میں اپنے دو دوستوں کے ساتھ عرفات کے میدان میں کھڑا حشر کے تصورات میں کھو گیا تھا ، ساتھ والوں کو میری خبر تھی مگر مجھے کوئی خبر نہیں تھی ،میں وہیں تھا ، کیا منظر ھوگا ؟ کس طرح جواب دیں گے؟عصر کا وقت تھا ، جیسے جیسے سورج ڈوب رہا تھا ، امیدیں بھی ڈوب رہی تھیں کہ ابھی اعلان ھوگا ، مجرمو الگ الگ ھو جاؤ ،ھم کس قابل ہیں ، کس فہرست میں ھوں گے یہی سوچ سوچ کر دل ڈوب رہا تھا کہ اچانک جھٹک کر دوستوں نے پوچھا غار حراء نہیں چلنا، ایک دم امید جاگ اٹھی کہ مولانا حالی کی مسدس اور محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم خیالات زینہ بلکہ کرینہ بن گئی
اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا ،
اور نسخہء کیمیا ساتھ لایا
مس خام کو جس نے کندن بنایا
کھرا کھوٹا الگ کر دکھایا
عرب جس پہ قرنوں سے تھا جہل چھایا
پلٹ دی بس اک آن میں اس کی کایا
حالی کے اشعار ۔۔۔
وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا
مرادیں غریبوں کی بھر لانے والا
ایسا تسلسل بن کر آگے پیچھے چل رہے تھے کہ جیسے بہتی لہر ھو ،گاڑی والا پہلے ہی بیتاب تھا ، راستے میں ھم جمرات کے پاس تھوڑی دیر رکے ،" شیطان" کو شرماتے شرماتے ڈھونڈنے کی کوشش کی کہ کہیں اس پر پتھر برسا سکیں ، اس" شیطان" کا سر کچل سکیں ، مگر اندر کے احساسات ، باہر کے جوش سے مختلف تھے میں ڈر ڈر کے اتنا سہم جاتا ھوں کہ کیسے شیطان کو مار سکتا ھوں کہیں اپنے سر پر پتھر نہ پڑ جائے ، دوڑے مگر پیچھے دھکیل دیا گیا اور بس انسانوں سے خالی منظر دیکھ کر دل اداس سا ھوگیا ،ایک امید اور محبت غار حراء کی طرف کھینچ رہی تھی ، جسمانی اور روحانی تفریق واضح تھی ، روح بے تاب ، جسم لاچار ، ایک وادی نما بستی میں پہنچے ، جوں جوں غار حراء کا راستہ قریب آتا جا رہا تھا دل کی دھڑکن تیز ہو رہی تھی وادی اور بستی کے آخر پہ پہنچے تو بستی دیکھ کر کسی غریب اور پسماندہ علاقے کا احساس اور منظر تھا ، پتہ لگا یہ غیر قانونی ہے اور ان لوگوں نے بنائی ھوئی ھے جو غار حراء کے راستے پر کھڑے بھیک مانگ کر گزارہ کرتے ہیں،
غار حراء کی بلندی کا جائزہ لیا تو خیال آیا کہ جسم شاید ساتھ نہ دے ، مگر دل و روح کا تلاطم اوپر کھینچ رہا تھا ، پکے اور چڑھائی والے راستے کو دیکھا تو دوڑ کر جانے کی کوشش کی ، ایک دوست وہیں رک گئے ، دوسرے کو پیچھے چھوڑا اور نکلا پڑا ، بلندی پر جاتے ہوئے وہ لمحات بار بار گھیر ریے تھے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس زمانے میں کیسے اوپر جاتے ھوں گے ، کاش میں وہ پتھر ھوتا جس پہ وہ قدم رکھتے ، کاش میں پانی ھوتا ، کاش وہ مٹی کا ذرہ ہی ھوتا جو چھو جاتا ، کاش وہ ھوا ھی ھوتا جو شام کو چلتی اور رخ مصطفیٰ کو چھو جاتی تھی ، اسی خیال میں یاد ہی نہیں رہا کہ کتنا راستہ کٹ گیا ، مفت خیبرپختونخوا کا ایک نوجوان پانی تقسیم کرتے ہوئے ملا بڑا دل کیا کہ یہاں رہ جاؤں اور یہی کام کرتا رہوں ، مگر دکھ اس وقت ھوا جب کچھ ھم وطن ، راستے کی سیڑھیاں بنانے کے بہانے سمینٹ اور پتھر کے پیسے مانگتے ہیں ، مگر وہ سیڑھیاں سال ہا سال سے نہیں بنتیں ، دینے والے بھی ھم وطن یا زیادہ سے زیادہ ترکیہ ، ازبکستان ، قازقستان اور انڈونیشیا کے لوگ ھوں بہرحال ان کا گزارا چل جاتا ہے ، جوں جوں اوپر جلتے جا رہا تھا اپنے لوگوں کی کثرت اور عادت نمایاں لگی ، کثرت یعنی سب پاکستانی یہاں آنے کی کوشش کرتے ہیں اور ساتھ اپنی عادت کے مطابق ارد گرد کوڑا کرکٹ ، بوتلیں اور شاپر بھی پھینکتے ہیں ، جو انتہائی برا لگتا ہے ، کچھ من چلے پتھروں پر نام کندہ کرتے ہیں ، حالانکہ شرعی ، قانونی اور اخلاقی طور پر ایک بورڈ آویزاں کیا گیا جہاں اُردو ، ھندی اور انگریزی میں تمام احکامات ، ھدایات لکھی گئی ہیں مگر کیا کریں اس تصور دین کا جو ھم نے خود پال رکھا ہے،اس کے نقش جبل نور و رحمت ھو یا کوئی اور مقدس مقام جابجا ملتے ہیں ، غار حراء کا راستہ بھی انہی القابات سے مزین تھا ، اوپر جاتے ہوئے نظریں کیا کمر بھی جھک جاتی ہے ، عربی کوئی نہیں ملا سب عجمی تھے ، انتہائی کمزور خواتین و حضرات بھی محبت کی گرمی سے سانس لیتے لیتے اوپر ہی اوپر رواں دواں تھے ، اگرچیکہ راستے میں کچھ سمیٹ سے سیڑھیاں بنائی گئی ہیں مگر راستہ آج بھی مشکل ہے اور راستے نوے ڈگری کی طرح استادہ ھے ، عصر کی نماز میدان عرفات میں پڑھ آئے تھے ، اسی وضو میں اوپر پہنچ کر مغرب کی نماز ادا کی گئی جہاں ایک چھوٹی سی مسجد نما جگہ نماز کے لیے ھے ، ارد گرد ، پتھر ، کھانے پینے کی اشیاء بیچنے والے افراد کئی ہیں ، جہاں تسبیح بھی لینی ھو تو پانچ ریال سے کم نہیں ہے ، زیادہ تر پاکستانی ، انڈین مسلم اور کچھ بنگالی بھائی ہیں ،
اب جستجو تھی اس غار کی جہاں آقا دوجہاں یاد الٰہی میں مصروف ، روحانی عظمتوں کا سفروحضر طے کرتے تھے ، اوپر پہنچیں تو اردر گرد کی وادیاں ، پہاڑیاں ، اور خوبصورت روشنیوں کے چھوٹے شہر و مارکیٹس کے ساتھ ، خانہ کعبہ کا منظر بھی نمایاں ہے ، دل کرتا ہے یہیں بیٹھے رہیں ، کیا منظر ھوگا جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہاں ھوتے تھے ، وحی الٰہی لے کر جبرائیل آئے تھے ، وہ ایک روشنی جو اس جبل نور کے غار سے پھوٹی تھی جس نے شرق و غرب کو علم و عمل کے نور سے بھر دیا ، چار وانگ جس کی خوشبوؤں نے دنیا کے میکدوں کو الٹ دیا اور آتش کدوں کو بجھا دیا ، جی وہی نور مصطفی تھا جس نے آنے والے جہانوں تک کی روشنی اور راستہ دے دیا ، بڑے مشکل راستے سے گزر کر غار کے دھانے تک پہنچا جہاں ھجوم بلا تھا ، دھکم پیل بھی تھی ہر دل کی خواہش تھی کہ غار کے اندر جا سکیں ، ان پتھروں پر جمانے کے لیے ھمت چائیے ، دراز قد نظروں سمیت اندر غار میں جانے کے لیے اولیت حاصل کر لیتے ہیں اس جلدی خواتین کی ھوتی ھے اسی دھکم پیل ھم بھی غار میں پہنچے ، نوافل ادا کئے ، اور ایک لمحہ کے لئے چودہ صدیاں قبل کا منظر یاد آیا ، باطن اسی خوشبو کی مہک محسوس کر رہا تھا ، اس زیارت کے بعد باہر آئے تو رات کا اندھیرا گہرا ھو چکا تھا ، اردو گرد کی وادیوں کی بتیاں روشن اور یہاں دل کے دئیے کے ساتھ ٹارچ جلائی اور واپسی کا سفر باندھا ، میں آدھ گھنٹہ میں اوپر پہنچا تھا ، نیچے جاتے ہوئے خوشی یہ تھی کہ یہاں آئے ہیں ، غار حراء مکہ سے تقریبا تین چار میل کے فاصلے پر ہے اور اس کے اندر کا احاطہ چار میٹر لمبا اور دو میٹر چوڑا ہے ، جہاں اب مصلہ بچھا ہوا ہے ، واپس آنے کی شمع جلائی اور کوئی بیس منٹ میں گاڑی کے پاس پہنچ گیا ، تھکن ، روح میں اتری خوشی کا پاسنگ بھی نہیں تھی ، واپس مکہ کی طرف روانہ ہوئے اور کوئی ایک گھنٹہ میں آرام گاہ پہنچ گئے ، دل طہاروت سے بھرپور اور پیٹ کھانے کی حاجت سے بے تاب تھا ، البتہ لبوں پہ مسدس حالی کے اشعار امڈ آئے تھے ،
وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا
مرادیں غریبوں کی بر لانے والا
مصیبت میں غیروں کے کام آنے والا
وہ اپنے پرائے کا غم کھانے والا ،
فقیروں کا ملجا ، ضعیفوں کا ماویٰ
یتیموں کا والی ، غلاموں کا مولیٰ
اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا
اور اک نسخا کیمیا ساتھ لایا ،
وہ نسخہء کیمیا جس کو ھم بلا چکے ہیں ، قرآن مجید ، فرقان حمید جس کی روشنی علم و حکمت ، ھدایت اور تقوی سے بھرپور ہے ،یہی پیغام اس ھادی برحق کا جو رحمت العالمین کے نام سے جانا جاتا ہے ،
205