ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی پبلک سیکٹر کرپشن کی عالمی رینکنگ میں پاکستان نے اعداد و شمار کے لحاظ سے تنزلی کا رجحان جاری رکھا ہے، 2012 کے بعد اس کا سب سے کم اسکور صرف 27 پوائنٹس پر ہے۔ جس کے نتیجے میں ہم 180 ممالک کی درجہ بندی میں بدعنوان ممالک کی فہرست میں140ویں نمبر پر پہنچ چکے ہیں. یعنی اس وقت دنیا میں صرف 40 ممالک ہی کرپشن میں ہم سے آگے ہیں جبکہ ہم 140 ممالک سے کرپشن میں آگے ہیں. کرپشن یا بدعنوانی سے مراد طاقت کا غلط استعمال ہے جو عمومی طور پر ذاتی فائدے کے لیے کیا جاتا ہے. کرپشن کی کئی اقسام ہیں جن میں سب سے بدترین شکل پبلک سیکٹر کرپشن ہے جو صریحاً مفاد عامہ کے شعبوں میں کی جاتی ہے. یعنی ایسی کرپشن جو حکومتی اداروں، عوامی شعبوں اور عوامی منصوبوں سے متعلق ہو. کرپشن کی یہ شکل براہ راست عوام پر اثرانداز ہوتی ہے اور ملکی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھی جاتی ہے. کیونکہ عوامی فلاح و بہبود، شفافیت اور منصفانہ خدمات کی فراہمی کے نام پر عوامی دفتر اور وسائل کا استعمال عوام کی بجائے ذاتی فائدے کے لیے کیا جاتا ہے۔ کرپشن کی اس قسم میں رشوت، غبن، اقربا پروری, بھرتیوں میں من پسند افراد کو منتخب کرنا, عوامی منصوبوں میں غیر معیاری کام اور عوامی فنڈز میں ہیرا پھیری سمیت کئی طرح کے ناجائز طریقے شامل ہیں۔ جیسا کہ ہر شخص بخوبی جانتا ہے کہ عدلیہ, پولیس, ایف آئی اے, اینٹی کرپشن, ہسپتال, نادرا, پاسپورٹ, تعلیمی ادارے, محکمہ مال سمیت ہر جگہ کرپشن کا راج ہے. رشوت سرکاری محکموں میں عام ہے، جہاں اہلکار اپنے فریضے کی ادائیگی کے لیے رشوت لیتے ہیں یا غیر قانونی سرگرمیوں پر آنکھیں بند کر لیتے ہیں۔ اسی طرح غیر قانونی کاموں میں ملوث لوگ قانونی اثرات سے بچنے کے لیے رشوت کی پیشکش کر سکتے ہیں تاکہ لائسنس یا پرمٹ حاصل کرنے میں بیوروکریٹک عمل کو تیز کیا جا سکے۔ غبن میں دھوکہ دہی سے فنڈز یا اثاثوں کا غلط استعمال شامل ہے جس کا انتظام ان کے سپرد ہوتا ہے۔ یعنی سرکاری اہلکار ذاتی فائدے کے لیے عوامی فنڈز کا ناجائز استعمال کر سکتے ہیں۔ اقربا پروری سے مراد دوستوں یا کنبہ کے افراد کو ملازمتیں دینے یا ترقی دینے میں ان کی اہلیت سے قطع نظر ان کی حمایت کرنا ہے. اس کے نتیجے میں نااہل افراد کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں، جس سے سرکاری محکموں کی کارکردگی اور سالمیت متاثر ہوتی ہے۔ گھوسٹ ملازمین کی اصطلاح صرف پاکستان میں ہی پائی جاتی ہے اور یہ بھی پبلک سیکٹر کرپشن کے زمرے میں آتی ہے. اس سے مراد فرضی بھرتی کا عمل ہے جہاں غیر موجود ملازمین یا ایسے افراد کو تنخواہیں دی جاتی ہیں جو سرکاری محکموں میں کام نہیں کرتے ہیں۔ان ملازمین کے لیے مختص رقم اکثر بدعنوان اہلکاروں کی جیب میں جاتی ہے۔یہ عمل صحت اور تعلیم سمیت پاکستان کے کئی سرکاری محکموں میں دریافت ہوا ہے. زمین اور جائیداد ہتھیانے میں دھوکہ دہی بھی ایک عام بات بن چکی ہے. محکمہ مال کے افسران و اہلکار بالخصوص پٹواری مافیا زمین اور جائیداد سے متعلق دھوکہ دہی میں ملوث ہو سکتے ہیں۔اس میں زمین پر غیر قانونی قبضہ، زمین کے ریکارڈ میں ہیرا پھیری، اور بااثر افراد کو اراضی کے حصول میں ناجائز فائدہ پہنچانا شامل ہے. تاہم یہ مثالیں مکمل نہیں ہیں بلکہ یہ کہنا مناسب ہو گا کہ پاکستان میں مختلف سرکاری محکموں میں بدعنوانی مختلف ڈگریوں میں موجود ہے۔ قیام پاکستان کے 76 سال بعد بھی ایسا کوئی محکمہ یا ادارہ نظر نہیں آتا جو کرپشن کی گندگی میں نہ لتھڑا ہو. بلکہ جس ادارے میں جتنی شفافیت کی ضرورت ہے وہ خود اسی قدر بدعنوانی کا شکار نظر آتا ہے. یہی وجہ ہے کہ ہم گذشتہ پانچ سالوں میں بدعنوان ممالک کی عالمی رینکنگ میں مسلسل ترقی کی راہوں پر گامزن ہیں. ہر آنے والے سال میں پہلے کی نسبت کرپشن کا کئی درجہ اضافہ ہوتا جاتا ہے. اب اگر صوبائی سطح کی بات کی جائے تو اس کی یہ ایک مثال ہی کافی ہے کہ ماضی میں سپریم کورٹ سندھ کو ملک کا کرپٹ ترین صوبہ قرار دے چکی ہے۔ ایک کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دئیے تھے کہ صوبہ سندھ ملک کا کرپٹ ترین صوبہ ہے جہاں ہر محکمہ کرپشن کا شکار ہے۔ سندھ کے بجٹ کا ایک روپیہ بھی عوام پر خرچ نہیں ہوتا. اسی طرح اگر پاکستانی محکموں کی کرپشن میں رینکنگ کا جائزہ لیا جائے تو گذشتہ سال کے ایک سروے کے مطابق پاکستان میں پولیس سب سے زیادہ رشوت کا شکار ادارہ ہے، اس کے بعد ٹھیکہ داری پھر عدلیہ اور تعلیم سے متعلق محکمے ہیں۔ سندھ میں پہلے نمبر پر سب سے زیادہ کرپٹ شعبہ تعلیم رہا، پولیس دوسرے نمبر پر کرپٹ جبکہ ٹینڈرنگ اور ٹھیکیداری تیسرے نمبر پر کرپٹ رہی۔ پنجاب میں پولیس سب سے زیادہ کرپٹ سیکٹر رہی، ٹینڈرنگ اور ٹھیکیداری دوسرے نمبر پر کرپٹ جبکہ عدلیہ تیسرے نمبر پر کرپٹ رہی۔ خیبرپختونخوا میں عدلیہ سب سے زیادہ کرپٹ سیکٹر رہی، ٹینڈرنگ اور ٹھیکیداری دوسرے نمبر پر جبکہ پولیس کا محکمہ تیسرے نمبر پر کرپٹ رہا۔ بلوچستان میں ٹینڈرنگ اور ٹھیکہ داری سب سے زیادہ کرپٹ شعبہ رہا، پولیس دوسرے نمبر پر جبکہ عدلیہ تیسرے نمبر پر کرپٹ رہی۔ قومی سطح پر 45% لوگوں کی اکثریت پاکستان میں بدعنوانی کو روکنے میں انسداد بدعنوانی کے اداروں کے کردار کو 'غیر موثر' سمجھتی ہے۔ سندھ میں، 35 فیصد پاکستانیوں نے نیب کے کردار کو بدعنوانی کی روک تھام میں موثر سمجھا۔ پنجاب (31%)، KP (61%)، اور بلوچستان (58%) پاکستانیوں نے پاکستان میں بدعنوانی کو روکنے میں "کسی بھی انسداد بدعنوانی کے ادارے" کے کردار کو موثر نہیں سمجھا۔ این سی پی ایس 2022 کے مطابق بدعنوانی کی تین سب سے اہم وجوہات میں بدعنوانی کے مقدمات میں تاخیر سے فیصلے (31%)، حکومتوں کے ذریعے اپنے فائدے کے لیے ریاستی اداروں کا استعمال (26%) اور حکومت کی نااہلی (19%) ہیں۔ سندھ (43%) اور پنجاب میں (29%) شہری پاکستان میں بدعنوانی کی سب سے بڑی وجہ "حکومتوں کی جانب سے اپنے ذاتی فائدے کے لیے ریاستی اداروں کے استعمال" کو سمجھتے ہیں۔ جبکہ کے پی (43%) اور بلوچستان (32%) پاکستان میں بدعنوانی کی بڑی وجہ "کرپشن کیسز کے فیصلوں میں تاخیر" کو سمجھتے ہیں۔ اس تمام صورتحال میں یہ بات تو واضح ہے کہ جہاں کوئی اپنا فریضہ ادا کرنے کو تیار نہ ہو. کرپشن روکنے والوں نے خود اپنی آنکھیں بند کر لی ہوں اور جائز کاموں کے لئے بھی ان کی ناک تلے بھی ہر کوئی پیسے بٹورنے میں مصروف ہو تو پھر وہاں کرپشن کو کرپشن نہیں سمجھا جاتا بلکہ بچوں کی مٹھائی, چائے پانی, اپنی خوشی سے دینے, وقت بچانے کے علاوہ حق سمجھا جاتا ہے.اب جہاں کرپشن حق بن جائے وہاں بہتری کی امید اس سوچ کو تبدیل کئے بغیر ممکن نظر نہیں آتی. ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے انڈیکس میں کہا ہے کہ پاکستان میں اگرچہ تحریک انصاف کی حکومت بدعنوانی سے نمٹنے اور سماجی اور معاشی اصلاحات کو فروغ دینے کا وعدہ کرتے ہوئے اقتدار میں آئی تھی، لیکن 2018 میں جب سے انہوں نے باگ ڈور سنبھالی، ان میں سے کسی بھی محاذ پر بہت کم کامیابی حاصل کی۔ بلکہ الیکشن کمیشن نے عمران خان کو اپنے دور حکومت میں تحائف اور ان کی فروخت سے حاصل ہونے والے منافع کا اعلان نہ کرنے پر 5 سال کے لیے عہدے کے لیے نااہل قرار دے دیا اور سیشن کورٹ میں فوجداری کارروائی کے لیے درخواست دائر کی۔ خان نے امیدوار کی اہلیت پر ای سی پی کے دائرہ اختیار کو چیلنج کرتے ہوئے ای سی پی کے خلاف ایک الگ عدالتی مقدمہ شروع کیا ہے۔ ان دو مقدمات کے فیصلوں کا انتظار کرتے ہوئے یہ سب سے اہم ہے کہ نئی حکومت ایسے سیاسی سکینڈلز کو انسداد بدعنوانی کی جامع کوششوں کو پٹڑی سے اتارنے کی اجازت نہ دے۔ یہ ایک جامع اور موثر انسداد بدعنوانی کے منصوبے کے ساتھ ٹھوس کارروائی کا وقت ہے جو غیر قانونی مالیاتی بہاؤ کو دور کرتا ہے اور شہری جگہ کے لیے حفاظتی اقدامات متعارف کرواتا ہے۔ خطے کو درپیش مشکلات کے باوجود، 2023 میں حکومتوں کے لیے بدعنوانی کے خلاف جنگ کے لیے دوبارہ عزم کرنے کے بہت سے مواقع موجود ہیں۔ بنگلہ دیش، پاکستان، تھائی لینڈ، کمبوڈیا، میانمار میں ہونے والے انتخابات لوگوں کے لیے اپنی آوازیں سنانے اور بدعنوانی کے خدشات کو دور کرنے کے لیے اہم لمحات ہو سکتے ہیں۔
جاری ہے