پاکستان کو ایس پی فضل عباس ہرل جیسے فرض شناس پولیس آفیسرکی ضرورت   307

پاکستان کو ایس پی فضل عباس ہرل جیسے فرض شناس پولیس آفیسرکی ضرورت  

ایک کیس کے سلسلے میں ڈی پی او آفس لیہ جانے کا اتفاق ہوا۔ایک دوست نے بتایا کہ یہاں ایک ایساقابل،  سنجیدہ اور سُلجھا ہوا پولیس آفیسر بطور ایس پی انوسٹیگیشن تعینات ہے ۔تجسس بڑھا کہ ملنا چاہیئے۔ملا توپہلی ملاقات میں ان گنت خوبیوں کا مالک پایا   اخلاق اور ملنساری نے دل موہ لیا ملے ہوئے عرصہ گزر گیااس دوران عوامی مقامات پر جب بیٹھنے کا موقع ملا تو ہر ایک نے ان کی فرض شناسی اور ایمانداری کی تعریف کی اُن کے کام کرنے کے طریقے نے مجھے اتنا متاثر کیا کہ میں قلم اُٹھانے پر مجبور ہوگیا _  ویسے بھی یہ ایمان کی علامت ہے کہ اگرآپ کسی میں کوئی خوبی دیکھیں  تو اُسے سراہیں اور  دوسروں تک پہنچائیں تا کہ آپ کی نیکیوں میں اضافہ ہو جائے ۔ بُلند قد۔۔ خوبرو چہرہ اور سڈول جسم پر خاکی وردی اور کا ندھوں پر سجے ستارے دیکھنے والے کا دل موہ لیتے ہیں _ میری مُراد  لیہ میں حال ہی میں تعینات ہونے والے ایس پی انوسٹیگیشن فضل عباس ہرل سے ہے _
                                          پاتے ہیں کچھ گلاب چٹانوں میں پرورش
                                                              آتی ہے پتھروں سے بھی خوشبو کبھی کبھی

ایس پی انوسٹیگیشن فضل عباس ہرل کا علاقہ چنیوٹ ہے،نیک اور صالح ہونے کے ساتھ ساتھ وہ  بے پناہ صلاحیتوں کے مالک بھی ہیں 
ایس پی انوسٹیگیشن فضل عباس ہرل  نے  پولیس محکمہ کو بحیثیت انسپکٹر جوائن کیا ۔اور اپنی سروس میں دور دراز کے علاقہ جات میں اپنی  پیشہ وارانہ خدمات انجام دیں، یہ وہی وقت تھا جب سماج دشمن عناصر نے پوری ریاست کو بالعموم اورکئی شہروں  کو بالخصوص اپنی لپیٹ میں جکڑ رکھا تھا  لیکن انہوں نے وہاں بھی ایک نڈر اور دلیر پولیس آفیسر کی طرح اس کا مقابلہ کیا  یہ بہت کم دیکھنے میں آتا ہے کہ کسی پولیس آفیسر کو لوگ جانے کے بعد بھی یاد رکھیں۔  ورنہ انکھ سے اوجھل دماغ سے اوجھل والی مثال صادق آتی ہے ۔وہ جہاں بھی تعینات رہے وہاں کے عوام آج بھی اُن کے دور تعیناتی کو گولڈن پرییڈ مانتے ہیں یہی ایک کامیاب آفیسر کی پہچان ہوتی ہے کہ جانے کے بعد بھی وہ لوگوں کے دلوں پر اپنی چھاپ چھوڑ جائے - جس محکمہ،دفتر یا آفیسر کے دور میں عوام خوش نہ ہو  اس کے کام کرنے کے طریقہ سے مطمئن نہ ہو اُسے خراب گورننس سے تعبیر کیا جاتا ہے جبکہ موجودہ دور میں گُڈ گورننس کو کافی اہمیت دی جا رہی ہے جس کا مطلب ہے کہ کسی بھی محکمہ کے آفیسر سے آپ کی شکایت کا فوری ازالہ ہو اور فوری انصاف ملے اس ضمن میں ایس پی انوسٹیگیشن فضل عباس ہرل کے متعلق میرا یہ مشاہدہ ہے کہ اُن کے پاس  آنے والا ہر کیس چاہے وہ گھریلو جھگڑے کا ہو ،وہ زمین جائیداد کا کیس ہو یا منشیات سے متعلق ۔وہ فوری طور پر اپنے سورسز سےجائے وقوع پر تحقیقات کااقدام اٹھاتے ہیں جس سے سائل کو اطمینان ہو جاتا ہے کہ اُس کی درخواست پر بغیر وقت ضائع کئے کاروائی ہوئی ہے ۔ان کا ظرف ہے کہ اس کا کریڈٹ وہ خود نہیں لیتے بلکہ اپنے معاون عملے کو دیتے ہیں جو اُن کے ہر حکم کو لبیک کہنے کو ہر وقت تیار رہتے ہیں۔ جیسا کہ ہم سب بخوبی جانتے ہیں کہ موجودہ دور میں اندھیرے میں کسی موقع واردات پر جانا خطرے سے خالی نہیں ہے لیکن فضل عباس ہرل کی یہ خوبی ہے کہ وہ رسک اُٹھا کر ایک شکایتی ٹیلی فون پر کاروائی عمل میں لاتے ہیں جس سے عوام کے دل میں اُن کے لئے عزت اور احترام کا در وا ہوجاتا ہے۔
کئی کیسوں میں  انہوں نے اپنے تجربے اور قابلیت سے دونوں پارٹیوں کو آمنے سامنے بٹھا کر آپسی افہام وتفہیم اور صُلح صفائی سے موقعے پر ہی حل کیا اور اُن کو اس بات کا احساس دلایا کہ عدالتی طوالت میں پھنس کر اپنا وقت ضائع کرنے سے بہتر ہے بیٹھ کے بات کی جائے یہ وہی افسر کرسکتا ہے جس کو خود پر اعتماد ہو، اور اپنی باتوں سے جو دوسروں کو  قائل کرنے کا ہُنر جانتا ہو۔
اس کے علاوہ، خواتین پر گھریلو تشدد کا معاملہ ہو یا  اقدام خودکشی کا کیس ہو یا جہیز کے متعلق شکایت، تمام معاملات کی چھا ن بین کرکے ملزمان کے خلاف عدالت میں چارج شیٹ کرکے ہی دم لیتے ہیں _
آج کے دور میں جہاں منشیات کی لعنت نے نوجوان نسل کو اپنی لپیٹ میں بُری طرح جکڑ رکھا ہے۔ اور آئے دن کوئی نہ کوئی ماں کرلاتی نظر آتی ہے  اور گلی کوچوں میں انسانیت کے دشمن اس کاروبارکے عروج کے پر پھیلائے ہوئے ہیں ۔والدین اس لت سے بے حد پریشان ہیں اور اس جال سے باہر نکلنے کی جتن کر رہے ہیں ۔ اس سماجی مسئلے کے ساتھ نبٹنا آج سب بڑا اور کھٹن چیلنج ہے ۔ حالانکہ  غیر سرکاری تنظیمیں اس کا قلع قمع کرنے میں ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔  اس حوالے سے لیہ کے قصبات سے عوام کو یہ شکایت رہتی تھی کہ یہاں شام کا اندھیرا پھیلتے ہی سرعام نوجوان سرعام نشیلی چیزوں کا استعمال کرتے تھے یا نامکمل تعمیرات میں گھس کر جُوا کھیلتے، آج قصبات،گاؤں اور شہروں کے سرکردہ لوگ یہ مانتے ہی کہ ایس پی انوسٹیگیشن فضل عباس ہرل کے آنے سے اس صورت حال میں بہتری آئی ہے، حالانکہ ابھی اُسے چارج سنبھالے تھوڑا ہی عرصہ ہوا ہے ۔ کیونکہ  وہ تجربہ  اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر ہر مسئلے کو حل کرتے ہیں _ عوام سے بات کرنے کے بعد معلوم ہوا کہ ایس پی انوسٹیگیشن فضل عباس ہرل  نشہ کرنے والے افراد کو والدین کے روبرو  ایسی کونسلنگ کرتے ہیں کہ نوجوان اپنے مستقبل کی فکر میں جُت کر اس لت سے دوری اختیار کرتے ہیں جب بھی کوئی کیس پولیس اسٹیشن میں آتا ہے تو اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ قصور وار فرد اونچی آواز میں بات کر کے خود کو بے قصور  ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے جبکہ شکایت کندہ اپنی باری کا انتظار کرتے رہ جاتا ہے لیکن ایسے معاملات میں ایس پی انوسٹیگیشن فضل عباس ایک ماہرِ نفسیات کی طرح اُس کی باتیں سُن کر اُس کے چہرے پر نمودار ہونے والے تاثرات کا بغور مطالعہ کرنے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کرتا ہے کہ کون سچ بول رہا ہے اور کون جھوٹ پر کھڑا ہے ۔ایسے کئی کیس انہوں نے اپنی سوجھ بوجھ سے سُلجھائے کہ جھگڑا کرنے والی دونوں پارٹیاں باہم شیر و شکر ہوکر نکلتی ہیں _
سماج لوگوں سے بنتا ہے جس میں اچھے اور بُرے ہر طرح کے لوگ شامل ہوتے ہیں اور  پولیس کا واسطہ ہر طرح کے لوگوں سے پڑنا لازمی ہے چونکہ پولیس والا بھی اسی سماج کا ایک حصہ ہوتا ہے اور اُسے انہی لوگوں میں رہنا اور جینا مرنا ہوتا ہے۔

بشکریہ اردو کالمز