میثاق معیشت کریں مگر.....! 200

میثاق معیشت کریں مگر.....!

آج کل میثاق معیشت کابڑا چرچاہے۔ معاشی امور کے’’ماہر‘‘آصف علی زرداری نے ایک مرتبہ پھر یہ قصہ چھیڑ دیا ہے ، پہلے یہ باتیں شہباز شریف کیا کرتے تھے جن کی حکومت کو قائم ہوئے تقریباً سوا سال ہو گیا ہے، اس دوران انہوں نے ملک کی جو معاشی حالت’’سدھاری‘‘ ہے، وہ سب کے سامنے ہے بلکہ اس عہد کو جلا بخشنے کیلئے وہ معاشی امور کے’’جادوگر‘‘ اسحاق ڈار کو بھی سامنے لائے، ان کی کمال مہارت کے باعث اشیائے خورونوش اور پٹرول سمیت باقی چیزوں کی قیمتیں آسمان پر جا پہنچی ہیں۔ اسحاق ڈار کی جادوگری سے ڈالر بھی چھلانگیں لگاتا ہوا 300 سے اوپر پرواز کرنے لگا ہے، ماہرین کی موجودگی میں ایسے ہی ہوتا ہے ۔ وہ چیزوں کو بلندی پر پہنچا کر ہی چھوڑتے ہیں ۔اب اگر کوئی اسحاق ڈار سے معاشی سوال کرے تو اسے تھپڑ رسید کر دیا جاتا ہے۔ موجودہ ’’کرشماتی‘‘ حکومت کے عہد میں جتنی بھی قانون سازی ہوئی ہے اس کا مقصد صرف اور صرف اشرافیہ کو تحفظ دینا ہے، غریبوں کا تو کہیں ذِکر ہی نہیں۔ عوام کس بلا کا نام ہیں، ہمارے پارلیمنٹیرینز جانتے ہی نہیں ۔حال ہی میں ہونے والی دو تین قانون سازیوں کو دیکھ لیں، کسی کی نااہلی ختم کرنے کیلئے قانون سازی ہو رہی ہے تو کہیں پارلیمنٹ ترمیم کا اپنا اختیار الیکشن کمیشن کو سونپ رہی ہے اور سینیٹ نے تو کیا خوب نہلے پہ دہلہ مارا ہے۔ انہوں نے ایک غریب اور مقروض ملک کی ’’شان‘‘ میں اضافہ کیا ہے۔ پاکستانی جمہوریت میں خود کو چیمپئن سمجھنے والےآئین و قانون کے ماہر سابق چیئرمین سینٹ میاں رضا ربانی اور فاروق ایچ نائیک کی طرف سے ایک یادگاری بل پیش کیا گیا جسے موجودہ چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی نے شرف قبولیت کے قابل سمجھا۔ پاکستان کی جمہوری اور عوامی خدمات کے صلے میں پیش کیے گئے اس مقناطیسی بل کو پورے سینیٹ نے منظور کیا۔ اس اعلیٰ ’’کارنامے‘‘پر تمام سینیٹرز نے آمین کہا۔ آمین کہنے والوں کی تعداد کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ مخالفت میں کوئی بھی ووٹ نہ آ سکا۔ ملک کے مستقبل کیلئےضروری سمجھا گیا کہ اس بل کے تحت سینٹ کے تمام سابقہ چیئرمینوں کو لاکھوں کے حساب سے پنشن ملا کرے گی۔ ان کے پاس 8 لاکھ کا صوابدیدی فنڈ بھی ہو گا۔

حسن ِکارکردگی دیکھے بغیر، حسن بے مثال سمجھ کر پچاس ہزار روپے اضافی الاؤنس بھی ملے گا۔ گھر کے کرائے کی مد میں ڈھائی لاکھ کی وصولی ہو گی۔ چیئرمین سینیٹ کی سرکاری رہائش گاہ کے فرنیچر کیلئے پچاس لاکھ روپے ہوں گے۔ اگر خدا نخواستہ وہ اپنی ذاتی گاڑی پر سفر کریں تو 400 روپے فی کلو میٹر کے علاوہ دس ہزار یومیہ بھی ملے گا۔ اس کے علاوہ خدمت کی مد میں بارہ مستقل ملازمین ہوں گے، 6گارڈز بھی ملیں گے، وی وی آئی پی سیکورٹی بھی ملے گی ، سرکاری جہاز اور ہیلی کاپٹر کی اجازت بھی ہوگی، پوری فیملی کو لامحدود میڈیکل سہولت ، پوری فیملی کو بیرونی دورے ، فری ٹیلیفون، فری پٹرول، فری رہائش ، فرنشڈ گھر، ٹریولنگ الاؤنس اور گاڑیوں کا ایک قافلہ بھی ملے گا۔ یہ بل اتنا شاندار ہے کہ اس کا اطلاق موجودہ و سابقہ چیئرمینوں پر ضروری سمجھا گیا، اس میں مزید کمال کی بات یہ ہے کہ ان معزز قومی ہستیوں کیلئے یہ اطلاق تاحیات ضروری سمجھا گیا ہے۔پاکستان کیلئے یہ بل اتنا ضروری ہے کہ اس کا اطلاق بھی فوراً ہو گا۔

ہمیں کوئی اعتراض نہیں ،میثاق معیشت ہونا چاہیے مگر اس سے پہلے ایک گزارش ہے کہ میثاق معیشت کرتے وقت سب کو پابند بنا دیا جائے کہ وہ بیرونِ ملک اپنی جائیدادیں بیچ کر رقوم پاکستان شفٹ کریں اور جن کی دولت غیر ملکی بینکوں میں پڑی ہے وہ بھی اپنی دولت کو پاکستانی بینکوں کا راستہ دکھائیں۔ تمام سیاستدان، سول اور ملٹری بیوروکریٹس کے علاوہ ججز کو بھی پابند بنایا جائے کہ وہ امریکا، کینیڈا، برطانیہ، آسٹریلیا اور یورپ میں موجود اپنی جائیدادیں بیچ کر پاکستان میں لائیں۔ حق تو یہ ہے کہ کسی کو بھی معافی نہیں ملنی چاہئے۔

یہ نہیں ہو سکتا کہ آپ کی جائیدادیں بیرونی دنیا میں رہیں، آپ کی دولت غیر ملکی بینکوں میں رہے اور آپ پاکستانی عوام کو فریب دینے کیلئےمیثاق معیشت کریں جس طرح آپ نے میثاق جمہوریت کا پر فریب چکر دیا تھا۔ میثاقِ جمہوریت کا خمیازہ قوم بھگت رہی ہے کہ مشرف دور میں ڈالر 60 روپے کا تھا اور میثاق جمہوریت کا ثمر یہ ملا کہ آج ڈالر بے قابو ہو چکا ہے، اس کی پرواز تین سو سے اوپر ہے۔ ہم تو حق کا پرچم بلند کرتے رہیں گے۔ آپ ہمیں بے شک دیوانہ سمجھیں مگر ہم تو بقول فراز اسی چلن پہ قائم ہیں کہ

شکوہ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا

اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے

بشکریہ ڈان ںیوز