ اسی طرح اقراء اسکول ہیں ، ان کے علاوہ بھی چند ایک سکول ایسے ہیں جو اسلامی طریقے سے چل رہے ہیں اور وہاں پر ناچ گانے کو فروغ دینے کی بجائے اسلامی تعلیمات کی طرف بچوں کی توجہ مرکوز رکھی جاتی ہے اور وہ سکول بھی انتہائی کامیابی سے چل رہے ہیں۔ مگر جو سکول اچھی تعلیم دینے میں ناکام رہتے ہیں وہ اس قسم کے کلچر کو فروغ دے کر اور محلے کے اندر شور شرابہ برپا کر کے لوگوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرانے کی کوشش کرتے ہیں۔ جب بچپن سے ہی بچوں کو ناچ گانے پر لگا دیا جاتا ہے تو بڑے ہو کر بھی ان کے دلوں سے اس کی نفرت نہیں رہتی اور وہ فخر سے ناچتے گاتے ہیں۔ جیسا کہ آج کل ہم سوشل میڈیا بالخصوص ٹک ٹاک وغیرہ پر دیکھ رہے ہیں۔ پھر ہمارے ہاں دین سے دوری کی وجہ سے ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ یہاں عام ڈراموں اور فلموں میں ہونے والے ناچ گانے یا رومانوی مناظر کو فحاشی نہیں سمجھا جاتا ۔ میں نے اپنے ایم فل کے مقالہ میں اس پر گفتگو کی ہے جس کا کچھ حصہ یہاں پیش کرتا ہوں۔ ''جیسا کہ گزشتہ فصول میں تفصیل سے اس بات کی وضاحت ہو چکی ہے کہ فحاشی و عریانی کو اسلام نے کس قدر ناپسند کیا ہے۔ اسی طرح فحش اشتہارات بھی ناجائز و حرام ہیں لیکن مزید وضاحت سے قبل اس بات کا تعین ضروری ہے کہ شریعت کی نظر میں فحاشی کسے کہا جاتاہے۔ کیونکہ عام طور پر معاشرے میں فحاشی یا فحش فلمیں و فحش اشتہارات انہیں سمجھا جاتا ہے جن میں مکمل برہنہ عورت اور مرد کے جنسی تعلقات کے مناظر دکھائے گئے ہوں۔ ان کے علاوہ عام فلمیں جن میں بے پردگی اور عریانی ہوتی ہے۔ مرد و خواتین کا باہم اختلاط اور بوس کنار کے مناظر ہوتے ہیں انہیں فحش فلمیں یا فحش اشتہارات نہیں سمجھا جاتا۔ حالانکہ شریعت کی نظر میں یہ بھی فحاشی کے زمرے میں آتاہے۔ جیسا کہ رسول اللہ ۖ نے ارشاد فرمایا:جہنمیوں کی دو قسمیں ہیں جن کو میں نے نہیں دیکھا۔ ایک تو وہ لوگ جن کے پاس بیلوں کی دموں کی طرح کے کوڑے ہیں، وہ لوگوں کو اس سے مارتے ہیں دوسرے وہ عورتیں جو (کپڑے)پہنتی ہیں مگر ننگی ہیں، سیدھی راہ سے بہکانے والی، خود بہکنے والی اور ان کے سر بختی (اونٹ کی ایک قسم) اونٹ کی کوہان کی طرح ایک طرف جھکے ہوئے وہ جنت میں نہ جائیں گی بلکہ اس کی خوشبو بھی ان کو نہ ملے گی حالانکہ جنت کی خوشبو اتنی مسافت سے آ رہی ہو گی،(صحیح مسلم: 2128)۔ ہمارے ہاں عام فلموں اور اشتہارات میں اسی طرح کی خواتین دکھائی جاتی ہیں جن کے لباس یا تو آدھے ہوتے ہیں یا اتنے باریک اور چست ہوتے ہیں کہ وہ لباس کے ہوتے ہوئے بھی ننگی محسوس ہوتی ہیں۔ مذکورہ بالا روایت میں ایسی ہی خواتین کے لیے وعید وارد ہوئی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ عام فلمیں اور اشتہارات بھی شریعت کی نظر میں فحاشی کے زمرے میں آتے ہیں۔ '' لہذا تعلیمی اداروں کو چاہئے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں ان کی ذمہ داری بچوں کے اندر اخلاقیات کو فروغ دینا انہیں اچھی تعلیم دینا اور تعلیم کے ساتھ ساتھ اچھی تربیت دینا ہے ۔ انہیں اپنی تہذیب و ثقافت کے ساتھ جوڑے رکھنا اور اسلامی تعلیمات کے مطابق انہیں زندگی گزارنے کے طریقے سے سکھانا تعلیمی اداروں کا اہم فریضہ ہے ۔ اگر وہ ان ذمہ داریوں کو پورا نہیں کر رہے تو وہ بری طرح ناکام ہیں اور قیامت کے دن ان سے ان کی ان ذمہ داریوں کے بارے میں سخت پوچھ ہوگی۔ اس لیے تعلیمی ادارے بچوں کو بے راہ روی سے بچا کر ان کی تربیت اور اچھے اخلاق پر خصوصی توجہ دیں ، تعلیمی اداروں کو محض کاروبار بنانے کی بجائے معاشرے کی اصلاح کا ذریعہ بنائیں ۔ اس طرح کاروبار بھی چلتا رہے گا اور عبادت کا ثواب بھی ملتا رہے گا۔

بشکریہ اردو کالمز