(حصہ چہارم )
پچھلی اقساط میں ہم نے وقت کو اللہ کی مخلوق ثابت کیا اور خصوصا قسط نمبر (3) میں قوم موسی علیہ السلام کا ذکر آیا تھا، کہ ان پر 9 عذاب اس لئے نازل کئے گئے کہ فرعون کا دعوی خدائی چند ایسے علوم کی بدولت تھا جس کا توڑ عام انسانوں کے بس کی بات نہیں تھی یعنی وہ موسمی تغیرات کو قابو کر سکتا تھا۔۔ اس کے جادوگر اتنے کمال تھے کہ رسیوں کو سانپ بناکر دکھا سکتے تھے یہ بھی علم کا کمال تھا۔ لیکن ایک عجیب بات یہ ہے کہ اللہ کریم نے موسی علیہ السلام کو دو عجیب معجزے عطا کئے۔ ایک یہ کہ ان کا عصا( لاٹھی) اژدھا بن جاتا جس نے ان جادوگروں کے تمام سانپ نگل لئے جو کہ اس وقت کے جادوگروں کا سب سے بڑا اور ناقابل شکست حربہ تھا۔۔اور دوسرا حضرت موسی علیہ السلام جب ہاتھ اپنی بغل مبارک میں ڈال کر دوبارہ نکالتے تو وہ چمکدار یعنی (Luminous) ہوتا، جس کے معنی
(Luminous objects are which emit light by their own.)
قرآن مجید کا یہ اعجاز ہے کہ وہ آپ کو دعوت تحقیق دیتا ہے۔ اور تمام اقوام جن میں انبیاء معجزات لائے وہ ان اقوم کے علم اور ترقی سے آگے کی بات تھی اور معجزہ اسی لئے کہلاتا ہے کہ وہ علم اور عقل کو شکست دے دیتا ہے۔۔ جیسے حضرت صالح علیہ السلام کی قوم پہاڑوں کو تراش کر ان میں climent controlled مکان اور محل بناتے تھے۔ جس کے جواب میں حضرت صالح علیہ السلام اللہ کے حکم سے پہاڑ سے زندہ اونٹنی نکال لائے۔۔ جو ان کے بس کی بات نہیں تھی۔۔ اسی طرح حضرت ادریس علیہ السلام آسمانوں کی سیر فرماتے کیونکہ ان کی قوم کو astronomy, Astrology میں کمال رکھتے تھے۔۔ اور نبی کریم ﷺکا معجزہ قرآن جو ماضی حال اور مستقبل کے تمام علوم کو چیلنج کرتا رہا ہے اور کرے گا۔
اگر آپ اہرام مصر کے متعلق جدید تحقیق پڑھیں تو آپ کو اندازہ ہو گا کہ اہرام آسمانی بجلی کو محفوظ کرنا اور بجلی پیدا کرنے کے جنریٹرز تھے۔۔جس سے یہ قوم آسمانی بجلی کی طاقت کو قابو کرتے اور اس سے مختلف کام لیتے۔۔ اسی لئےجب موسی علیہ السلام کی قوم نے حلف لینے سے پہلے معجزہ کی شرط رکھی تو پہلے انہیں آسمانی بجلی گرا کر مار دیا گیا۔۔ پھر زندہ کیا گیا تاکہ انہیں یہ احساس ہو کہ بجلی گرنے یا بجلی کی سزا کے بعد زندہ کرنا فرعون کے بس کی بات نہیں۔۔ اور چونکہ انہوں نے یا ان کے آباو اجداد نے اہرام مصر کو تعمیر کرتے ہوئے 300 کلومیٹر دور سے 3 سے لیکر 10 ٹن تک کے پتھر لا ئے تھے، جس کے لئے انہوں نے گریوٹی یعنی کشش ثقل کو صفر کر کے ان پتھروں کو یہاں منتقل کیا تھا۔۔ لہذا جب موسی علیہ السلام انہیں اللہ کریم سے حلف و عہد لینے کے لئے لے گئے۔ تو اللہ کریم نے پورے کوہ طور کو ان کے سروں سے اوپر اٹھا کر انہیں حیران کر دیا۔
ترجمہ: یاد کرو وہ وقت، جب ہم نے طُور کو تم پر اٹھا کر تم سے پختہ عہد لیا تھا ( البقرہ 63)
ان تمام باتوں کو بطور تمہید بتانے کا مقصد یہ ہے کہ کس قدر علمی ترقی یافتہ قوم سے موسی علیہ السلام کا مقابلہ تھا جو خود کو فرعون لقب اور خدائی کے دعویدار کہلاتے تھے۔ اگر ٹائم ڈائیلشن، اور ٹائم ٹریول میں حضرت موسی علیہ السلام اور خضر علیہ السلام کے واقعہ کا ذکر نہ کیا جائے تو شائد ہم وقت میں سفر اور اس کے لوازمات کو نہ سمجھ سکیں۔۔لیکن ان سب باتوں کو سمجھنے سے قبل ہم جدید دنیا میں نافذ چند علمی تشریحات، تھیوریز اور جدید الفاظ سمجھنے کی کوشش کریں گے تاکہ قرآن مجید میں موجود واقعات کو جدید تشریحات سے سمجھنے یا brainstorming کا موقع ملے۔۔
● ورم ہول ،wormholes:
ویسے تو خلا میں wormholes کے تصور کو سمجھنے کے لئے بے شمار فلمیں اور ڈاکیومنٹریز بنائی گئی ہیں۔ لیکن عام فہم سے wormholes کے کانسیپٹ کو سمجھنے کے لئے ایک مرتبہ پھر سے ہم 2014 میں بنی فلم interstellar کی کہانی کی طرف چلتے ہیں ۔۔ جہاں ہماری زمین سے کروڑوں اربوں روشنی کے سالوں دور ایک دوسری دنیا میں جانے کے لئے کائنات میں موجود ایک شارٹ کٹ ( wormholes ) کو چنا جاتاہے اور جب سائنسدان وہاں کسی اور دنیا میں پہنچ جاتے ہین تو وہاں گزرنے والا ایک گھنٹہ ہماری زمین پر 7 سال کے برابر ہوتا ہے۔ اور وہاں بلیک ہول کے قریب سیارے میں گزرا ایک گھنٹہ ہماری زمین کے 80 سال کے برابر ہوتا ہے۔۔ ورم ہول کیا ہے ؟؟
"ورم ہول یا فلکیات میں سرنگ سپیس -ٹائم کی ایک باریک ٹیوب ہوتی ہے جو کائنات کے دور دراز خطوں کو آپس میں منسلک کر سکتی ہے اور وقت میں سفر ممکن بنا سکتی ہیں۔۔ کہا جاتا ہے کہ ایک ورم ہول کے کم از کم دو عدد منہ تو لازمی ہوتے ہیں جو آپس میں ایک مشترکہ حلق سے جڑے ہوتے ہیں اور اگر یہ ہول یا سرنگ قابل گزر ہو تو مادہ اس کے کسی ایک منہ سے داخل ہوکر اس کے حلق میں سے سفر کرتا ہوا دوسرے منہ تک پہنچ سکتا ہے۔ گو کہ ابھی تک کوئی ایسا مشاہداتی ثبوت نہیں کہ جو کسی ورم ہول کی موجودگی کو دکھا سکا۔ ہو" (ویکیپیڈیا )
اسے ورم ہول کیوں کہا جاتا ہے؟
" اس نام کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ کہ ایک سیب کو اگر ایک سیارہ یا کوئی اور قابل گزر فضائی کرہ تصور کیا جائے اور یہ فرض کیا جائے کہ ایک کیڑا اس کی سطح پر رینگ رہا ہے تو اس کیڑے کو سیب کے اوپر والے قطب سے نیچے کے قطب تک جانے کہ لیے سیب کی سطح پر رینگ کر جانے سے زیادہ فاصلہ طے کرنا پڑے گا بہ نسبت اس کے کہ وہ کیڑا سیب کے اوپر والے قطب سے سیب میں سوراخ کرتا ہوا سیب کے اندر سے ہوکر نیچے والے قطب تک چلا جائے، یہ راستہ (یعنی کیڑے کا بنایا ہوا سوراخ )، کیڑے کے لیے راہ مختصر (short cut) ہوگا۔ اور چونکہ طبیعیاتی تصور کے مطابق، فضاء میں موجود یہ مقامات یا مکانات بھی ایک راہ مختصر خیال کیے جاتے ہیں اسی لیے انکو کیڑے کے سوراخ یا ورم ہول سے تشبہ دی جاتی ہے۔"
● متوازی کائناتیں اور ان کی تھیوری: متعدد کائناتیں یا Multiverse (ابھی تک) تصوراتی متعدد کائناتیں ہیں جن میں ہماری کائنات بھی شامل ہے جو باہم مل کر سارے وجود کو تشکیل دیتے ہیں، متعدد کائناتیں بعض علمی نظریات کا نتیجہ ہیں جن میں بالآخر ان متعدد کائناتوں کا وجود لازمی قرار پاتا ہے،
1954ء میں پرنسٹن یونیورسٹی میں کے طالب علم Hugh Everett نے ایک بنیادی خیال پیش کیا کہ ہماری کائنات سے مشابہ متوازی کائناتیں موجود ہوسکتی ہیں اور ان ساری کائناتوں کا ہماری کائنات سے تعلق ہو سکتا ہے، وہ ہماری شاخ ہوسکتی ہیں جبکہ ہم دیگر کائناتوں کی شاخ ہوسکتے ہیں، ان متوازی کائناتوں میں ہماری جنگوں کا انجام اس سے قطعی مختلف ہو سکتا ہے جس سے ہم واقف ہیں۔. بہت ممکن ہے کہ ہماری کائنات کے ناپید انواع دوسری کائناتوں میں پھل پھول کر ترقی کر گئی ہوں، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ دوسری کائناتوں میں ہم انسان ناپید ہوچکے ہوں۔.!!
●اسٹرنگ تھیوری : سٹرنگ تھیوری (انگریزی: String theory) 1968 میں ''گیبریئل وینزیانو'' (Gabriel Veneziano) نے حادثاتی طور پر ایک تھیوری یعنی سٹرنگ تھیوری پیش کی جس کا دعویٰ ہے کہ ہماری کائنات اکیلی نہیں ہے بلکہ ایک ملٹی ورس کا حصہ ہے جس میں کھربوں اور کائناتیں بھی موجود ہیں۔اگر ایک سے زیادہ کائناتیں موجود ہیں تو کیا ہم ایک کائنات سے دوسری کائنات میں سفر کرسکتے ہیں؟ ایسا کرنا تقریباً ناممکن ہے – ایلس ان ونڈرلینڈ نامی کتاب سے ہمیں یہ امکان ملتا ہے کہ شاید ایک دن ہم کائناتوں کے درمیان ایک ورم ہول بنا سکیں – یہ ایک ورم ہول کا خاکہ ہے – ایک کاغذ لیجیے اور اس پر دو نقطے لگا دیجیے – ان دو نقطوں کے درمیان کم سے کم فاصلہ ایک سیدھی لکیر ہوگا – لیکن اگر ہم اس کاغذ کو تہہ کر سکیں تو شاید ان نقطوں کے درمیان ایک شارٹ کٹ دستیاب ہوسکے – اسی طرح ورم ہول سپیس ٹائم میں ایک شارٹ کٹ ہوتا ہے – ورم ہولز محض ایک مفروضہ نہیں ہیں بلکہ یہ آئن سٹائن کی مساوات کا ایک حقیقی حل ہے – سٹرنگ تھیوری بھی ورم ہولز کی پیش گوئی کرتی ہے –
اگر آپ مندرجہ بالا تینوں تھیوریز اور علوم کو سمجھ سکے ہیں تو میں آپ کو حضرت موسی علیہ السلام اور حضرت خضر علیہ السلام کے واقعہ کی جدید تشریح کی طرف لئیے چلتا ہوں
●: واقعہ خضر و موسی علیہ السلام ۔۔۔
اور جب موسٰی نے اپنے نوجوان ( لِفَتَىٰهُ) سے کہا کہ میں نہ ہٹوں گا یہاں تک کہ دو دریاؤں (مَجْمَعَ ٱلْبَحْرَيْنِ) کے ملنے کی جگہ پر پہنچ جاؤں یا سالہا سال ( حُقُبًا) چلتا جاؤں۔پھر جب وہ دو دریاؤں کے جمع ہونے کی جگہ پر پہنچے دونوں اپنی مچھلی کو بھول گئے پھر مچھلی نے دریا میں سرنگ( سَرَبًا) کی طرح کا راستہ بنا لیا۔پھر جب وہ دونوں آگے بڑھ گئے تو اپنے جوان سے کہا کہ ہمارا ناشتہ ( غَدَاۤءَنَاۖ) لے آ، البتہ تحقیق ہم نے اس سفر میں تکلیف اٹھائی ہے۔کہا!!! کیا آپ نے دیکھا جب ہم اس پتھر کے پاس ٹھہرے تو میں مچھلی کو وہیں بھول آیا، اور مجھے شیطان ہی نے بھلایا ہے ،کہ اس کا ذکر کروں، اور اس نے اپنی راہ سمندر میں عجیب طرح سے بنا لی۔کہا یہی ہے جو ہم چاہتے تھے، پھر اپنے قدموں کے نشان دیکھتے ہی الٹے پھرے۔پھر ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ کو پایا جسے ہم نے اپنے ہاں سے رحمت دی تھی اور اسے ہم نے اپنے پاس سے ایک علم سکھایا (لَّدُنَّاعِلْمًا) تھا۔اسے موسٰی نے کہا کیا میں تیرے ساتھ رہوں اس شرط پر کہ تو مجھے سکھائے اس میں سے جو تجھے ہدایت کا طریقہ سکھایا گیا ہے۔کہا بے شک آپ میرے ساتھ ہرگز صبر نہیں کر سکیں گے۔اور آپ صبر کیسے کریں گے اس بات پر جو آپ کی سمجھ میں نہیں آئے گی۔کہا ان شاء اللہ تو مجھے صابر ہی پائے گا اور میں کسی بات میں بھی تیری مخالفت نہیں کروں گا۔کہا پس اگر آپ میرے ساتھ رہے تو مجھ سے کسی بات کا سوال نہ کریں، یہاں تک کہ میں خود آپ کے سامنے اس کا ذکر کروں۔پس دونوں چلے، یہاں تک کہ جب کشتی میں سوار ہوئے تو (بندے نے) اسے پھاڑ دیا، (موسٰی نے) کہا کیا تو نے اس لیے پھاڑا ہے کہ کشتی کے لوگوں کو غرق کر دے، البتہ تو نے خطرناک بات کی ہے۔کہا کیا میں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر سکیں گے۔کہا میرے بھول جانے پر گرفت نہ کر اور میرے معاملہ میں سختی نہ کر۔پھر دونوں چلے، یہاں تک کہ انہیں ایک لڑکا ملا تو (بندے نے) اسے مار ڈالا، (موسٰی نے) کہا آپ نے ایک بے گناہ کو ناحق مار ڈالا، البتہ تو نے بری بات کی۔کہا کیا میں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر سکے گا۔کہا اگراس کے بعد میں آپ سے کسی چیز کا سوال کروں تو مجھے ساتھ نہ رکھیں، آپ میری طرف سے معذوری تک پہنچ جائیں گے۔پھر دونوں چلے، یہاں تک کہ جب ایک گاؤں والوں پر گزرے تو ان سے کھانا مانگا انہوں نے مہمان نوازی سے انکار کردیا پھر انہوں نے وہاں ایک دیوار پائی جو گرنے ہی والی تھی تب اسے سیدھا کر دیا، کہا اگر آپ چاہتے تو اس کام پر کوئی اجرت ہی لے لیتے۔کہا اب میرے اور آپ کے درمیان جدائی ہے، اب میں آپ کو ان باتوں کا راز بتاتا ہوں جن پر آپ صبر نہ کر سکا۔ سورہ الکہف 60 تا 78)
•●• ان آیات کا جدید علوم کی روشنی میں تشریح:
ویسے تو یہ (سورہ الکہف) تمام کی تمام وقت اور (مابعد از طبعیات) metaphysics سے بھر پور ہے ۔ مگر ان آیات میں صرف ان آیات کی جدید علوم کی روشنی میں تشریح کی کوشش کی جائے گی تاکہ یہ بات سمجھ آ سکے کہ یہ سفر کس نوعیت کا تھا۔
• سب سے پہلی بات یہ خوب اچھی طرح سے سمجھ لیں کہ یہ سفر اللہ کریم کے حضرت موسی علیہ السلام کے لئے عجائبات کا سفر ہے۔ جس میں کئی باتیں شاید ہی دنیا کبھی سمجھ سکے کیونکہ موسی علیہ السلام ان 5 اولوالعزم انبیاء میں سے ہیں جن کے درجات کا قران نے خود اعتراف کیا ہے۔ لہذا یہ سفر معجزات سے بھی آگے کا معاملہ جس میں اللہ کریم اپنے عظیم نبی کو کچھ خاص باتیں مشاہدہ کرانا چاہتے ہیں۔
• مندرجہ بالا ترجمہ میں جن جن الفاظ کے آگے ان کی عربی بھی تحریر کی ہے۔۔ ان پر آپ غور کریں۔ ان الفاظ کی جدید تشریح کچھ یوں ہے۔۔
1۔لِفَتَىٰهُ (اپنے نوجوان کو/ غلام کو/ خادم کو) نوجوان سے مراد حضرت یوشع بن نون علیہ السلام ہیں جو موسیٰ علیہ السلام کے وفات کے بعد ان کے جانشین بنے۔( یہ اسرائیلی روایات سے لیا گیا ہے۔ جس میں یہ نوجوان تھے اور حضرت موسی علیہ السلام ادھیڑ عمر یا بوڑھے ہو چکے تھے۔۔اور اسرائیلیات میں ان کی شان میں بہت فضولیات بکی گئی ہیں کہ یہ حضرت موسی کو ان کی آخری عمر میں شدید ڈانٹتے تھے جو کہ کسی نبی کی شان کے خلاف ہے۔۔ لہذا قران نے انہیں اس طرح مخاطب کیا ہے جیسے کسی غلام کو کہا جاتا ہے۔ لیکن قرآن نے یہاں ان کو نوجوان یا غلام لڑکا کہہ کر اس شک کو ختم کیا ہے بلکہ اس واقعہ کا وقت بھی مقرر کیا ہے کہ یہ تقریبا حضرت موسی علیہ السلام کے بڑھاپے کے قریب کا واقعہ ہے۔
2۔مَجْمَعَ ٱلْبَحْرَيْنِ : دو بحروں کے ملنے کی جگہ۔۔
اس مقام کی تعیین کسی یقینی ذریعہ سے نہیں ہو سکی تاہم قیاس کیا جاتا ہے کہ اس سے مراد صحرائے سینا کا وہ جنوبی راستہ ہے جہاں خلیج عقبہ اور خلیج سویز دونوں آکر ملتے ہیں اور بحر احمر میں ضم ہو جاتے ہیں۔ دوسرے مقامات جن کا ذکر مفسرین نے کیا ہے ان پر سرے سے مجمع البحرین کی تعبیر ہی صادق نہیں آتی۔ ( تفسیر احسن البیان ازحافظ صلاح الدین یوسف)
یعنی وہاں قریب قریب ایسی کوئی جگہ نہیں تھی جہاں دو بحروں کا سنگم ہو ۔۔ تو پھر یہ بحر دو دنیاوں کا سنگم ہو سکتا ہے ۔۔جسے متوازی دنیا parallel universe کہا جا سکتا ہے۔۔ کیونکہ ترکیہ میں اس مقام کو بھی مرج البحرین کہا جاتا ہے۔ جہاں دو اہم ہستیوں کی پہلی ملاقات ہوئی جن میں مولانا روم جو شریعت، و فقہ کے عظیم عالم اور قاضی القضاء ( چیف جسٹس) تھے ۔ اور حضرت شمس تبریز جو روحانیت کے سورج تھے ۔ اسی طرح ہماری بول چال میں بحر ظلمات ( اندھیروں کا سمندر) یا بحر نور ( نور کا سمندر) استعمال ہوتا ہے ۔۔ علامہ اقبال نے فرمایا۔
دشت تو دشت ہیں، دریا بھی نہ چھوڑے ہم نے
"بحرِ ظلمات "میں دوڑا دیے گھوڑے ہم نے
•اسی لئے حضرت موسی علیہ السلام نے لفظ "حقبا" استعمال فرمایا ، جس کے ایک معنی 70یا 80 سال اور دوسرے معنی غیر معین مدت کے ہیں "سوچنے کی بات یہ ہے کہ حضرت موسی علیہ السلام نوجوانی سے مدائن اور مصر میں سفر فرماتے رہے۔۔ بحر کو پھاڑ کر قوم کو صحرا میں لے گئے ۔۔ تو کیا اپنے علاقے سے یہ شناسائی نہ تھی کہ مرج البحرین یعنی دو سمندروں کا ملاپ کہاں ہے ۔۔ جبکہ آپ نے فرمایا کہ میں چلتا ہی رہوں گا بھلے سے مجھے 80 سال بھی چلنا پڑے۔۔ یہ 80 سال اس زمین پر سفر کے لئے بہت زیادہ ہیں البتہ بلیک ہول تک جانے کے لئے کم یا کسی دوسری دنیا میں جہاں کا ایک گھنٹہ یہاں کے اسی 80 سال ہوں ۔۔ اب اس سے آگے جب آپ اس جگہ پہنچے جہاں دو بحر مل رہے تھے۔ تو آپ نے ان پر توجہ نہ دی۔۔ اب ذرا سوچیں جہاں دو عظیم سمندر مل رہے ہوں وہ کیسی مشہور جگہ ہو گی۔۔ لیکن نہ آپ نے اس جگہ کو توجہ دی اور نہ آپ کے ساتھ غلام نے۔۔ آپ دونوں نے وہاں آرام کیا اور آگے بڑھ گئے۔ لہذا یہ ثابت ہوا کہ وہ جگہ metaphysical تھی ناکہ زمین پر موجود اگر آپ یوشع بن نون کے ساتھ تھے تو یہ آپ کے حیات کا آخری دور تھا۔ اور آپ کو اپنے علاقے کا جو ابھی صرف چلتے ہوئے دوپہر تک کے کھانے کے وقت میں ہی آگیا ہو کا علم کیسے نہیں تھا۔۔ اس کی گواہی اگلی آیت یوں دیتی ہے۔۔ کہ حضرت موسی علیہ السلام نے جو مچھلی ناشتہ یا دوپہر کے کھانے کے لئے بھونی تھی وہ زندہ ہو کر سرب میں چلی گئی۔ (غَدَاۤءَنَاۖ) کے معنی دوپہر یا دوپہر سے پہلے کے کھانا۔ جب غلام کو آپ نے کھانا لانے کا کہا تو اس نے بتایا کہ وہ تو یہ بتانا بھول گیا کہ جہاں ہم سستانے لیٹے تھے وہاں مچھلی عجیب طریقے سے زندہ ہو کر سرب میں چلی گئی ۔ ( میں یہاں مچھلی کے پانی میں جانے کی بجائے سرب میں جانے کا ذکر کر رہا ہوں۔۔ کیونکہ نہ وہ زمینی دریاؤں کا سنگم تھا اور نہ مچھلی پانی میں گئی تھی۔۔ وہ دو انتہاؤں کا سنگم تھا جہاں مچھلی سرب میں چلی گئی )
• سرب کا معنی ( مچھلی زندہ ہو کر سراب بناتے ہوئے بحر میں داخل ہو گئی)
سرب کا معنی ہے سرنگ، اس کی جمع اسراب ہے۔ علامہ راغب اصفہانی نے لکھا ہے حدود میں جانے کو سرب کہتے ہیں اور سرب اس جگہ کو کہتے ہیں، جو ڈھلوان مقام میں ہو۔ سرب کا معنی گزرنا بھی ہے اور بہنا بھی ہے۔
مجاہد نے کہا سرب کا معنی ہے راستہ، فتادہ نے کہا پانی جم کر سرنگ کی طرح بن گیا تھا اور جمہور مفسرین نے کہا مچھلی فارغ جگہ میں چل رہی تھی اور حضرت موسیٰ مچھلی کے پیچھے پیچھے چل رہے تھے، حتیٰ کہ وہ سمندر میں ایک جزیرہ کے راستہ کی طرف آپ کو لے گئی اور اس جزیرہ میں آپ نے حضرت خضر کو پایا اور ظاہر روایات اور ظاہر قرآن مجید کا تقاضا یہ ہے کہ حضرت موسیٰ نے حضرت خضر کو ساحل سمندر پر پایا۔(تبیان القرآن – سورۃ نمبر 18 الكهف آیت نمبر 61)
اب سرنگ کو آپ ورم ہول سمجھ سکتے ہیں جو ایک کائنات سے دوسری کائنات میں جانے کا ایک مختصر راستہ یا دروازہ ہو۔ یا زمین پر ہی مصر سے کسی دور دراز کے علاقے میں پہنچانے والی سرنگ کیونکہ اس سے آگے جو کچھ حضرت خضر علیہ السلام نے کیا یعنی کشتی کا سفر،جو لازمی بات ہے ایک جگہ سے دوسری جگہ چند گھنٹے کا تو ہوگا۔ پھر ایک گاوں میں جانا اور وہاں ایک بچے کو ڈھونڈ کر مار دینا ۔ پھر ایک اور بستی میں جانا اور یہاں کھانا مانگنا ۔۔ یعنی یہ تمام واقعات اس سراب( سرنگ) ورم ہول سے گزر کر جہاں حضرت موسی علیہ السلام کے دوپہر کا کھانے میں مچھلی کھانا چاہ رہے تھے وہ تو سرب میں چلی گئی تھی ۔۔ اور باقی تمام سفر طے ہو کر جو کہ ابھی دن دن میں ہی ہو رہا تھا یہ تین مسافتیں ایک دریا سے کشتی کا سفر پھر ایک گاؤں میں جا کر بچہ قتل اور پھر ایک دوسرے گاؤں میں جا کر کچھ کھانے کو مانگنا اور ابھی سورج ڈوبا نہ ہو نہائت معنی خیز ہے۔۔ ۔۔ وہاں ایک مکمل دیوار کی تعمیر کرنا جو یتیم بچوں کی تھی اور اسقدر مضبوط کرنا کہ بچوں کے بالغ ہونے تک وہ نہ گرے۔اور یہ جسمانی طور پر بنائی گئی کیونکہ موسی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ یہ دیوار بنانے کی مزدوری میں ہم کھانا اور پانی طلب کر سکتے تھے۔۔ اور ابھی رات نہیں ہوئی تھی ۔۔ کہ حضرت خضر علیہ السلام نے انہیں تینوں باتوں کا جواب دے کر واپس رخصت بھی فرما دیا۔۔
پورے واقعہ میں کہیں بھی یہ آشارہ نہیں ملتا کہ موسی علیہ السلام اور خضر علیہ السلام ایک دو دن ساتھ رہے۔۔ بلکہ یہ تمام طویل ترین کام دن کے ایک حصے میں ہوئے۔ جس طرح رات کے ایک حصے میں معراج پاک ۔ لہذا یہ سفر ٹائم ٹریول تھا جو کسی دوسری کائنات میں تھا یا ہماری زمیں کے کسی دور دراز علاقے میں جہاں ابھی تک لوگ فرعون اور اس کی قوم کو تباہ کرنے والے حضرت موسی علیہ السلام کو نہین پہچانتے تھے۔۔ اب اللہ کی شان ہے کہ زمین پر ہی دو کائناتوں یا زمین کے دو دور دراز حصوں کو ملانے والی سرنگ پیدا کر دی ۔۔ کیونکہ اس واقعہ میں مچھلی کا زندہ ہو کر سراب یا سرنگ میں سفر یہ اشارہ تھا کہ حضرت موسی علیہ السلام اس کا پیچھا فرماتے جبکہ غلام بھول گیا لہذا انہیں واپس آنا پڑا اور خضر علیہ السلام کو اس بحروں کے سنگم پر انتظار کرتا ہوا پایا۔۔
خلا میں آج سائنسدان اس مفروضے کو سوچ رہے ہیں اس کامشاہدہ نہی کر پائے کہ ورم ہول کیسا ہو گا اور وہ ہماری کائنات کے کس سرے پر کھلے گا۔ جبکہ اللہ کریم نے اسی زمیں میں دوپہر تک کی مسافت میں ہی وہ سنگم جو دو کائناتوں یا دو ڈائمنشنز کو ملا رہا تھا کھل گیا۔ اب یہاں ایک بات سمجھ لینا ضروری ہے کہ ٹائم اللہ کی مخلوق ہے۔ کہیں تو لمحے صدیاں بن جاتے ہیں ہ۔۔ اور کہیں صدیوں کا سفر لمحوں میں ہو جاتا ہے۔ جیسے خواب میں ہم پورا ایک واقعہ یا کسی معاملے کو جو دنوں پر محیط ہوتا ہے اسے دیکھتے ہیں جبکہ ابھی ہم ایک گھنٹہ بھی نہیں سوئے ہوتے ۔۔
ترجمہ: فرمائے گا تم زمین پر گنتی کے کتنے برس رہے۔کہیں گے ایک دن یا اس سے بھی کم رہے ہیں پس آپ گنتی کرنے والوں سے پوچھ لیں۔ ( المومنون112،113)
اس سلسلے میں ایک فلم inception 2010 دیکھنے کے قابل ہے ،جس میں خواب میں جا کر معاملات سدھارے جاتے ہیں ۔
اسی طرح ہمارے سندھ کے عظیم صوفی بزرگ حضرت عثمان مروندی المعروف لعل شہباز قلندر سے ایک واقعہ مشہور ہے کہ ایک ریچھ کو نچانے والے سے ایک دن آپ نے فرمایا کہ تماشہ دکھاوا تو اس نے اپنا ریچھ نچایا۔۔ پھر آپ نے کہا میں تمہیں ایک تماشہ دکھاوں؟ تو اس نے ہاتھ جوڑ کر عرض کی ضرور سائیں۔۔ تو آپ ایک چٹان سے ہاتھ جوڑ کر کھڑے ہو گئے اور کہا اس کے نیچے سے گزرو۔۔ جب وہ گزرا تو اس کی دنیا تبدیل ہو گئی۔ اور وہ ایک ایسے ملک پہنچا جہاں کا وہ بادشاہ بنا پھر شادی کی بچے ہوئے۔ اس دوران 20 یا 30 سال گزر گئے اور ایک دن شکار کھیلتے ہوئے وہ اسی چٹان کے قریب سے گزرا تو واپس اسی دنیا میں آگیا اور ابھی چند لمحے ہی گزرے تھے۔۔ اس واقعہ کی کوئی سند نہیں۔۔ لیکن یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ضرور ہے کہ ہندو،مسلمان ،عیسائی یہودی اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ کچھ افراد کو اللہ کریم واقعی جب خلیفہ بناتے ہیں تو اپنی مخلوق پر انہیں قابو عطا فرما دیتا ہے۔۔ اور "وقت" رب کی ایک مخلوق ہے۔۔جس سے اللہ کریم نے اپنی تخلیق کو باندھا ہوا ہے۔
یہ ان واقعات اور سفر میں سے چند کی مفروصاتی تشریح ہے جو حضرت موسی علیہ السلام جیسے جلیل قدر نبی کو اللہ نے کرایا۔ اس کی اہمیت اور ماورائے عقل ہونا اسی قدر ہے جس طرح معراج پاک کا سفر ،بس فرق صرف یہ ہے کہ حضرت موسی علیہ السلام کا سفر میں اس کائنات یا آسمان کے نبی یا بزرگ ( خضر علیہ السلام )ہمرکاب تھے جہاں علم تکوین کی شریعت کار فرما تھی اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ وہی چوتھا آسمان ہو جہاں آقاﷺنے معراج میں ان سے ملاقات فرمائی۔۔
اور آقاﷺ کے سفر معراج میں آپ کے خادم جبرائیل امین تھے اور سفر قاب قوسین سے آگے کا تھا ۔۔ موسی علیہ السلام کے منتظر تو حضرت خضر علیہ السلام تھے جبکہ آقاﷺ کے منتظر خالق ۔۔۔۔کیونکہ
بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر
واللہ و رسولہ اعلم بالصواب