دو دن سی ایم ایچ ھوسپثل راولاکوٹ میں گزرے اگلے دن پہیہ جام ہڑتال تھی کافی دیر مرض اور مریض کھائی گلہ چوک میں رکے ریے جہاں انقلابی خطابات ھو رہے تھے ، نہ جانے پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال سے حکومت اور انتظامیہ کو کوئی فرق پڑا کہ نہیں البتہ مریضوں اور مزدوروں کو شدید تکلیف سے گزرنا پڑا ، خدا خدا کر کے راولاکوٹ ھوسپثل پہنچے ایمرجنسی میں انتہائی رش آور تشویش ناک صورتحال تھی جہاں صحت مند بھی جاکر بیمار ہو جائے ، البتہ خوشی یہ تھی کہ ڈیوٹی پر موجود ٹرینی اور سنئیر ڈاکٹرز کا رویہ اچھا اور حوصلہ افزا تھا ، جس کی وجہ سے سانس کی تکلیف میں مبتلا مریض کچھ سہولت پا سکا ،
آپ کو یاد ہوگا 2005ء کے زلزلے میں یہ ھوسپثل بھی تباہ ھو گیا تھا اور شیخ زید بن النہیان نے اسی ھوسپٹل کو ازسرنو تعمیر کرکے حکومت آزاد کشمیر کے حوالے کیا جب یہ تعمیر ھوا تھا تو دیکھ کر دل باغ باغ ہو تا تھا مگر آج اس کی ہیئت کسی خستہ حال عمارت کا منظر پیش کر رہی ہے خصوصاً اندرونی حالت قابلِ رحم ھے جو سب کے لیے تکلیف دہ ھے ، سول انتظامیہ نے اس کی شکل ہی تبدیل کر دی ہے اور نااہلی کا ایسا ثبوت فراہم کیا ھے کہ یہ واضع ھو جاتا ھے کہ ھم کبھی نہیں بدل سکتے ، ھم کبھی صاف ماحول کے عادی نہیں رہ سکتے ، ھم کون لوگ ہیں ؟ صفائی نصف ایمان ہے کی عملی تصویر تلاش کرتے کرتے بوڑھے ھو گئے مگر سکول ھوں پارک یا ھوسپٹل ان کی انتہائی مخدوش حالت دیکھ کر کلیجہ منہ کو آتا ہے ، آپ ایمرجنسی میں داخل ھوں وہاں موجود واش رومز جنرل بس اسٹینڈ کے واش رومز سے بھی بدتر حال میں ہیں نہ ٹوٹی، نہ صفائی اور نہ دروازہ بند کرنے کا کوئی ذریعہ ، جس کا نام استقبالیہ ھے وہاں ایک شخص رجسٹر لے کر بیٹھا ہے اور جو نظر آئے اندراج کر دیتا ہے ، وارڈ میں داخل ھوں تو آدھے بیڈ ٹوٹے ہوئے اور اس قابل نہیں کہ آسودہ ھو کر کوئی مریض لیٹ سکے ، بات یہاں تک ھو تو ٹھیک حتی کہ ویل چیئرز پہ نظر پڑی تو دس میں سے ایک سلامت پائی ، مشینوں میں سے اکثر خراب ملتی ہیں خوشی کا امر یہ تھا کہ ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف انتہائی خوش اخلاقی سے پیش آیا وہ بااخلاق بھی تھے، اور بات سنتے بھی تھے دوائیاں بھی دستیاب تھیں البتہ جو مستقل پریشانی ھے وہ ڈاکٹرز کی کمی اور انتظامی نظام کی نااہلی ھے ، دوسری بڑی وجہ اس ھوسپٹل سے ابادی کا ایک بڑا حصہ منسلک ہے ، ضلع پونچھ ، حویلی ، باغ اور سدھنوتی کے کئی علاقوں کے مریض راولاکوٹ ھی آتے ہیں اس مرتبہ یہ جملہ سننے کو نہیں ملا کہ "پنڈی لے جائیں"
سرجیکل وارڈز قدر بہتر ہیں صاف بھی ہیں ، مگر میڈیکل وارڈز کی حالت اچھی نہیں ھے ، دنیا بھر میں چلڈرن وارڈز ھوتی ھیں یہاں "چائلڈ وارڈ" ھے میری گزارش ہے کہ کوئی صاحب ثروت لوگ ویل چیئرز گفٹ کر دیں تاکہ مریضوں کے لیجانے اور لانے میں آسانی ہو لفٹ بھی اکثر بجلی کی وجہ سے بند ریتی ہیں ، دوسرا بڑا کام ھوسپٹل کی صفائی اور چیزوں کے تحفظ کا ھے ، فوجی ایڈ منسٹریشن والی وارڈز سیلقے میں ہیں باقی اللہ ھی حافظ ھے
آزاد کشمیر کے دو ہی بڑے محکمے ہیں جن میں صحت اور تعلیم کا شعبہ ھے دونوں کی حالت اچھی نہیں ، ابھی تک حکومت کا حال یہ ہے کہ کسی کو معلوم نہیں کون وزیر اعظم ھے ، کون وزیر ھے کس سے فریاد کی جائے اور کون شکایت سنے گا ، راولاکوٹ خوبصورت ترین جگہ ھے مگر بغیر منصوبہ بندی سے تعمیرات اور بلدیاتی اداروں کی ناکامی کی وجہ سے ماحول آلودہ ھے ، دفاتر ھوں ، ھوسپٹل ھو یا کوئی اور جگہ غلاظت سے اٹے ہوئے ہیں ، ایک ایک مریض کے ساتھ پندرہ پندرہ لوگ ، بھی ایک بڑی وجہ ہیں جن پر پوری ایک ڈسپلن پالیسی کی ضرورت ہے ، ھوسپٹل کا پارکنگ ایریا بہتر ہے ،موجود ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف بھی کوآپریٹو ھے مگر کمی ھے تو انتظامی اور لوگوں کے شعور کی ، مستعد اور چوبیس گھنٹے کی انتظامی صلاحیت والے لوگوں کی ضرورت ہے جو ھوسپٹل کی ہر چیز پر دیانتدارانہ نظر رکھیں ، حکومت آزاد کشمیر اس طرف توجہ دے تحصیل ھوسپٹلز اور بنیادی ھیلتھ سسٹم کو آسان اور مفید بنائے تاکہ بڑے ہسپتالوں پر لوڈ کم ھو ، راولاکوٹ ، باغ ، پلندری ، کوٹلی ، مظفر آباد ، میرپور اور حویلی ، تراڑکھل بڑے اسٹیٹ آف دی آرٹ ھوسپٹلز کی ضرورت ہے جہاں ہر طرح کی ایمرجنسی کو دیکھا جا سکے ، پچاس سے ساٹھ لاکھ ابادی اور پانچ ھزار مربع میل کے علاقے کو اتنی بڑی حکومت اور سرکاری ادارے منظم نہیں کر سکتے تو ان کا جواز نہیں بنتا ، دنیا میں استحکام ، صحت کی سہولیات ،تعلیم، بنیادی انفراسٹرکچر اور صاف ماحول سب سے بڑی ترجیح ہیں ھمارے ہاں ان کی کوئی اہمیت نہیں حکومت مظفرآباد اور اسلام آباد کے درمیان ہی جھولتی ریتی ھے ، اپریل سے ستمبر تک سیاحوں کی بڑی تعداد ادھر کا رخ کرتی تھی وہ بھی کم ہوگئی ، دوسرے کئی بحران موجود ہیں لیکن صحت کے شعبے میں بروقت اور دیر پا سہولتوں پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے ،جدید مشینری اور لیبز کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں ، تاکہ لوگوں کو مہنگا ترین پنڈی اور گرد و نواح کا سفر نہ کرنا پڑے ، ڈاکٹرز کی تنخواہوں اور سہولتوں میں اضافہ کیا جائے تاکہ ان کی توجہ مریضوں کی طرف رہ سکے
242