ریاست کے بڑوں کو مشورہ 381

ریاست کے بڑوں کو مشورہ

اس خطے کی ہمیشہ یہ بد قسمتی رہی کہ بڑوں کی انا کا شکار رہا جس کی وجہ سے یہاں مسائل جنم لیتے رہے عام آدمی غربت کی چکی میں پستا رہا کبھی اسے حالات کے رحم و کرم پر چھوڑا دیا گیا کبھی اس کے جزبات سے کیھلا گیا کبھی اسے خواب دکھائے گئے جس طرح آج سے کچھ برس پہلے خوابوں کا ایک لامتناہی سلسلہ جزباتی افراد میں فروخت کیا گیا کچھ افراد جزبات میں آکر اپنی کمان کچھ ناتجرکار وں کے ہاتھوں میں دے بیھٹے آج وہ جزباتی افراد منہ چھپائے پھرتے ہیں یہ تو ہے قوم کے جزباتی افراد کی حالت -اب میں ریاست کے بڑوں کو مخاطب کرنے سے پہلے تاریخی حقائق ان کی خدمت میں پیش کروں گا کیوں کہ تاریخ ہمیشہ اپنے آپ کو دہراتی ہے مغل سلطنت کی بنیاد رکھنے والے بابر کو معلوم تھا کہ اس کا اکلوتا بیٹا ہمایوں اس قابل نہیں کہ وہ صییح معنوں میں ریاستی امور چلا پائے مگر بیٹے کی محبت کے ہاتھوں مجبور ہوگیا پھر شیر شاہ سوری نے اس کی جو درگت بنائی وہ اپنی مثال آپ ہے اگر اس وقت مغل باد شاہ بابر اہلیت کی بنیاد فیصلہ کرتا تو ہمایوں کو کبھی بھی اپنے بعد اقتدار منتقل نہ کرتا ہمایوں اپنی نااہلی کی وجہ سے شیر شاہ سوری سے شکست کھا گیا شیر شاہ سوری ایک کامیاب حکمران ٹھہرا اس وقت بھی مسلہ انا کا تھا کہ بیٹے کی بجائے اقتدار کی کمان کسی اور کے پاس کیوں جائے اور بابر کے بیٹے ہمایوں کی نا اہلی نے ایک اہل حکمران پیدا کیا مسلہ آج بھی بڑوں کی انا کا ہے ورنہ ہمایوں کی طرح آج بھی نااہلی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں روزانہ ایک لشکر مایوس چہروں کی شکل میں نمودار ہوتا ہے وہ اپنی آپ بیتی سنا کے ڈھلتے سورج کی طرح غروب ہو جاتا ہے ان کی باتوں میں صداقت تو دور جھوٹ بھی با مروت انداز میں بولتے ہیں جو سوائے انسانیت کی تذلیل کے اور کچھ نہیں آج بھی اسی طرح عام آدمی کی زندگی میں بے چینی ہے جس طرح اورنگزیب عالم گیر کی وفات کے بعد محل میں اقتدار کی جنگ جاری تھی بڑے انا کی جنگ لڑ رہے تھے اور عام آدمی مسائل کی جنگ لڑ رہا تھا -خیر بڑے کوئی بڑوں والی بیھٹک لگائیں تاریخی حقائق سامنے رکھتے ہوئے ملکی مفاد کے فیصلے کریں یہ ملک سب کا ہے سب بڑے شراکت دار ایک پیج پر آئیں سب کی سنیں اس بار فیصلہ اوپن ہوناچائیںے جس سے سب کو اپنائیت کا احساس ہو آج کی دوری بہت کچھ دور کر رہی ہے سب دوری کو ختم کرنے کے لیے بڑے ظرف کا مظاہرہ کریں یہ قوم مزید تجربے کی متحمل نہیں ہو سکتی خدا را اب اس قوم کی حالت کو بدلہ جائے انا پرست مخصوص طبقہ مسلط نہ کیا جائے یہ بڑوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ مل بیھٹیں ملکی مفاد سے بڑھ کر کوئی چیز زیادہ مقدم نہیں -دنیا کی ترقی یافتہ اقوام کی مثالیں روشنی کی لہروں کا کام کر رہی ہیں آپ گزشتہ پچاس برس کا جائزہ لیں تو آج جو قومیں معاشی طور پر ابھر کر سامنے آئی ہیں انہوں نے اپنے مفاد کی بجائے ملکی مفاد کو اہمیت دی اور ملکی وقار پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا آج ہمیں اپنے مفاد کی بجائے ملکی مفاد کو دیکھنا ہوگا ملکی مفاد اس میں ہے کہ دو قدم آگے چل کر سب کو خوش آمدید کہیں یہ پہل صاحب اقتدار کو کرنا ہوگی-سیاسی نمائندوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ بڑے ظرف کا مظاہرہ کریں نہ کہ آپس کی لڑائی میں ملکی اقدار اور اس خطے کی روایات کو پامال کریں عام آدمی کے مسائل کی بات ہونی چائیے ملک میں پسے ہوئے طبقے کی بہتری پر بات ہونی چائیے- سیاسی نمائندے ماضی طرح آج کل مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے سارا دن پریس کانفرنسز کرتے رہتے ہیں انہیں تو بڑے ظرف کا مالک ہونا چائیے تھا ایک زمانہ تھا ڈاکو بھی اعلیٰ ظرف ہوا کرتے تھے۔ ایک مارننگ پروگرام میں بیگم بلقیس ایدھی سے سوال کیا گیا کے اپنی زندگی کا کوئی دلچسپ واقعہ سنائیں ؟بلقیس ایدھی نے ہنستے ہوئے بتایا کے ایک دفع وہ اور ایدھی صاحب ایک پرائیویٹ کار پر سکھر جا رہے تھے ایک شادی پر رات کا وقت تھا اندرون سندھ سے گزرتے ہوئے ایک مقام پر کچھ ڈاکو راستے میں آ گئے اور ہماری گاڑی روڈ سے اتار کر کچے میں لے گئے وہاں پہلے سے کچھ گاڑیاں کھڑیں تھیں اور ڈاکو لوٹ مار میں مصروف تھے...تھوڑی دیر میں ایک ڈاکو ہماری طرف آیا اور ڈرائیور اور ایدھی صاحب کو باہر نکلنے کا کہا ان دونوں کی تلاشی لی اور جیب خالی کرا لی۔اچانک اس ڈاکو کی نظر ایدھی صاحب پر پڑی اور غور سے ان کو دیکھنے کے بعد ایک ڈاکو جلدی سے ایک جانب کھڑی جیپ کی طرف گیا اور ایک شخص کے ساتھ جلدی واپس آ گیا ۔اس شخص نے ٹارچ کی روشنی ایدھی صاحب کے چہرے پر ڈالی اور پوچھا آپ عبدالستار ایدھی ہیں جواب ہاں پر ملا تو وہ ڈاکو کا سردار ایک دم پریشان ہو گیا۔فوری حکم ہوا کہ تمام گاڑیاں جن سے لوٹ مار کی گئیں ہیں ان کو مال واپس کیا جا ئے اور باقاعدہ طور پر وہ شخص ایدھی صاحب کے ہاتھ چوم کر معافی مانگنے لگا۔مزید حیرت کی بات یہ ہوئی کے جب وہ ڈاکو ہمیں رخصت کرنے لگا تو 20 لاکھ روپے بطور چندہ ایدھی صاحب کے حوالے کیا ایدھی صاحب کے انکار پر بولا سر جب میرے جیسے گنہگار پولیس مقابلے میں مارے جاتے ہیں تو ہمارا کوئی رشتے دار ہماری لاش تک نہیں وصول کرتا اور ایدھی ہی ہماری لاش کو کفن دیتا ہے اور دفناتا ہے۔ایک زمانہ تھا ڈاکو بھی اعلیٰ ظرف ہوا کرتے تھے۔

بشکریہ اردو کالمز