مہنگائی پر قابو پانے کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت 214

مہنگائی پر قابو پانے کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت

    کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس منگل کو نگران وزیرخزانہ ڈاکٹر شمشاد اختر کی زیرصدارت ہوا، جس میں وزارت خزانہ، پلاننگ، تجارت، فوڈ سکیورٹی، انڈسٹریز پروڈکشن توانائی کے حکام شریک ہوئے۔ اس اجلاس میں مہنگائی کنٹرول کرنے کیلئے ایک کور کمیٹی قائم کی گئی جس میں چاروں وفاقی سیکرٹری شامل ہیں۔ وزارت خزانہ کے مطابق سیکرٹری پلاننگ، سیکرٹری انڈسٹری پروڈکشن، سیکرٹری تجارت، سیکرٹری فوڈ سیکورٹی کمیٹی میں شامل ہوں گے۔کمیٹی مہنگائی کنٹرول کرنے اور اشیائے ضروریہ کی طلب و رسد کے بارے میں رپورٹ پیش کرے گی۔
    پاکستان میں گزشتہ کئی دہائیوں سے مہنگائی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے دن بدن اشیائے خورد و نوش اور تمام بنیادی ضرورت کی اشیاء مہنگی ہوتی جا رہی ہیں ۔ اس سے قبل بھی حکومتوں نے کئی کوششیں کیں کہ مہنگائی کو کسی طرح کنٹرول کیا جائے ۔ کئی کمیٹیاں بنیں ، کئی جائزے ہوئے ، کئی رپورٹیں پیش ہوئیں لیکن اس کا کوئی اثر مہنگائی پر نہ پڑااور مہنگائی جوں کی توں رہی بلکہ دن بدن اس میں اضافہ ہوتا گیا اور عوام کے لیے مشکلات پیدا ہوتی چلی گئیں۔ حکومت جس قدر بھی مہنگائی کنٹرول کرنے کی کوشش کرتی ہے تو یہ ایک دلدل ثابت ہوتی ہے کہ جس طرح اس میں سے نکلنے کی کوشش کرنے والااندر دھنستا چلا جاتا ہے ، اسی طرح حکومت جتنا مہنگائی پر قابو پانے کی کوشش کرتی ہے اتنا ہی اس کے اندر دھنستی چلیجاتی ہے اور نکلنے کا کوئی راستہ بظاہر نظر نہیں آرہا۔ اندرونی و بیرونی قرضوں میں اضافہ ہو رہا ہے جنہیں کم کرنے کے لیے عوام پر ٹیکسوں کا اضافہ ہو رہا ہے۔
    اب ایک بار پھر حکومت نے مہنگائی کنٹرول کرنے کے لیے کمیٹی تو قائم کر دی ہے مگر اس کمیٹی کا نتیجہ بھی یقینا پہلے کی طرح صفر ہوگا کیونکہ معیشت کے معاملات حکومت کے ہاتھ میں نہیں ہیں۔ حکومت جتنا چاہے مہنگائی کو کنٹرول کرنے کی کوشش کریں لیکن وہ نہیں کر سکتی اس لیے کہ ہمارے سر پر آئی ایم ایف کی تلوار لٹکتی رہتی ہے ہم نے ان سے قرض لیے ہوئے ہیں اور ان کی شرائط کے مطابق قرض لیے ہیں ۔ اس لیے ان کی شرائط کو پورا کرنا بہت ضروری ہے اور ان کی شرائط میں سب سے بڑی شرط یہ ہوتی ہے کہ حکومت زیادہ سے زیادہ ٹیکس جمع کرے آئی ایم ایف جب کسی ملک کو قرضہ دیتا ہے تو ایسے ہی نہیں منہ اٹھا کر قرضہ دے دیتا بلکہ وہ پوری طرح جائزہ لیتا ہے تحقیق کرتا ہے اور یہ دیکھتا ہے کہ آیا یہ ملک قرض واپس کرنے کے قابل بھی ہے یا نہیں ۔ اگر وہ ملک مستقبل قریب میں قرض واپس کرنے کے قابل ہو تب تو اسے باآسانی قرضہ مل جاتا ہے اگر وہ واپس کرنے کے قابل نہ ہو تو پھر اس کو قرض نہیں دیا جاتا یا اگر دیا بھی جاتا ہے تو اس کو کڑی شرائط پر قرضہ دیا جاتا ہے اور اسے اس قابل بنانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ وہ مستقبل قریب میں آئی ایم ایف کا قرض لوٹا سکے۔
    جن ممالک کی معیشتیں کمزور ہوتی ہیں آئی ایم ایف سب سے پہلے انہیں زیادہ سے زیادہ ٹیکس جمع کر کے اپنا خزانہ بھرنے کے لیے کہتا ہے ، خزانہ عوامی ٹیکسوں سے بھرتا ہے اور ٹیکس کیسے جمع ہوتا ہے ظاہر ہے کہ عوام پر ضرورت کی اشیاء مہنگی کر کے ٹیکس لگایا جاتا ہے جب ٹیکس لگایا جاتا ہے تو مہنگائی خود بخود بڑھ جاتی ہے ۔ پاکستان کو بھی جب آئی ایم ایف نے قرض دیا تو ملکی خزانہ بھرنے کے لیے عوام پر بے تحاشہ ٹیکسوں کا بوجھ لادنے کا شرط عائد کی جسے حکومت نے من و عن تسلیم کر لیا اور اس کو پورا کرنے کے لیے کمر کس لی۔ یہی وجہ ہے کہ آئی ایم ایف سے معاہدہ ہونے کے بعد مہنگائی کا ایک طوفان آگیا اور ہر چیز پر ٹیکس لگنے لگے اور تمام بنیادی ضرورت کی اشیاء عوام کی پہنچ سے باہر ہوتی چلی گئیں ، آج یہ حالت ہے کہ غریب لوگ گھر کا ماہانہ خرچ پورا کرنے سے بھی عاجز آ چکے ہیں۔ حکومت چاہنے کے باوجود بھی مہنگائی کو کم نہیں کر سکتی کیونکہ آئی ایم ایف کو قرض لوٹانا ہے ، ابھی آئندہ چند ماہ میں بھی قرضوں کی اقساط لوٹانی ہیں۔ جنہیں پورا کرنے کے لیے عوام پر مزید ٹیکس عائد کیے جا رہے ہیں لیکن حکومت جو اقدامات کر رہی ہے ان کے ذریعے مہنگائی کم نہیں ہو سکتی ۔ ہماری حکومتیں چند عارضی اقدامات کرتی ہیں جو انتہائی غیر مؤثرثابت ہوتے ہیں ، جن سے حقیقی معنوں میں مہنگائی کو کم کیا جا سکتا ہے اور معیشت کو مضبوط کیا جا سکتا ہے۔
    اس کے لیے حکومت کو چاہیے کہ وہ سب سے پہلے اپنے اخراجات کم کرے ، حکومت ، وزراء اور سرکاری افسران کے خرچے کم سے کم ہونے چاہیے ان کی تمام مراعات ختم کر کیصرف تنخواہ پر لانا چاہیے کیونکہ جو صرف تنخواہ پر کام کرتا ہے اسے تو ایسی کوئی مراعت نہیں ملتیں، ماہانہ 20 ، 30 ہزار روپے کمانے والا شخص اپنے جیب سے پٹرول خریدتا ہے ، اپنے خرچ پر سواری کا انتظام کرتا ہے ، بجلی ،گیس کے بل اپنی جیب سے ادا کرتا ہے جبکہ وزراء اور سرکاری افسران جو لاکھوں روپے مہینے کی تنخواہیں وصو ل کرتے ہیں انہیں مفت پٹرول دیا جاتا ہے ، مفت گاڑیاں دی جاتی ہیں مفت بجلی اور دیگر کئی طرح کی مراعات دی جاتی ہیں ،جو غریب عوام کے ساتھ سراسر زیادتی ہے۔ سب سے پہلے تو اسے ختم کرنا چاہیے اس کے بعد ایسے ٹھوس اقدامات کرنے چاہئیںجن کے ذریعے سے ملکی معیشت مضبوط ہو ، ہماری برآمدات میں اضافہ ہو اور درآمدات کم ہوں، اس کے لیے ملک میں صنعتیں قائم کی جائیں تاکہ ہمارے ملک کی پیداوار بڑھے اور ہماری برآمدات میں اضافہ ہو۔ 
    اس کے علاوہ خطے کے ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ دنیا میں معاشی بنیاد وں پر بلاکس بن رہے ہیں، اب مذہب ، زبان اوررنگ ونسل وغیرہ کو پس پشت ڈال کر صرف معاشی مفادات کے لیے ملکوں کے ساتھ تعلقات قائم ہو رہے اور نئے بلاک تشکیل پا رہے ہیں۔ اس لیے ہمیں بھی خطے کے ممالک پر نظر رکھتے ہوئے ان کے ساتھ مقامی کرنسی میں یا سامان کے بدلے سامان کی تجارت کرنی چاہیے۔ اس کے علاوہ بیرونی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دینی چاہیے اور انہیں یہاں پر سپیشل انڈسٹریل زون میں جگہ فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ مکمل سیکیورٹی فراہم کرنے کی یقین دہانی کرانی چاہیے ۔ یہ وہ اقدامات ہوں گے جن کے ذریعے سے ملکی معیشت مضبوط ہوگی اور مہنگائی خود بخود کم ہوتی چلی جائے گی۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ کمیٹیاں بنا کر اور رپورٹ اور جائزے پیش کر کے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی بجائے حقیقی اقدامات کرے جو حقیقی معنوں میں معیشت کی مضبوطی اور مہنگائی کو کنٹرول کرنے میں مؤثر ثابت ہوں۔

 

بشکریہ اردو کالمز