پیرا ڈائم شفٹ؟ پاکستان کہاں؟ 258

پیرا ڈائم شفٹ؟ پاکستان کہاں؟

قارئین کی CONSUMPTION کے لئے:پیرا ڈائم، وسیع تر مقاصد کے لئے عمل میں ڈھل کر عالمی معاشرے کے بڑے حصے کو متاثر کرنے والی وہ بڑی ظہور پذیر سوچ و اپروچ ہے جو عمل میں ڈھل کر موجود نظام ہائے سیاست و حکومت اور عالمی اقتصادی اور معاشرتی نظام کو تحلیل کرتی اپنی جگہ بناتی ہے، تحلیل کا یہ عمل جو مختلف زمانوں میں عالمی تغیرات کا سبب بنتا ہے PARADIGM SHIFT کہلاتا ہے۔

عالمی مسائل و حل اور ضروریات پر ہونے والی اجتماعی دما غ سوزی (برین اسٹارمنگ) کے باہمی ابلاغ اور جملہ شعبوں کے اسکالرز میں یہ اصطلاح بڑی فری کوئنسی میں جگہ بنا رہی ہے، خصوصاً جبکہ موجود دنیا ایک بڑے پیراڈائم شفٹ میں آ چکی ہے۔

کرہ ارض پر انسانی معاشرے کے رجحانات سینکڑوں صدیوں سے نئے نئے عالمی نظام ہائے سیاست و معیشت و معاشرت کو اپنے فطری ارتقائی عمل سے جنم دیتے انسانی تہذیب کی تیز تر ترقی و فلاح کے باوجود جدید عالمی تاریخ میں دو تباہ کن عالمی جنگوں کاباعث بنے۔ انسانیت کی وسیع تر تباہی مچانے والی ان دو عظیم جنگوں کے انجام سے ہی طاقتور فاتحین اور شکست خوردہ فریقین کی فوری مشترکہ سوچ، اعتراف اور ضرورت عالمی امن و استحکام کی بنیاد پر موجود نو آبادیاتی نظام کے مقابل، انٹرنیشنل ازم کا پیرا ڈائم کلونئیل ازم کو تحلیل کرتا عالمی معاشرے کی شدید خواہش کے مطابق آزاد ممالک کے باہمی تعلقات کی بنیاد پر بین الاقوامیت (انٹرنیشنل ازم) کا پیرا ڈائم بنا۔ اس کو عالمی برادری کی یکساں قبولیت کے باوجود ڈی کلونئیلائزیشن نوآبادتی نظام کی تحلیل کے متوازی دونئی ظہور پذیر بڑی عالمی طاقتوں، امریکہ، سوویت یونین (روس) کی بطورسپرپاور ایک جیسی ہی سوچ سے NEO-COLONIALISM (نیم نوآبادیاتی نظام) برآمد ہوا جو اصل میں امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان انٹرنیشنل ازم کے متوازی سردجنگ کا آغاز تھا۔ یہ پیراڈائم (کولڈ وار) امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان زیادہ سے زیادہ آزاد ہوتے ممالک کو اپنے نظریاتی دائرہ ہائے اثر (جمہوریت اور کمیونزم) میں لانا تھا، اس 40سالہ تگ و دو میں دونوںبڑی طاقتوں کی اپنی اپنی کامیابیاں رہیں جہاں کامیاب ہوئے وہاں ان نو آزاد نیشن اسٹیٹس کے سیاسی و معاشی نظام اور معاشرت، اپنے فطری ارتقا کے برعکس بڑی طاقتوں کے سیاسی نظریاتی اثرات سے بلند درجے پر متاثر ہوئے، یوں انٹرنیشنل ازم بین الاقوامیت کا ایجنڈا (عالمی امن عالم و استحکام) ممالک کے داخلی استحکام اور دو طرفہ تنازعات سے بھی بری طرح متاثر ہوتے رہے، اور اقوام متحدہ کے چارٹر پر سب کے اتفاق کے باوجود دنیا کی سیاسی تقسیم سے مطلوب امن اور استحکام قائم نہ ہوسکا، دونوںبڑی طاقتوں اور ان کے بنائے کیمپس میں سرد جنگ کاپیراڈائم غالب رہا۔

قیام پاکستان سے تادم، ہماری مملکت کی تشکیل ہوئے اور عالمی سیاست واقتصادی نظام میں بڑی جگہ بناتے اور غلبہ پاتے پیراڈائمز میں کیا پوزیشن رہی، ہمیں اپنے اس کردار کے کیافوائد اور خسارے ہوئے، اس کا عمیق مطالعہ و تحقیق نیز موجود پاکستانی مایوس کن اورپیچیدہ پوزیشن کا تجزیہ ہمیں اب ظہور پذیر پیراڈائم میں مطلوب پوزیشن کی نشاندہی کرنے اور لینے میں معاون ہی ثابت نہیں ہوگا بلکہ جاری گمبھیر سیاسی و آئینی اور معاشی و انتظامی بحران کو سنبھالنے میں معاون ہوگا۔ یہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ سب ہی پاکستانی ریاستی اداروں کی موجود سکت سکڑ کر نصف سے بھی کم رہ گئی ہے۔ جس سے دستوری عمل میں بڑی رکاوٹیں کھڑی ہوگئیں اور ہمارے ریاستی ادارے نہ صرف عوامی خدمات کے لئے عوام کی نظر میں (ایٹ لارج) اپنا اعتماد اور ساکھ کھو بیٹھے بلکہ حکومت و عوام میں ایک بڑا اور پریشان کن خلا پیدا ہوگیا ہے۔ ملک کا جمہوری عمل تقریباً مکمل معطل، حکومتی ڈھانچہ غیر منتخب، غیر آئینی اور بلند درجے پر متنازع اور جانبدار ہے۔

قیام پاکستان سے دو سال قبل افغانستان سے نیٹو کے انخلا تک) دہشت گردی کے خلاف امریکی، نیٹو کی چھتری میں عالمی جنگ میں نیٹو کا رکن نہ ہونے کے باوجود اسلام آباد نے اپنی 74 سالہ تاریخ میں عالمی اور علاقائی سیاست و معیشت و معاشرت کو متاثر کرنے والے پیراڈائمز میں مکمل واضح اور پاکستان کے لئے ثمر آور پوزیشن لی یا لینے کی کوئی سنجیدہ اور سرگرم کوششیں کیں۔ بحیثیت مجموعی اس میں اپنی پوزیشن کے کچھ ملک میں اور بیرون دنیا بھی متنازعہ ہونے کے باوجود پاکستان بڑے فوائد تو حاصل کرتا رہا، یہ الگ ہے کہ ہم اپنےسخت نوٹس ایبل اور (اب تو) کہا جاسکتا ہے کہ تباہ کن عوام مخالف سوچ و اپروچ اور ماور آئین حکومتی اقدامات سے لی گئی پوزیشن کو خودبڑے قومی خساروں میں تبدیل کردیا گیا۔ قوم کی بیرونی قرضوں میں عبرتناک جکڑ اس کی بڑی مثال ہے۔اور عالمی اور علاقائی سیاست کے کھیل میں حاصل فائدےہمارے اولیگارکی کے لئے سونے کی کان اور عوام کے لئے عذاب بنتے گئے۔ حالانکہ قومی فوائد کے لئے عوام نے حکومت کے بعض متنازعہ اقدامات پر چپ سادھے رکھی اور حکومتوں کو فیصلہ سازی اور عملدرآمد کا آزادانہ موقع دیا، لیکن آج پاکستانی عوام خود اپنے آزادانہ ووٹ سے اپنی حکومت بنانے کے قابل بھی نہیں رہے۔ہر حکومت نے حصہ بقدر جثہ اور اپنے مخصوص منفی رویوں کے مطابق عوام کو رگڑے لگائے۔ ہماری سیاسی جماعتیں حکومتیں اور ریاستی ادارے ہمیں کہاں لے آئے۔ ظہور پذیر پیراڈائم شفٹنگ کیا ہو رہی ہے؟ پاکستان اس میں کہاں کھڑا ہے؟ کھڑا بھی ہے یا گڑھے میں کھڑا ہے؟ ان سوالات کے جوابات پر مشتمل تجزیہ آئندہ کے ’’آئین نو‘‘ میں ۔ (جاری ہے)

بشکریہ جنگ نیوزکالم