ایسے میں جب آئی ایم ایف کا اسٹاف لیول معاہدے کے ختم ہونے میں صرف 2 روز باقی تھے اور قوم مایوسی اور بے یقینی کا شکار تھی، حکومت مخالفین کی افواہوں میں تیزی آگئی تھی کہ اب پاکستان کو ڈیفالٹ ہونے سے کوئی نہیں بچاسکتا،آئی ایم ایف معاہدے کی بحالی کے اعلان نے جہاں ایک طرف قوم کے چہروں پر خوشیاں بکھیر دیں تو دوسری طرف مخالفین کو مایوسی اور شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔ معاہدے کی بحالی میں وزیراعظم شہباز شریف کی آخری دنوں میں فرانس میں آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا سے ملاقات نتیجہ خیز ثابت ہوئی ۔وزیراعظم نے اس کا کریڈٹ آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار کوبھی دیا۔ مجھے دوران حج یہ خبر ملی تو میں نے وزیراعظم کو مبارکباد دی،انہوں نے اِسے ٹیم ورک کا نتیجہ قرار دیا۔
وزیر اعظم شہباز شریف جب 22 اور 23 جون کو پیرس میں منعقدہ ’’نیو گلوبل فنانشل پیکٹ‘‘ سربراہی کانفرنس میں شرکت کیلئے گئے تو وہاں آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا بھی موجود تھیں۔ سری لنکا کے صدر رنیل وکرما سنگھے نے کرسٹالینا جارجیواسے ملاقات کر کے انہیں وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات کیلئے قائل کیا۔ وزیر اعظم نے کرسٹالینا جارجیوا سے ملاقات کر کے غلط فہمیوں کو دور کیا، انہیں یقین دلایا کہ ایکسٹرنل فنانسنگ گیپ، جو آئی ایم ایف کی سب سے بڑی شرط تھی، اسے دوست ممالک چین، سعودی عرب اور یو اے ای نے پورا کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے،یوں معاہدے کی بحالی کی راہ ہموار ہوئی۔ چین نے 3.5 ارب ڈالر، سعودی عرب نے 2 ارب ڈالر اور یو اے ای نے ایک ارب ڈالر دے کر آئی ایم ایف کی ایکسٹرنل فنانسنگ گیپ کی اہم شرط کو پورا کیا جس پر پاکستانی قوم انکی احسان مند رہے گی۔ معاہدے کے نتیجے میں آئی ایم ایف سے موصول 1.2 ارب ڈالر کی رقم گوکہ اتنی بڑی نہیں مگر آئی ایم ایف معاہدے کی بحالی سے دوسرے عالمی مالیاتی اداروں سے فنڈز ملنے کی راہ ہموار ہوگئی ہے جس کے بعد پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کچھ ماہ میں 14 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گے۔
یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اگر وزیراعظم شہباز شریف کی آئی ایم ایف سربراہ سے ملاقات نہ ہوتی تو معاہدہ بحال نہ ہوپاتا اور پاکستان ڈیفالٹ کرجاتا ،جسکے نتیجے میں ہم شدید معاشی بحران کا شکار ہوجاتے، روپے کی قدر مزید گرجاتی، پاکستانی بینکوں کا لیٹر آف کریڈٹ (LC) دنیا میں کہیں قابل قبول نہ ہوتا اور مہنگائی ناقابلِ برداشت ہو جاتی۔ ساتھ ہی یہ مسلم لیگ (ن) کو شدید سیاسی نقصان اٹھانا پڑتا۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ پی ٹی آئی اور اسکی قیادت نےاس ضمن میں کوئی مثبت کردار ادا نہیں کیا بلکہ آئی ایم ایف کے نمائندوں سے ملاقات میں عمران خان نےمطالبہ کیا کہ معاہدے کی بحالی کو عام انتخابات سے مشروط کردیا جائے۔ عمران دور حکومت میں وزیر خزانہ شوکت ترین ،پنجاب اور خیبرپختونخواکے وزرائے خزانہ کو ٹیلیفون پر یہ ہدایات دی گئی تھیں کہ وہ آئی ایم ایف معاہدے کو سبوتاژ کریں ۔
آئی ایم ایف معاہدے سے وزیراعظم شہباز شریف کے سیاسی قد میں بھی اضافہ ہوا ہے کہ وہ مشکل حالات میں بھی ناامید نہیںہوتے اور تحمل مزاجی سے معاملات کو سلجھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ وزیراعظم بننے سے قبل وہ پنجاب میں اچھے ایڈمنسٹریٹر کے طور پر جانے جاتے تھے اور وزیراعظم بننے کے بعد انہوں نےثابت کردیا کہ وہ سیاسی شعور رکھنے والے اچھے حکمران بھی ہیں جن کے دور حکومت میں پاکستان کے چین، سعودی عرب اور ترکی سے تعلقات ،جو جمود کا شکار تھے، میں گرمجوشی دیکھنے میں آئی ہے۔
مسلم لیگ (ن) نے اس وقت اقتدار سنبھالا جب پاکستان ڈیفالٹ کے قریب تھا اور پوری دنیا میں مہنگائی بڑھ رہی تھی، ایسے مشکل وقت میں وزیراعظم شہباز شریف نے غیر مقبول عوامی فیصلے کرکے ریاست کو سیاست پر ترجیح دی اور مخالفین کی تنقید برداشت کی لیکن اب ان مشکل فیصلوں کے ثمرات سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں، مہنگائی میں بتدریج کمی آرہی ہے، روپیہ مستحکم ہورہا ہے، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں واضح کمی واقع ہو رہی ہے اور ان شاء اللہ وہ دن دور نہیں جب وزیراعظم شہباز شریف مہنگائی کا جن قابو کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔