سورہ القریش اور milankovitch cycle کا ربط ۔۔۔۔* 432

سورہ القریش اور milankovitch cycle کا ربط ۔۔۔۔*

(ایک جدید تشریح )

 

کل رات ٹی وی کے چینلز سے کھیل رہا تھا تو اچانک ایک چینل پر تلاوت قرآن پاک لگی تھی اور ابھی ابھی سورہ القریش شروع ہوئی تھی۔۔ 

میں رک گیا ۔۔ اس سورہ کے ترجمہ نے مجھے کچھ عجیب سی سوچ میں ڈال دیا۔۔ ایسا کیوں ہوا؟؟؟ پہلے ایک نظر اس سورہ کے ترجمہ پر ڈالتے ہیں۔۔ یہ کل 4 آیات پر مشتمل ہے۔ 

ترجمہ: 

1۔اس لیے کہ قریش کو مانوس کر دیا۔

2۔ان کو جاڑے اور گرمی کے سفر سے مانوس کرنے کے باعث۔

3۔ ان کو اس گھرکے مالک کی عبادت کرنی چاہیے۔

4۔جس نے ان کو بھوک میں کھلایا اور ان کو خوف سے امن دیا۔ ( القریش) 

قریش عرب کا ایک مشہور اور ذی عزت قبیلہ نیز اس کا کوئی فرد یا افراد۔ بنو قریش یا قریش مکہ کا ایک اہم ترین قبیلہ تھا۔خاتم الانبیا حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا تعلق اسی قبیلے کی ایک شاخ بنو ھاشم سے تھا،چونکہ قصی ابن کلاب نے اہل عرب کو ایک مرکز پر جمع کیا اس لیے وہ قریش کہلائے کیونکہ تقرش کا مطلب عربی میں جمع کرنے کے اور قصی عرب کو جمع کرنے والے تھے۔

حضرت ام ہانی سے روایت ہے جس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا قریش کی اس میں بڑی عزت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک خاص "سورۃ لا یلاف" ان کے حق میں ایسی نازل فرمائی جس میں کسی دوسرے کا ذکر نہیں ہے حاکم نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔ حاصل یہ ہے جس طرح اس سورۃ میں قریش کی عزت ہے۔( وکیپیڈیا ) 

 

اگر آپ ان چاروں آیات کو سامنے رکھ کر دیکھیں تو پہلی دو آیات میں انسیت یا مانوس ( جس سے اُنس ، محبت ہو،) دو مرتبہ استعمال ہوا ہے۔۔ 

اور اگلی دو آیات میں اس انسیت کے دائمی قیام و حصول کے لئے مکہ میں موجود بیت اللہ کی خدمت کا درس ہے اور اس کے بعد بھوک اور خوف سے امن کا ذکر ہے۔ 

میں یہ سوچ رہا تھا کہ جاڑے اور گرمی سے انسیت کا براہ راست تعلق اللہ کریم نے بھوک اور خوف سے جوڑا ہے۔ 

یہ عرب میں قریش کے تمدن یعنی مکہ کو metropolitan City یعنی عرب میں بنیادی شہر بنانا ہے جبکہ خاصیت یہ رکھی گئی ہے کہ انہیں جاڑے ( سردی )اور ( گرمی) پر معلومات پر عبور حاصل تھا۔ لہذا اس عبور کی وجہ سے عرب جتنی بھی سخت حالات سے گزرتے اہل قریش ایک شہری زندگی گزارتے اور ہر چیز انہیں اس بے آب وگیا وادی میں بھی میسر تھی۔۔ اس کی بڑی وجہ ان کا یہ موسمیاتی عبور تھا جس کی وجہ سے تمام دیگر ممالک کے تجارتی قافلوں کی راہداری بھی دستیاب تھی اور انہیں بحفاظت لق و دق عرب صحرا سے گزار کر منزل مقصود تک پہنچانے کی اجارہ داری بھی تھی۔۔ یہی وجہ ہے کہ افریقہ ،روم اور فارس جو جزیرہ نما عرب کے تمام کونوں سے منسلک تھے ۔۔ مختصر ترین راستے کے لئے عرب اجارہ داری کے آگے جھکے ہوئے تھے۔ لیکن قرآن اسے ان کی علمی خصوصیت قرار دیتے ہوئے ان کی تحسین کرتا ہے۔ کہ اللہ کریم نے انہیں جو علم موسمی تغیرات سے نبٹنے کا عطا کیا تھا یہ اس سے کام لیتے تھے اور اس میں انہیں مہارت تھی لہذا ان کی بھوک اور دشمن کا خوف یا قحط کا خوف نہ تھا کیونکہ یہ جدید دنیا اور امیر ترین تجارتی ممالک سے روابط میں تھے بلکہ ان کی ضرورت تھے۔۔ 

اس بات کی تصدیق سورہ النحل کی آیت 112 سے ہوتی ہے کہ جب شہر کے رہنے والے اپنے ٹیلنٹ اور علمی صلاحیت اور غور فکر کی بجائے ناشکری کرنا شروع کر دیں تو پھر ان پر جو چیز سب سے پہلے حملہ آور ہوتی ہے وہ بھوک اور خوف ( دشمن، غذائی قلت ، قحط سے خوف ،) کی صورت میں ہوتا ہے۔۔ 

ترجمہ: اور الله ایک ایسی بستی کی مثال بیان فرماتا ہے جہاں ہر طرح کا امن چین تھا اس کی روزی بافراغت ہر جگہ سے چلی آتی تھی پھر الله کےاحسانوں کی ناشکری کی پھر الله نے ان کے برے کاموں کے سبب سے جو وہ کیا کرتے تھے یہ مزہ چکھایا کہ ان پر فاقہ اور خوف چھا گیا ( النحل) 

لہذا یہ جاڑے کا اور گرمی کے علم سے قریش کو مانوس کرنے کا مطلب ضرور وسیع مفہوم رکھتا ہے۔۔ جس کی بدولت رزق اور دنیا کی توجہ ( انسیت) خود بخود اس علاقے تک آتی ہے۔۔ اور اس قریش کی حفاظت دور بیٹھا نجاشی بادشاہ بھی کرنے کو تیار ہے اور تبوک کے قریب سلطنت روم بھی ان کا کفیل ہے۔

میں نے جب موسمی اثرات کا اسلامی نقطہ نظر دیکھنے کی کوشش کی تو اکثریت مذہبی فرقوں نے سردی کی لمبی راتوں میں عبادت کی اہمیت پر زور دیا۔ کیونکہ یہ راتیں لمبی ہوتی ہیں اور عبادت میں خوب دل۔لگتا ہے۔۔ 

بالکل حق اور سچ ہے کہ ایسا ہونا چاہئے۔۔ لیکن شاید خدا سردی اور گرمی کو بطور علم استعمال کرنے کا حکم فرما رہے ہیں ۔۔ اسلام کی 4 بنیادیں ہیں پہلی ایمانیات ،دوسری عبادات یہ دونوں مل کر تیسری معاشرتی اخلاقیات اور چوتھی لوگوں، معاشروں ،تہذیبوں سے معاملات کو ترتیب دینا ہے۔ لہذا اوپر کی دونوں آیات یعنی سورہ القریش میں جاڑے اور گرمی کے علم کی وجہ سے بھوک اور خوف کا خاتمہ جبکہ سورہ النحل میں ناشکری نافرمانی ،روگردانی کی سزا بھوک اور قحط ہے ۔ 

اگر جاڑے اور گرمی میں صرف عبادات ہی مقصد ہوتا تو پھر نبی کریمﷺ کی حدیث کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پھلوں کی بیع کے متعلق دریافت کیا گیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”عاھة“ کے ختم ہونے تک بیع سے منع فرمایا، پھر پوچھا گیا کہ کب ختم ہوگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ثریا کے طلوع ہونے پر، تو اس میں پھلوں کے متعلق سوال کرنا واضح قرینہ ہے کہ جواب میں بھی پھلوں سے متعلق بیماری کا ذکر ہے، ہر قسم کی بیماری مراد نہیں۔ اور حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جب ثریا ستارہ طلوع ہو جائے (یعنی شدید گرمی شروع ہو جائے) تو پھلیں اور کھیتیاں آفت و بیماری سے مامون ہو جائے گی تو اس وقت بیع و شراء میں نقصان نہیں۔(دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند) 

اگر یہ سردی گرمی اور زمین کی محوری حرکت کا اہل عرب کو علم نہ ہوتا تو اس کاروبار یا خرید و فروخت کو ایک ستارے کے آسمان پر طلوع ہونے کے وقت کے ساتھ نہ مقرر کیا جاتا ۔۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ آسمانی تغیرات و تبدیلیوں پر عرب کی گہری نظر تھی ۔اور یہی وہ علم تھا ۔۔ جس سے صحیح وقت پر صحیح فیصلہ لیا جاتا تھا۔۔

یہ علم آج کا کلائمنت رسک منجیمنٹ Climate risk management کہلاتا ہے ۔۔ جس میں ایسی منصوبہ بندی کی جاتی ہے جس میں موسمی تغیرات، خطرات ،اور بروقت اقدامات کئے جاتے ہیں۔

Climate risk management is a term describing the strategies involved in reducing climate risk, through the work of various fields including climate change adaptation, disaster management and sustainable development۔

اب اس علم کے لئے دنیا میں بہت کام کیا جا رہا ہے۔ تاکہ موسموں سے ،سورج کی روشنی سے ،سردی سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔ 

اس علم کی ایک ایسی شاخ کا تعارف آج آپ دوستوں کی خدمت میں پیش کرتا ہوں جس کو اردو میں نیٹ پر ڈھونڈنا خاصا مشکل بلکہ ناممکن کام ہے۔۔ جبکہ ہندی اور فارسی میں اس پر کام ہو رہا ہے۔ 

اسے milankovitch cycle میلانکوویچ سائیکل( دائرہ ) کہا جا تا ہے۔

● میلانکوویچ سائیکل۔۔ milankovitch cycle کیا ہے۔۔۔۔!!!!

 

سربیا سے تعلق رکھنے والے ایک ماہر سائنسدان، موسمی تغیرات کے علم کے ماہر ،سول انجنئیر 

Milutin Milanković (1879 –1958)

تھے ۔ انہوں نے زمین کی طویل ترین موسمی تغیرات پر اپنی تحقیق پیش کی جس کے تحت زمین پر موسمی تبدیلیوں کی اصل وجہ زمین کا سورج کے سامنے مختلف زاویوں سے ہونا ہے۔ اور اس سفر کو وہ ہزاروں سالوں میں گنتا ہے۔ وہ یہ کہتا ہے کہ زمین کا جھکاو tilt سورج کی جانب جس زاویہ سے ہے وہ اس وقت 23.5 ڈگری ہے. جو کی ابھی درمیان ہے اور یہ 10700 سالوں میں یہ شروع ہے اور آئندہ آنے والے 9800 میں مکمل ہو جائے گا۔ ۔ یہ کہتا ہے کہ یہ مختلف زمینی حرکتوں کا مجموعہ ہے جس کے نتیجے میں زمین پر برفانی دور گزرے۔۔ یعنی زمین کا اپنے محور پر گھومنا اور سورج کے گرد گھومنے کے مراحل اس میں شامل ہیں ۔ جس کے نتیجے میں جو حصہ سورج کے سامنے ہو گا وہ گرم اور جو سورج سے چھپا ہو گا وہ سرد یعنی یہ موسم سردی اور گرمی بناتا ہے جبکہ میلانکوویچ کہتا ہے کہ ہم بنیادی طور پر یہ جانتے ہیں کہ سورج زمین کو اپنی کشش سے اپنے گرد گھما رہا ہے جبکہ یہ بات مکمل ٹھیک نہیں اس ( زمین) پر دو بڑے سیاروں یعنی مشتری اور عطارد کے کشش کے بھی اثرات ہیں ۔ جس کی وجہ سے زمین کے سورج کی طرف جھکاو کے زاویوں میں بھی تبدیلی ہوتی ہے اور سورج کے گرد گھومنے والے مدار میں بھی کبھی یہ مدار بالکل گول ہوتا ہے اور کبھی بیضوی یعنی انڈے کی طرح۔ جب یہ گول ہو تب موسمی تغیرات اتنے شدید نہیں ہوتے لیکن جب یہ بیضوی شکل میں سورج کے گرد چکر لگاتی ہے تو انڈے کے نوک کی جانب یہ سورج سے دور ترین مقام پر ہوتی ہے جبکہ انڈے کے پیندے کی جانب ہوتے ہوئے قریب ترین۔۔ لہذا ان دور ترین سالوں ،صدیوں یا مہینوں میں زمین پر موسمی شدت ہوتی ہے۔ طوفان، برفباری، بارش وغیرہ 

لہذا یہ سردی اور گرمی بناتا ہے اور یہ گول اور بیضوی شکل کی حرکت میں گرمی اور سردی کا فرق کچھ یوں ہے کہ گول شکل میں زمین کی حرکت یعنی دائرہ میں حرکت میں سورج کی روشنی 7 فیصد ھاصل۔ہوتی ہے جس کا مطلب کم سردیاں اور نرم گرمیاں ۔۔ جبکہ بیضوی شکل میں موسمی شدت 23 فیصد تک بڑھ جاتی ہے۔ اسی طرح سے 26 ہزار سال میں زمین اپنے سورج کے جانب جھکاو کے زاویہ کو اس قدر تبدیل کر لیتی ہے کہ آج جو گرم علاقے ہیں وہ تب سرد علاقے ہو جائیں گے اور جو اج سرد علاقے ہیں گرم علاقے بن جائیں گے۔۔ جن میں جنوری کے معنی گرمیاں ہوں گئ۔ اور اسی سورج کے گرد محوری حرکت نے کئی برف کے زمانوں کو جو کہ پچھلے ایک لاکھ سالوں میں گزرے وہ پیدا کئے۔ اور میلانکوویچ کے ماڈل نے ان کی بہترین وضاحت کی۔ پچھلے 41 ہزار سالوں میں زمین نے تقریبا 22 ڈگری سے 24 ڈگری تک سورج کی طرف جھکاو کرنا ہے۔۔ اور اس وقت 23 اعشاریہ 4 ڈگری ہے جس کا مطلب ہم اب برفانی طوفان کے دور سے گزر رہے ہیں ۔۔ جس میں موسم میں برفانی تبدیلی واضح ہونا چاہئے تھی۔۔ لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ اب تک وہ سردی نہیں آئی جو زمین پر برفانی طوفان پیدا کر دے۔۔ تو اس کی وجہ انسان کا موسم کو تباہ کرنا ہے۔ یہ کنکریٹ کی عمارتیں اور سیمنٹ اور سریہ کا جنگل جسے ہم عظیم شہر کہتے ہیں یہ اس موسمی تبدیلی کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ کیونکہ سیمنٹ سے بنی عمارات اور ان کے نتیجے میں جنگلات کا کٹاؤ کاربن ڈائی اکسائیڈ کے اخراج کا باعث ہے جس سے موسم مصنوعی طور پر گرم ہو رہا ہے۔اور چاول کی کاشت اور دیگر صنعتی انقلابات سے فضائی آلودگی نے موسم کو قدرتی طور پر کام کرنے سے روک دیا ہے۔۔ جس کے نتیجہ میں بے موسمی طوفان ، اچانک انتہائی سردی یا گرمی قانون قدرت سے چھیڑ خانی ہے جس کی مثال اوپر سورہ النحل کی آیت کے مترادف ہے ۔ جس میں ناشکری ،بدکردار، اسراف کا نتیجہ بھوک اور خوف کی صورت میں ہے۔۔ 

یہ زمین کا تین محوروں پر رقص بالکل اس طرح ہے جس طرح ہمارے پٹھان ،بلوچ بھائی ڈھول کے گرد دائرہء بنا کر گھومتے ہوئے رقص کرتے ہیں جس میں وہ ڈھول والے کے گرد ایک بڑے دائرہء میں ،اور بذات خود گول گول گھوم رہے ہوتے ہیں اور ان کا سر ایک اور حرکت کر رہا ہوتا ہے جس سے ان کے لمبے بال ہوا میں لہرا رہے ہوتے ہیں۔ یہ تین جہتی حرکت دراصل میلانکوویچ سائیکل کی سب سے آسان تشریح ہے۔۔ اور رقص بسمل یا ترکیہ میں سفید کپڑے پہنے سر پر سرخ ٹوپی کئے ہوئے ایک مسحور کن رقص بھی اس حرکت کی عکاس ہے۔۔ اور مزے کی بات یہ ہے کہ یہ تمام رقص زمین کی طرح anticlockwise گھڑی کی مخالف سمت میں ہیں بالکل اسی طرح جس طرح زمین کی حرکت اور یہ حرکت ہی انسان اور تمام اشیاء کو آگے کی طرف حرکت اور وقت مستقبل کی طرف بڑھنے پر مجبور کرتا ہے۔ 

 

اترجمہ: ور ہم نے آسمان و زمین اور ان کے درمیان کی چیزوں کو ناحق پیدا نہیں کیا یہ گمان تو کافروں کا ہے سو کافروں کے لئے خرابی ہے آگ کی ۔ ( سورہ ص) 

 

●زمین کے سکڑنے کے کیا معنی ہیں !!!

 

اسی طرح اللہ کریم اپنی کتاب پاک میں ارشاد فرماتے ہیں کہ

ترجمہ: کیا وہ نہیں دیکھتے؟ کہ ہم زمین کو اس کے کناروں سے گھٹاتے چلے آرہے ہیں اللہ حکم کرتا ہے کوئی اس کے احکام پیچھے ڈالنے والا نہیں وہ جلد حساب لینے والا ہے ۔ ( الرعد41) 

اب اس آیت کے تمام تفاسیر میں تشریح یوں ہے کہ اللہ زمین سے شرک کو سکیڑ رہے ہیں ۔۔ اور کفار کم ہو رہے ہیں جبکہ اگر ہم آج کی آبادی پر نظر ڈالیں تو 8 ارب کی آبادی می۔ شاید مکمل دو ارب بھی مسلمان نہ ہوں۔۔ اور اگر مسلمان ہیں بھی تو ان سے یہودی اور عیسائی بھی شرماتے ہیں۔نہ عمل نہ اخلاق نہ علم نہ تحقیق ۔۔لہذا یہ آیت بھی کسی علمی تحقیق کی دعوت دیتی ہے۔۔ اسے سکڑتی زمین کا نظریہ۔ shrinking earth theory کہا جاتا ہے ۔اسے James Dwight Dana نے پیش کیا ۔۔ جس کے مطابق جیسے جیسے زمین کا مرکز سرد ہوتا جا رہا ہے زمین سکڑ رہی ہے۔ اس پر بحث بہت کی جا سکتی ہے ۔۔لیکن یہاں یہ دو تھیوریز اس لئے پیش کی گئی ہیں کہ اللہ کریم اپنے بندوں کو سوچ بچار کی دعوت دیتے ہیں اور اس دعوت کو عبادت قرار دیتے ہیں۔ 

ترجمہ: بے شک آسمان اور زمین کے بنانے اور رات اور دن کے آنے جانے میں البتہ عقلمندوں کے لیے نشانیاں ہیں ( آل عمران )

دوسری جگہ ارشاد ہے: (’’آپ کہہ دیجیے کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے ا نھیں آنکھیں کھول کر دیکھو‘‘۔(یونس ) 

اور سورہ بقرہ کی آیت نے تو باقاعدہ مختلف علوم کی دعوت ان الفاظ میں اہل عقل کو فرمائی ۔۔

 

ترجمہ: بے شک آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں، اور رات اور دن کے بدلتے رہنے میں، اور ان کشتیوں میں جو انسان کی نفع کی چیزیں لیے ہوئے سمندر میں چلتی پھرتی ہیں اور بارش کے اس پانی میں جسے اللہ تعالیٰ آسمان سے برساتا ہے پھر اس کے ذریعے مردہ زمین کو زندہ کردیتا ہے اور اس میں ہر قسم کی جاندار مخلوق پھیلاتا ہے اور ہوائوں کی گردش میں اور بادل میں جو تابع فرمان ہو کر آسمان اور زمین کے درمیان معلق رہتے ہیں، نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو عقل رکھتے ہیں‘‘۔ ( البقرہ)

 

اگر اللہ کریم چاند سورج ،موسموں کے تغیرات سے مختلف پھل ،موسموں کی زراعت اور ان موسموں سے مختلف فوائد لینے کی دعوت انسان کو دیتا ہے اور ،سورج ،چاند اور مختلف سیاروں کے شعاعی اثرات ان پھلوں ،زراعت کے بننے کے عمل میں ممد ومعاون معاون قرار دیتا ہے تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ انسان کی خدمت کرنے والے خوراک ،موسم کو پلاننگ سے گزارنے کا حکم ہو جبکہ اشرف المخلوقات اور اس کائنات کے خلیفہ یعنی انسان کی پیدائش کو جانوروں کی طرح صرف ہوس اور جبلت کے تابع کر دیا جائے۔ اسی طرح موسمی اثرات ،چاند اور سورج کی شعاعیں جو پھلوں اور فضل کو پکاتے ہیں بالکل اس طرح جس طرح آگ پر بار بی کیو کو پکایا جاتا ہے ہر طرف سے گھما پھرا کر تپش دے کر اور یہ مین کو سورج کے سامنے مختلف زاویہ سو کر کے دراصل انسان کے لئے قابل استعمال زمین بنانا ہے۔۔۔۔ یہی شعاعیں دوران حمل عورت کے اور بچے کے مزاج کو بھی ترتیب دیتے ہیں، ایک جیسی خوراک ،ایک جیسی پرورش کے باوجود ایک گھر کے بچوں کے مزاج ،عادات اور اطوار فرق کیوں ہوتے ہیں ان کی مثال قرآن میں اللہ سورہ الطارق میں اس طرح سے فرماتے ہیں کہ طارق رات کے ستارے کو کہا جاتا ہے جس کے لغوی معنی ( رات کو آنے والا، دروازہ کھٹکھٹانے والا (2) کنکریوں سے منتر کرنے والا (3) روشن ستارہ (4) پیش آمده واقعہ رات کو پیش آنے والا معاملہ یا حادثہ) کے ہیں ۔۔ اور اس کے بعد مرد کے تولیدی مادے کا اس پوری سورہ میں ذکر ہے۔۔ جو اس بات کی علامت ہے کہ اگر سبزی اگانے ،بھوک اور خوف سے پناہ کے لئے موسمی اثرات کا جائزہ اور علم ضروری ہے تو اولاد کی پیدائش اور نطفہ کے لئے بھی ایک اہم علم اور پلان کی ضرورت ہے ۔ کیونکہ ایک انسان کی سوچی سمجھی منظم پیدائش دراصل ایک خلیفہ کی پیدائش ہے ورنہ صرف ایک دو پیروں پر چلنے والا حیوان جو جبلت کے تقاضوں کو پورا کر کے پیدا کیا گیا ہو اسے انسان بنانے میں شائد زمانے لگیں۔۔ اور زمین پر اسی دو پیر کے جانور کی تباہ کاریوں نے انسانوں کے لئے مشکلات کھڑی کیں ہیں ۔۔۔ اگر ایسا منظم پلان اولاد کی پیدائش کا گزشتہ قوموں کو نہ ہوتا اور ان کی بچوں کو پیدا کرنے کی منظم پلاننگ نہ ہوتی تو فرعون کو اہل علم ایک ایسے بچے کے پیدا ہونے کا نہ بتاتے جس کے پیدا ہونے کے بعد اس کی فرعونیت تباہ ہو جائے گی۔ اور فرعون ہزاروں لڑکوں کو قتل اس خوف سے نہ کراتا جو اس کے ساتھ واقعی ہوا ۔۔ 

 

ترجمہ: اور جب انہیں ان کے پروردگار کی آیتوں کے ذریعہ سے نصیحت کی جاتی ہے تو وہ بہرے اور اندھے ہوکر ان پر گر نہیں پڑتے (بلکہ ان میں غور و فکر کرتے ہیں)۔ (الفرقان 73) 

 

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب 

بشکریہ اردو کالمز