ھم حکومت کے زبردست حامی ہیں ، 173

ھم حکومت کے زبردست حامی ہیں ،


1. میں حکومت کا زبردست حامی ھوں کیونکہ وہ آٹا مفت تقسیم کرتی ہے اور غربت کے ساتھ ساتھ غریب بھی ختم کر رہی ہے، میرے خیال میں یہ شاندار کارنامہ کسی نے پہلی دفعہ ہی انجام دیا ہے، ھم دراصل عطاء الحق قاسمی صاحب کی امامت میں جابر حکمران کی عدم موجودگی میں کلمہ حق کہنے والے لوگ ہیں، میں میاں نواز شریف صاحب کا یہ بیان سن کر اتنا خوش ھوا کہ کیا بتاؤں،کہہ ریے تھے کہ ڈالر پانچ سو کا ھوگا، مجھے خوشی اس بات کی ہے کہ میرے دادا ریڑھی پر ڈالر بیچتے ھوتے تھے، اس لئے بہت سارے ڈالر پڑے ہیں مجھے قائد اعظم محمد علی جناح والے نوٹ خریدنے ہیں، چائے آئین ٹوٹے یا بینچ ٹوٹے، یہ فیصلے آئیں یا احکامات فاصلے بڑھتے ہی رہتے ہیں، میں نے اس سے پوچھا یہ زبردست حامی کیا ھوتا ھے کہنے لگے اس کا مطلب بھی "زبردستی" جیسے ھوتا ھے، میں دیکھتا رہتا ھوں کہ لوگ حکومت کے گیت گا رہے ہیں اور عدلیہ کو سرا سر کوس رہے ہیں رمضان میں بدعائیں دے رہے ہیں، حکومت کو چلنے دیں، تاکہ آئین پوری آب و تاب کے ساتھ بحال رہے ھم اپریل کی دس تاریخ کو گولڈن جوبلی منانے جا رہے ہیں، اتنے لوگ اور متعدد پارٹیاں جمع ہو کر "گولڈن" لمحات کو خوشی سے لطف اندوز کریں گے، یہ عدلیہ اور غیر ضروری، غیر جمہوری اور ون مین شو والی پارٹی عمران خان کی قیادت میں سب خوشیوں پہ کیوں پانی پھیر رہی ہے، میاں صاحب خانہ خدا گئے ہیں خالی ھاتھ نہیں لوٹیں گے، سب سے کمال بات جناب صدر زرداری نے کی ہے عمران خان کو سسٹم کے سامنے لا کھڑا کر دیا،اور ن لیگ کو عدلیہ کے سامنے، وہ خود کہہ رہے ہیں ھم تو حکومت کا حصہ نہیں ہیں وہ تو پارلیمنٹرین حکومت کا حصہ ہے، بات عوام کی ھے جب ڈالر پانچ سو کا ھوگا، سبزی اور دال نظر نہیں آئے گی، اس جھگڑے میں معاشی ماہرین سب غائب ہیں، نہ حفیظ شیخ دکھتے ہیں نہ شوکت ترین، نہ شبر زیدی کی خبر ہے اور اپنے اسحاق ڈار صاحب کہیں بول رہے ہیں، ڈاکٹر اشفاق حسن، ڈاکٹر سلمان شاہ، موتی والا، چاندی والا، سونے والا سب غائب ہیں، میں اگلے دن انڈین آرٹیفشل انٹیلیجنس کی تیار کردہ پہلی لیڈی اینکر کو دیکھ رہا تھا کہ دنیا کہاں پہنچ گئی ھماری معیشت کا مسئلہ ہی حل نہیں ہو رہا کوئی کہہ رہا ہے یہ سقوط آئین ھے کوئی کہتا ہے آئین کے مطابق سب کچھ ھو رھا ھے، یہاں جس کے حق میں فیصلہ آئے وہی آئینی ھوتا ھے البتہ فیصلے کو تسلیم کرنے والے گریٹ لوگ ھوتے ہیں، راستہ آگے کا یہی ھوتا ھے، اس وقت عوام کا موڈ بدلنے کے لیے دو طرح پاکستان کو دیکھنا ھوگا ایک دو ھزار سے پہلے کا پاکستان اور دوسرا اس کے بعد کا جو ان دونوں مزاج کو سمجھ گیا وہی سیاست کر سکتا ہے، یہی ایک سوال ھے جسے کوئی سیاسی جماعت سمجھ نہیں پا رہی، ھم بہرحال جو بھی حکومت ھو اس کے زبردست حامی ہیں، اور تادمِ مرگ حامی رہیں گے کچھ ھم بوڑھے ھو گئے اور کچھ انقلاب سے خوف آتا ہے، ڈرتے ڈرتے زندگی گزر گئی، سوچتے سوچتے اوسان خطا ہو گئے، کہ آخر ان بائیس کروڑ افراد کا کیا ھو گا، آمریت بھی دیکھی جمہوریت بھی، افسوس ناک بات یہ ہے کہ سیاست یا یوں کہیں حکومت اور سماج آپس میں جوڑ دئیے گئے حالانکہ سماج کی تربیت اچھی ھوتی تو حکومت خود بخود اچھی ھو جاتی دونوں الگ الگ پلیٹ فارم پر کام کرتے رہتے، یہاں تو کوئی چیز نہیں چھوڑی گئی جو سیاست سے پاک ھو ۔مذھب تو سیاست کا پسندیدہ ہتھیار بن گیا، جس کو مرضی آئے اپنے مفاد کے مطابق اس کی تشریح کر دیں، سب کا ماضی ٹٹولیں داغ دار ھوگا، مگر ہمارا ماضی سے کیا تعلق ایک منٹ رک کر ماضی کی غلطیوں پر سارے استغفار کر لیں اور آگے چلیں، نظام میں، آئین میں، قانون میں اور سوچ میں ارتقاء وقت کی ضرورت ھوتا ھے ایک اتفاق کر لیں کہ کس میں ان بائیس کروڑ افراد کو انصاف مل سکتا ہے جب آپ یہ سمجھیں گے کہ کس قانون کے تحت ھم ھمیشہ طاقت میں رہ سکتے ہیں تو پھر کوئی نظام نہیں چل سکتا، جو بھی ھو، حکومت اور تمام ادارے صفائیاں دیتے پھریں گے، ھمیں آٹے چینی کی لائنوں میں نہ لگائیں، وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا وہ دستک ضرور دیتا ہے جو اس کا ھمسفر ھوگیا منزل پر پہنچ جائے گا، کوئی حکومتی ایوانوں یا محلات شاہی پر جتنے وار کرے کچھ نہیں ملے گا، ایک دانشور فرما رہے تھے کہ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ غلامانہ ذہنیت کا ھے، چونکہ غیر اقوام کے محکوم رہے ہیں، اس میں سے جس نے بھی انگڑائی لی وہ ویسا ہی حکمران بننا چاہتا ہے، ضرور بنے مگر عوام کو تو انصاف دے، باقی ھم خوش نہ ملک و ملت نہ مال و اسباب زمانہ ھمارا دشمن ھو کر کیا کرے گا؟ ھم نعروں کی گونج میں خوش اور زبردست حامی رہیں گے ڈالر ھوں گے تو حج کریں گے، ڈالر ھوں گے تو کھائیں پئیں گے ھمارا کیا ہے، بس خیال رہے بائیس کروڑ افراد کو بیچ کر ڈالر نہیں خریدنا ، یہ کام اب مشکل باقی ھم زبردست حامی ہیں حکومت جس کی بھی ھو یوم متفکر مناؤ یا تشکر، ھمیں کیا ہے، 

بشکریہ اردو کالمز