غربت وافلاس اتنی خاص رحمت ہے کہ خدا نے اپنے ہر محبوب بندے کو اسی حالات میں رکھا
حلال روزی کمانے کے لیے مزدوری نوکری کاروبار وکے یہ حال ہیں کہ بھرپور کوشش اور محنت کے باوجود آمدن خرچوں کے آگے کم پڑھ جاتی ہے رزق حلال کے راستے بھی مہنگائی کے کانٹوں سے بھرے پڑے ہیں ملک بچانا ضروری ہے اسی لیے غریب عوام کو دفنانا مجبوری ہے ان حالات کی جیل میں رہنے والے لاتعدادلوگ جو نہ ملک میں رہ سکتے ہیں نہ ملک چھوڑ سکتے ہیں ان کے پاس مرنے جیسی تکلیف میں زندگی گزارنے کے علاوہ کوئی چارہ ہی نہیں ایسی ہی عوام کے خدا کے ساتھ گلے شکوئے کو اس تحریر میں بیان کیا گیا ہے یا یوں سمجھ لیجئے کہ لوگوں کے درد کو اپنے سینے میں محسوس کرتے ہوئے غربت و افلاس میں عزت و سکون پیدا کرنے والے آسمانی حقائق سے آشنا کروا کے درد کو دوا کرنے والی تحریر پیش کرنے جا رہا ہوں۔غربت و افلاس کے دو چہرے ہیں ایک سزا ہے اور دوسرا عطا ہے جس میں سکون چین اطمینان کھو جائیں وہ سزا ہے اور جس میں خالی جیب بھی غربت کی تلخی دل ودماغ پر سوار نہ ہو بلکہ شکوے کی بجائے شکر لبوں پر رہتا ہو وہ عطا ہے تو پہلے سزا میں مبتلا غریبوں کے احساس و جذبات کی ترجمانی کرتے ہیں جنہیں علم ہی نہیں کہ غریبی کسی امیری کا بھی روپ ہے اور وہ حالات کی سختیوں میں جکڑے زندگی سے بیزاریہ سوچتے ہیں کہ عالم ارواح میں ہماری روح کو دنیا میں بھیجنے سے پہلے زندگی کی تلخیاں لاچاریاں بے بسیاں کمزرویاں تنہائیاں تلخ حالات نانصافیوں جیسے روپ دیکھائے جاتے تومیں عرش خدا کے پاؤں پکڑ کر التجاہ کرتے ہوئے زمین پہ آنے سے انکار کر دیتا اور خدا کی اس شہادت کے دم پر جس میں دنیا بنانے والے نے خود فرمایا ہے کہ یہ دنیا حقیر ہے اس کی حیثیت خدا کے دشمن جیسی ہے مگر اس دنیا میں آکر اس بات کا اندازہ ہوا کہ جس کے پاس دنیا نہیں اس کی ہی کوئی اہمیت نہیں مزاج زمانہ ہے کہ انسان کو مال ودولت سے ہی جانچا جاتا ہے یہاں غریب پیدا ہونا ایک جرم ہے جس زمانے میں میں جی رہا ہوں اس میں سارے دنیاوی غرض کے سودے ہیں جس میں غریب کا وجود حقیرو بے معنی مانا جاتا ہے ماں باپ کا بچوں سمیت خودکشیاں کرنا انکار زندگی ہی تو ہے کبھی کبھی تو لگتا ہے کہ خدا نے غریبوں کاوجود سزاؤں کے تجربات کے لیے پیدا کیا ہے جہاں ایمانداری کے ساتھ جینے کا حق چھین کر وسائل پر قابض لوگوں کوطاقت چھوٹ اور عیاشی میں رکھا جاتا ہے اس ناانصافی پر غریبوں نے خدا کی اتنی عبادتیں نہیں کیں جتنی شکاتیں کی ہیں اُن میں سے ایک میں بھی ہوں جس نے غربت کے طوفان سے نکلنے کے لیے کشتی نوح ؑ کی طرز کے کسی مسیحا کا بڑی شدت سے انتظار کیا ہے جس میں صرف اتنا کامیاب ہوا کہ اک درد دل رکھنے والے انسان کی بدولت طوفان میں ڈوبتی زندگی نے چند دن کھلی فضا میں بے فکری کی سانسیں لی ہیں یہ دنیا بہت سخت مقام ہے اس کی سختیوں سے بچنے کے لیے میرے جیسے کمزور جاہل انسان ہی ہاتھ پاؤں نہیں مارتے بلکہ ہر روپ و عہدے کے انسانوں نے غیر شرعی غیر اخلاقی عملوں پر اچھائیوں کے خلاف چڑھائے اپنے اردگرد دنیا کی دولت کے حصار بنائے ہیں یہاں تک کہ بہت سارے پیر اورمذہبی راہنماؤں ایسے بھی ہیں جو لوگوں کو جنت کے اور ان کی اولادیں دنیا کے پلاٹ بیچتے ہیں جی ہاں میں دین سے دنیا کمانے والے اُس حلقے کی بات کر رہا ہوں جنہوں نے خدا فروشی کو ہی کاروبار بنایا ہوا ہے دنیا کی سختیوں سے بچنے کے لیے انسانوں کے ایسے حربے دیکھ کر اپنی دنیادار زندگی میں آسا نیوں کے نا پیدا ہونے پر خدا سے کیے گئے گلے شکوئے چھوٹا جرم لگتے ہیں خدا کی دی ہوئی امتحان و آزمائش زدہ زندگی ضمیر فروشی سے انکار کرکے حرام کاموں سے بچتے ہوئے دنیا کی تکلیفوں مصیبتوں کی چکی میں پستی ہوئی شکووں شکایتوں کی چیخیں تو مارے گئی ہی۔اور جس نے اس دنیا کو بنایا اور مجھے یہاں بھیجا ہے اُسے ہی تو مخاطب کیا جائے گا ناں۔دنیا کافروں کے پاس جمع ہوتی ہے تو خیال آتاہے کہ یہ اس لیے ہے کہ ان کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں مگر جب یہی دنیا مسلمانوں کے پاس جمع ہوتی ہے تو ان کے ایمان پر شک ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے پاس اگر خدائی مرضی سے مال و دولت آتا ہے تو اس کا مطلب ہے انہیں خدا نے سخاوت و تقسیم کے لیے چنا ہے کہ لوگوں کی دنیا آسان کرکے اپنی آخرت آسان بنا لیں مگر یہاں مالدار مذہبی لوگ غریبوں کا احساس کرنے کی بجائے ان کی مجبوریوں میں پھنسی زندگی کا فائدہ اُٹھا کر ان کی وراثت سستے میں خریدنے کے جتن کرتے ہیں کبھی کبھی تو میں سوچتا ہوں رزق توانسان کا اُتنا ہی جائز ہوتا ہے جتنا باعزت جینے کے لیے ضروری ہوتا ہے اضافی تو کسی اور کا مقدر ہے جو ان کی تجوری میں پھنس جاتا ہے آسمان سے سب کے لیے رزق اترتا ہے مسلے دنیا کی تقسیم کے ہیں حضرت علی ؓ نے اپنے دسترخوان پر دو روٹیاں دیکھ کر کہا ایک میری ہے دوسری کسی اور کی ہے لہذا ضرورت مند تک پہنچائی جاتی یہاں مذہبی غیر مذہبی مسلمان اتنی وراثتوں کے مالک ہیں کہ کئی ہزارانسانوں کی زندگیا ں آسان بناسکتے ہیں مگر وہ ضرورت مند کی مدد کرنے کی بجائے اسے دُعا دیتے ہوئے کہیں گے کہ خدا سے مانگو۔ارے اُسی خدا نے تمہارے پاس بھیجا ہے جیسے تم واپس خدا کے پاس بھیج رہے ہواگر مالدار ہونا مومن کے لیے شان کی بات ہوتی تو انبیاء اکرام سب سے زیادہ مالدار ہوتے مگر وہ فاقوں میں زندگی گزار گئے اور یہاں مذہبی مالدار اسے خدا کی برکت کا نام دیتے ہیں تو میرے زہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر مالدار ہونا ہی برکت ہے تو پھر یہ لوگ کیا اتنے ہی افضل ہیں کہ خدا نے اپنے سارے محبوب بندوں کوتو اس برکت سے محروم رکھا اور انہیں مالامال کر دیا؟ برکت مومن کے پاس جمع نہیں تقسیم ہونے آتی ہے اور یہی برکت کاروپ و اصول ہے دوسرا کہ خدا کی حقیقی دولت کا نام علم و شعور ہے جو عمل کی صورت میں آسمانی مقامات پر لے جاتی ہے اسی لیے انبیا ء اکرام دنیا کے تمام انسانوں سے افضل انسان ہیں جنہوں نے خدا کی برکتوں کو جمع کرنے کی بجائے تقسیم کرنے پر عمل کیا یہی خدا کی برکتوں کا تقاضا بنتا ہے بڑے مقام سے جڑے انسان کا عمل بھی بڑا ہوتا ہے۔دنیا دار تو ہے ہی مال ودولت کا شیدائی وہ تو جمع کرئے گا ہی مگر جن مسلمانوں کے پاس ہزاروں مستحق انسانوں کی زندگیاں آسان کرنے کے سامان ہیں وہ تو حقوق العباد کی مثال قائم کریں یہ کبھی نہیں ہو سکتا کہ اللہ کے بندوں سے کنارہ کشی رکھ کر اللہ کے قریب ہوا جا سکے۔دنیا اُسی کے پاس جمع ہوتی ہے جو دنیا کے مزاج کے بندے ہوتے ہیں اسلام کے مزاج کے بندوں کے لیے تو یہ دنیا قید خانہ ہے اللہ اور اللہ کے بندوں کے نزدیک دنیا کیا ہے آئیں غربت کی پریشانیوں اور مسائل میں جکڑے انسانوں کو دلاسے دینے والی باتوں پر غور کرتے ہیں۔افلاس و دولت بے ایمان لوگوں کی ہدایت کے لیے شان ربوبیت کا اظہار ہے اور ایمان والوں کے لیے امتحان ہے یا احسان۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (ترجمہ)کیا لوگ اس گھمنڈ میں ہیں کہ اتنا کہہ لینے سے چھوڑ دئیے جائیں گے کہ ہم ایمان لائے اور ان کا امتحان نہ ہوگا۔اس سے معلوم ہوا کہ تنگدستی غربت و افلاس بھی امتحان ہے کہ کون صبر کرتا ہے اور کون خدا کو بھول کر حرام کی طرف لپکتا ہے دنیا کی خواہشیں پوری کرنے کے لیے دوسروں کو حرام کے زریعے نقصان پہنچاکر اپنا بھلا کرتا ہے غریب کا امتحان کہ وہ صبر کرئے اور امیر کا امتحان کے وہ تقسیم کرئے۔دنیا کے مال و دولت کے بارے میں چند اقوال جن کو اہل اللہ جواہر پاروں سے تشبیہ دیتے ہیں پیش کرتا ہوں۔رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں دو بھوکے بھیڑیے بھیڑوں کے غول میں اس قدر تباہی نہیں کرتے جس قدر مال و جاہ کی دوستی مسلمان کے دل کو تباہ کرتی ہے اور نفاق کو دل میں پیدا کرتی ہے جیسے پانی سبزے کو۔دنیا خدا کی دشمن ہے خدا کے دوست اس کے دشمن سے محبت نہیں کرتے۔حضرت سفیان ؒ فرماتے ہیں جو شخص تمام آسمان و زمین کے برابر عبادتیں کرئے اور دولت دنیا سے محبت رکھے قیامت کو ندا فرمائی جائے گی کہ یہ شخص تھا جو اللہ کے دشمن سے محبت کرتا تھا۔عارفین کا ارشاد ہے کہ دنیا تصرف کے لیے ہے محبت کے لیے نہیں،دنیا کی دولت حاصل کرو اپنی ذات اور اہل و عیال کے لیے اور راہ خدا میں خرچ کرومگر اس کی محبت کو دل میں جگہ نہ دو کہ دل خدا کی محبت کے لیے ہے اس میں غیر کو آنے کی اجازت نہیں (غرضیکہ عارفین نے بھی مال دنیا کمانے سے انکار نہیں کیا بلکہ وضاحت کی ہے کہ ضرورت جتنا رکھوتاکہ کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلانا پڑئے اور اضافی اُن پر خدا کے نام سے خرچ کرو کہ جو ہاتھ پھیلانے سے بچ سکتے ہیں)۔شبلی ؒ سے کسی نے سوال کیا زکوٰۃکس قدر ہے فرمایا فقہاء کے مذہب میں دو سو درہم سے پانچ سو درہم دینا(یہی وجہ ہے کہ فقیر درویش دنیا کے مال سے دور بھاگتے ہیں کہ انہیں دو لے پانچ دینے ہوتے ہیں)مذہب عشاق میں دو سو میں سے ایک بھی رکھنا جائز نہیں بلکہ اس کے شکر میں جان بھی دے دینی چاہیے کہ اس نے اپنے کرم سے دئیے مگر اس کی محبت نہ دی اور اپنی راہ میں خرچ کرنے کی توفیق بخشی۔
مجھے اپنے ملک پاکستان کے سارے مسائل کی واحد شکل سود نظر آتی ہے جس کی تشریح میں ہی بتایا گیا ہے یہ اللہ کے ساتھ اعلان جنگ ہے۔ماں کے ساتھ زنا کرناہے۔ہم اسی جرم کی سزا بھگت رہے ہیں جناب آپ کے سامنے حکمرانوں نے سود پر قرضے لے کر ترقی کی بنیادیں رکھیں اور آپ اس کا اصل اور سود ٹیکس کے نام پر ادا کررہے ہیں یہاں تک کہ عبادتوں کے لیے بھی جو سامان خریدتے ہیں اس میں بھی سود کی ادائیگی کا حصہ شامل ہوتا ہے ایسی عبادتیں نیکیاں اجر سے خالی ہوتی ہیں بلکہ ناپاک پانی سے وضو کرنے جیسا ہے دعاؤں کے قبول نہ ہونے کی وجہ ہے۔ سودی قرضوں کی منحوست ہے میرے ملک میں رہنے والے کمزور انسانوں پر جن کا جینا حکمرانوں کی غیر شرعی حکمت عملی سے حرام ہوا پڑا ہے اسے سدھارنے میں ہی اس ملک و عوام کی خوشحالی پوشیدہ ہے اس کے علاوہ آپ ہزار جتن کرلیں اس دلدل سے نہیں نکل سکتے کیونکہ اللہ تعالیٰ سود گھٹاتا اور صدقہ بڑھاتا ہے اور دوست نہیں رکھتا ناشکرے گنہگار کو(پاکستان کی زمینی نعمتوں پر شکر نہ کرنے والے)۔سود کی کمائی چوری ہو جاتی ہے یا لٹ جاتی ہے جل جاتی ہے یاخاک ہو جاتی ہے یا حاکم ٹیکس میں چھین لیتا ہے یا اولاد عیاشی میں خرچ کر دیتی ہے سچ بتائیے گا کیا آج پاکستان کی اکثریت کے ساتھ یہ حالات رونما نہیں ہو رہے؟عوا م کی ترقی کے نام پرعوام کا سکون برباد کر دیا گیا ہے آج جتنی بھی جسمانی و روحانی بیماریاں مسلمانوں کے وجود کو جکڑے ہوئی ہیں ان کی وجہ سود جیسے گناہ ہیں جن کی فقط معافی مانگنے سے جان نہیں چھوٹتی بلکہ نظام حیات سے صفایا کرنا پڑے گا۔اسی لیے علامہ اقبال ؒ نے فرمایا تھا کہ خودی نہ بیچ غریبی میں نام پیدا کر۔ارے صاحب غریبی بڑے عظیم مقام کا نام ہے اللہ نے اپنے ہر محبوب کو اسی مقام پر تاحیات بٹھائے رکھا جن کے پاس کچھ نہیں مگر دینے کو خزانے پڑے ہیں غربت افلاس بھی رحمت ہے کہ جس کا دل بوجہ غربت و افلاس کی مصیبت سے ٹوٹا مگر وہ نہ تو خدا سے ناطہ توڑ کر غیر کی طرف مائل ہوئے نا احکام خداوندی کے خلاف حرام کو زریعہ معاش بنایا۔روزقیامت ہمارا خدا ارشاد فرمائے گا کہاں ہیں میرے محبوب کی اُمت کے غریب و مسکین جب وہ حاضر ہوں گے تو فرمایا جائے گا کہ اے میرے بندوں میں نے تمہیں زلت و رسوائی کے لیے غریب نہیں کیا تھا بلکہ اس لیے کہ اگر تم صبر کرو تو آج تمہیں خلعت عزت و کرامت عطا کروں آج انہیں تن زیب کرکے جنت میں چلے جاؤ اور اُسے بھی اپنے ساتھ لیتے جاؤ جس نے ترس کھا کر تمہیں کھلایا پلایا تھا۔ساری دنیا کی دولتیں اس اعزاز پر قربان کہ جس نے آج دنیا میں غریب ہونے پر فخر سے ہمکنار کروایا۔غریب تو وہ ہے جس نے اسلام کے اصولوں کو نظر انداز کرکے دنیا کی ضرورتوں سے اس طرح سمجھوتہ کیا کہ نافرمانی کی راہ پر چل پڑا
اپنے مذہب اسلام کے قرآن پاک اور عظیم لیڈروں راہنماؤں کی ہدایات کو نظر انداز کرکے دنیاوی ترقی کے لیے سیاسی لوگوں کے غیر شرعی عمل کا حمایتی ہو گیا اس کی دنیا بھی زلت زدہ ہو گئی اور آخرت بھی حقیقی غریب یہ ہے جس کے پاس قدرت سے نظریں ملانے کی بجائے شرمندگی کے سوا کچھ نہیں مگر اس کا ٹھکانہ جہنم ہے اصلاح کا موقع دنیا میں ہی ہوتا ہے آخرت کو سزا جزا کا دن ہے
409