رمضان سب کو مبارک ہو 131

رمضان سب کو مبارک ہو

ماہ مقدس کاآج سے آغازہوچکا۔رمضان المبارک یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے مسلمانوں کے لئے وہ عظیم تحفہ اورنعمت ہے جس میں شروع سے لیکرآخرتک انوارات وبرکات کی بارش ہوتی ہے۔اس مبارک مہینے میں نہ صرف شیاطین قیدکردئیے جاتے ہیں بلکہ اس ماہ میں پروردگارعالم کی طرف سے اپنے بندوں کے لئے ہرجانی ومالی عبادت کااجربھی دوگناکردیاجاتاہے۔اس لئے باہرکی دنیامیں جب بھی رمضان کانادرموقع اوربابرکت مہینہ آتاہے توتمام کلمہ گومسلمان اس مبارک مہینے کی خصوصی تیاریاں شروع کردیتے ہیں اوراکثرمسلمان پھر اس مبارک مہینے کوصرف اورصرف عبادات اوراللہ کی رضاحاصل کرنے کے لئے خاص کردیتے ہیں مگرافسوس ہمارے ہاں ایسانہیں ہوتا۔یہاں جب بھی رمضان کامہینہ آتاہے توہمارے ہاں انسانیت کے لبادے میں چھپے شیطان فوراًکھل جاتے ہیں۔اللہ سے ڈرنے اورقیامت وآخرت کی فکرکرنے والے مسلمان تواس کوشش میں لگ جاتے ہیں کہ کس طرح زیادہ سے زیادہ ثواب کماکرآخرت کی تیاری کی جائے لیکن یہ شیطانی صفت والی مخلوق رمضان کانام سنتے ہی گرانفروشی،ذخیرہ اندوزی اورلوٹ مارکے ایسے ایسے طریقے ڈھونڈنکالتی ہے کہ اللہ کی پناہ۔اس مخلوق کی فکر،سوچ اورکوشش پھریہ ہوتی ہے کہ کس طرح سوروپے کی چیزپانچ سواورپانچ سوروپے کی شئے ہزار میں بیچ کراللہ کی مخلوق کودونوں ہاتھوں سے لوٹاجائے۔یہی وجہ ہے کہ جب بھی رمضان المبارک کامقدس مہینہ آتاہے تواس ملک اورمعاشرے میں مصنوعی مہنگائی اورگرانفروشی کے سابقہ تمام ریکارڈیکدم ٹوٹ جاتے ہیں۔باہرکی دنیامیں جس طرح رمضان المبارک میں زیادہ سے زیادہ عبادات،ذکرواذکارکرنے اورثواب کمانے کی تیاریاں شروع ہوتی ہیں اس سے بڑھ کر رمضان کی تیاریاں ہمارے ہاں بھی ہوتی ہے لیکن ہماری تیاریوں اورباہرکی دنیاکے مسلمانوں کی تیاریوں میں زمین وآسمان کافرق ہوتاہے۔باہرکی دنیامیں تیاریاں رمضان المبارک کے اندرزیادہ سے زیادہ عبادات اورثواب کمانے کے لئے ہوتی ہیں مگرہمارے ہاں یہ تیاریاں اللہ کی بے زبان مخلوق اورغریب روزہ داروں کوزیادہ سے زیادہ لوٹنے کے لئے ہوتی ہیں۔یہاں کے بازاروں،مارکیٹوں اوردکانوں میں تورمضان المبارک کے اندرروزہ داروں کوزیادہ سے زیادہ لوٹنے کے مقابلے ہوتے ہیں۔بازاروں میں بیٹھے ہرشخص اورفردکی یہ کوشش ہوتی ہے کہ کس طرح دوسرے تاجراوردکاندارسے بڑھ کروہ پاؤآٹا،سبزی اورپکوڑے لینے کے لئے آنے والے روزہ دارکولوٹے۔رمضان المبارک پچھلے گیارہ مہینوں کے گناہ دھونے،مٹانے اورآخرت کی تیاری کرنے کامہینہ اورموقع ہے لیکن افسوس ہم نے اس مہینے اوراہم موقع کولوٹ مارکاذریعہ سمجھ لیاہے۔ہم یہ سمجھ رہے ہیں کہ شائدرمضان المبارک لوگوں کوزیادہ سے زیادہ لوٹنے کامہینہ ہے مگرایساہرگزنہیں۔یہ تووہ عظیم اوربابرکت مہینہ ہے جس میں شروع سے لیکر آخرتک انوارات ہی انوارات اوربرکات ہوتی ہیں۔یہ لوٹ مار،دھوکہ وفراڈاورلڑائی وجھگڑوں کانہیں بلکہ یہ توصبر وشکرکا مہینہ ہے اوریہ سب جانتے ہیں کہ صبر وشکرکا بدلہ جنت ہے۔رمضان گرانفروشی اورذخیرہ اندوزی کانہیں بلکہ یہ ہمدردی اور خیرخواہی کا مہینہ ہے، اس میں مومن کا رزق بڑھا دیا جاتا ہے، اس میں نہ صرف روزہ رکھنے والے بلکہ روزہ افطار کرانے والوں کی بھی مغفرت، گناہوں کی بخشش اور جہنم سے آزادی کے پروانے کے علاوہ روزہ دار کے برابر ثواب دینے کاوعدہ ہے۔ چاہے وہ افطار ایک کھجور یا ایک گھونٹ پانی اورلسی سے ہی کیوں نہ کرائے۔ایک اوراہم بات جوروزہ دارکی افطاری کے حوالے سے ہے کہ اگرکوئی شخص روزہ دار کو پیٹ بھرکرکھانا کھلائے اورپلائے تو اللہ تعالیٰ اسے حوضِ کوثر سے ایسا پانی پلائیں گے جس کے بعد وہ جنت میں داخل ہونے تک پیاسا نہ ہوگا۔اللہ کے پیارے حبیبﷺنے فرمایاکہ جب رمضان آتا ہے تو آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں، اور ایک روایت میں ہے کہ جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں، دوزخ کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں اور شیاطین جکڑ دیئے جاتے ہیں اور ایک روایت میں بجائے ابواب جنت کے ابواب رحمت کھول دیئے جانے کا ذکر ہے۔جنت کے دروازوں کا کھلنا، دوزخ کے دروازوں کا بند ہونا اور شیطانوں کا قید ہونا اس مہینے کی آمد کی اطلاع اور اس کی عظمت اور حرمت وفضیلت کی وجہ سے ہے۔اس مبارک مہینے کا پہلا عشرہ رحمت، دوسرا مغفرت اور تیسرا جہنم سے آزادی کا ہے۔بلاکسی شک وشبہ کے رمضان المبارک اللہ پاک کی طرف سے اپنے بندوں کے لئے وہ عظیم نعمت اورتحفہ ہے کہ اس میں اگر ایک انسان کوشش کرے تو ایک رمضان سارے گناہ بخشوانے کے لئے کافی ہے۔ جو شخص رمضان کے روزے رکھے اور یہ یقین کرکے رکھے کہ اللہ تعالیٰ کے تمام وعدے سچے ہیں اور وہ تمام اعمالِ حسنہ کا بہترین بدلہ عطا فرمائے گاتوآپ یقین کریں وہ شخص کبھی بھی رمضان المبارک کے انوارات،برکات اورانعامات سے محروم نہیں ہوگا۔ یہ تواللہ کے آخری پیغمبرمحسن انسانیت حضرت محمدﷺنے بھی فرمایاکہ جو شخص ایمان کے ساتھ اور ثواب کی امید رکھتے ہوئے رمضان میں قیام کرے گا (یعنی تراویح اور نوافل وغیرہ پڑھے گا) اس کے پچھلے اور اگلے سب (صغیرہ) گناہ معاف کردیئے جائیں گے۔اسی وجہ سے تو کہا گیا کہ اگر لوگوں کو رمضان المبارک کی ساری فضیلتوں اور برکتوں کا پتہ چل جائے تووہ تمنائیں کریں کہ کاش۔سارا سال رمضان ہوجائے۔اس لئے ہم سب کورمضان المبارک کے اس اہم موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے آخرت کی فکروتیاری کرنی چاہئیے۔دنیاکے یہ کام اورلوٹ مارکے یہ دھندے سال کے گیاری مہینے ہم کرتے رہتے ہیں اب اگرایک مہینہ ان گناہوں کودھونے اورثواب کمانے کے لئے ملتاہے تواس کوضائع کرنابہت بڑی بدبختی اوربدقسمتی ہوگی۔اسی لئے توکہاگیاہے کہ رمضان میں بھی اگرکوئی شخص اپنے گناہوں،غلطیوں اورلغزشوں کی بخشش نہ کروائے توروئے زمین پراس سے بڑابدبخت اوربدقسمت اورکوئی نہیں۔روزہ داروں کولوٹنے کے لئے ہمیں آپس میں گرانفروشی،ذخیرہ اندوزی،جھوٹ،فریب اوردھوکہ دہی کے مقابلے کرنے کے بجائے عبادات میں ایک دوسرے کامقابلہ کرناچاہئیے تاکہ ہم حقیقی معنوں میں رمضان المبارک کے انوارات وبرکات سے مستفیدہوسکیں۔اس رمضان میں بھی اگرہم اپنے غفورورحیم رب سے اپنے گناہوں،جرائم اورغلطیوں کی بخشش نہ کرواسکیں توہم سے بڑے بدقسمت اورکوئی نہیں ہونگے۔ اللہ کرے کہ یہ رمضان ہم سب کے لئے ہرلحاظ سے مبارک بہت مبارک ہو۔آمین

بشکریہ اردو کالمز