گذشتہ روز پاکستان کی تاریخ کا ایک ایسا منفردواقعہ پیش آیا جس نے دنیاخصوصا انڈیا کو دکھا دیا کہ کس طرح پاکستان کے ہر شہری کا دل پاک فوج کے ساتھ دھڑکتا ہے۔نیشنل اور انٹرنیشنل میڈیا پردنیا بھر کے لوگوں نے افواج پاکستان کے ریسکیو آپریشن کے مناظر لائیو دیکھے اس سے قبل ایسے مناظر ہالی وڈ فلموں میں دیکھنے کوملتے تھے جو حقیقی نہیں ہوتے بلکہ ان میں سپیشل افیکٹس کاا ستعمال کیا جاتا ہے۔ہوا کچھ یوں کہ خیبرپختونخواہ کے ضلع بٹگرام کے علاقہ آلائی پاشتومیں منگل کی صبح آٹھ بجے سات طلباء اورایک استاد اپنے گاوں سے سکول جانے کے لئے کیبل کار جسے مقامی لوگ ڈولی کہتے ہیں میں سوار ہوئے توجھانگری ندی کے اوپر سے گذرتے ہوئے کیبل کار کے تین میں سے دو تار ٹوٹ گئے۔کیبل کار ایک تار کے اوپر تقریبا دو ہزار میٹر کی بلندی پرلٹک گئی اور ہوا میں جھولنے لگی۔خوش قسمتی سے اس اچانک حادثہ کے دوران کیبل کار میں سوار طلباء اور استاد نیچے گرنے سے محفوظ رہے لیکن ہوا میں لٹکی کیبل کار میں بچ جانے والے طلباء اور استاد ابھی بھی محفوظ نہیں تھے کیونکہ کسی بھی وقت اکیلی تار ٹوٹ سکتی تھی یا کیبل کار کے لاک جو اکیلی تار کے ساتھ منسلک تھے وہ ٹوٹ سکتے تھے جس کی وجہ سے یہ امید نہیں کی جاسکتی تھی کی کیبل کار میں سوار افراد زندہ بچ بھی پائیں گے یا نہیں؟ بہرحال جونہی یہ حادثہ رونما ہوا تو پاک فوج کی باصلاحیت ٹیمیں ہمیشہ کی طرح فورا وہاں پہنچیں اور ریسکیو آپریشن شروع کردیا۔دو ہزار میٹر کی بلندی پر لٹکی کیبل کار میں بدحال افراد،نیچے ندی،پتھریلی زمین اور اطراف میں اونچے پہاڑ،ایسے میں ریسکیو آپریشن ایک بہت بڑا چیلنج بن گیا۔پوی قوم اور ماوں نے پاک فوج کے ریسکیو آپریشن کی کامیابی کے لئے دعا ئیں مانگنا شروع کردیں۔ریسکیو آپریشن کے دوران ذرا سی غلطی نہ صرف کیبل کار میں پھنسے افراد کی جان لے سکتی تھی بلکہ ہوا ئی آپریشن میں شامل ہیلی کاپٹر اور کمانڈوکو بھی نقصان پہنچنے کا اندیشہ تھا اسی لئے ریسکیو آپریشن میں جلد بازی سے کام لینے سے اجتناب کیا گیا۔ صبح آٹھ بجے سے رات گئے تک ہوائی و زمینی متبادل ریسکیو آپریشن جاری رہا جس میں پاک فوج کے ساتھ مانسہرہ بالا کوٹ نور ویلی میں نصب دنیا کی بلند اور ایشیاء کی سب سے لمبی زپ لائن کے تین امدادی ماہرین نے بھی حصہ لیا۔ پاک فوج کے سپیشل سروسز گروپ کی سلنگ ٹیم اورپاک فضائیہ نے جس مہارت کے ساتھ کیبل کار میں پھنسے افراد کوپہلے خوراک اور ادویات فراہم کیں اور بعدازاں جس طرح سات طلباء اور ایک استاد کو ہوائی اور زمینی آپریشن کرکے ریسکیو کیا اس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔ پاکستان کی تاریخ کا یہ ایک ایسا منفرد ریسکیو آپریشن تھا جس میں پاک فوج کے ساتھ پوری قوم نے روحانی حصہ لیا۔میں نے کچھ عرصہ پہلے ایک کالم لکھا جس کا عنوان تھاکہ”قوم کے دل پاک فوج کے ساتھ دھڑکتے ہیں“ کالم کو پڑھ کر چند قارئین نے طنزیہ پوچھا کہ کس طرح قوم کے دل پاک فوج کے ساتھ دھڑکتے ہیں؟میں نے کہا کہ اسوال کے جواب کے لئے انتظار کریں۔گذشتہ روز ہونے والا رآرمی یسکیو آپریشن ان کے سوال کا جواب تھاکہ جب ہوا میں معلق کمانڈو بار بار کیبل کار کی طرف بڑھنے کی کوشش کرتا تھا تو قوم کے دل تیزی سے دھڑکنا شروع کردیتے تھے۔دنیا نے سوشل میڈیاپردیکھا کہ کس طرح پوری قوم پاک فوج کے لئے دعائیں مانگ رہی ہے۔اس ریسکیو آپریشن کو دیکھ کرپاک وطن کے دشمن ایک مرتبہ پھرجان گئے ہیں کہ وہ کتنی ہی سازشیں کیوں نہ کرلیں پوری قوم کی افواج پاکستان سے لازوال محبت کم نہیں کرسکتے۔
منگل کے روزایک طرف آلائی پاشتو میں پاک فوج کا ریسکیو آپریشن جاری تھا تو دوسری جانب وزیرستان کے علاقہ اسمان منزہ میں دہشت گردوں کو ختم کرنے کے لئے کلئیرنس آپریشن ہورہا تھا۔اس آپریشن کے دوران پاک فوج کے جوانوں نے چار دہشت گردوں کوموت کے گھاٹ اتاردیا اور اپنے چھ جوان وطن کی خاطر قربان کردیئے۔پاک فوج ایک طرف ریسکیو آپریشن میں جانیں بچا رہی تھی تواسی لمحہ دوسری طرف دہشت گردوں کے خلاف آپریشن میں اپنی جانیں قربان کررہی تھی اسی لئے ہمیں اپنی افواج پرہمیشہ فخر اور نازرہا ہے۔ شائد آپ جانتے ہوں دنیا بھر میں بہت سے ممالک ایسے ہیں جو اپنی افواج پر سالانہ کھربوں ڈالر خرچ کرتے ہیں تاکہ ان کی افواج کی عسکری طاقت مزید مضبوط ہو اوران کی افواج کا معیار اورصلاحیت بڑھ سکے لیکن صدیوں پر محیط عسکری تاریخ رکھنے کے باوجود ان ممالک کی افوج اپنا وہ مقام اب بھی نہیں بنا سکیں جو افواج پاکستان نے مختصر سی تاریخ میں بنا لیا ہے اسی لئے جب بھی کسی ملک کی افواج کی کارکردگی کا جائزہ لیا جاتا ہے تو افواج پاکستان کانام صف اول میں شمار ہوتا ہے۔ملک کے اندرقدرتی آفات،مصیبتوں، نازک حالات یا دہشت گردی کا سامنا ہو یا ملک کی سرحدوں پر دشمن کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینا ہو،پاک فوج ہمیشہ اپنے فرائض میں سرخرو رہی ہے۔پاکستان زندہ باد،پاک فوج پائندہ باد
271