خلق خدا کی گھات میں رند و فقیہ ومیر 235

خلق خدا کی گھات میں رند و فقیہ ومیر

حضرت اقبالؔ نے کہا تھا،’’خلق خدا کی گھات میں رند و فقیہ و میر و پیر...تیرے جہاں میں ہے وہی گردش صبح و شام ابھی‘‘۔مملکت خداداد پاکستان میں طویل عرصےسے جاری غریب کش نظام کی اکثر عید وں کی طرح یہ عید بھی غریب عوام کیلئے خوشی کی بجائے دکھ وملال لائی ہے،ایک طرف لاکھوں کے سجائے ہوئے جانور بنگلوں کے سامنے موجود ہیں،تو دوسری طرف غالب اکثریت کے پاس ایک کلو مرغی کا گوشت خریدنے کی بھی سکت نہیں ،جہاں ہمارے ساتھ آزاد ہونے والے بھارت اور ہم ہی سے آزادی لینے والے بنگلہ دیش نے اپنے عوام کو سکھ دینے کیلئے نظام کی اصلاح کے حوالے سے انقلابی اقدامات کئے وہاں ہمارے ہاں ہنوزاقتدار اور اختیارکیلئے کشمکش کا نہ ختم ہونے والا ایسا تماشا جاری ہے جس میں عوام محو ہیں لیکن اُن کے صبح وشام بدلنے کا نام ہی نہیں لے رہے،یہ عید بھی غریب وبے بس عوام مسرت وشادمانی کا کچھ سامان نہیں کرسکی کہ فقر وفاقہ میں پیٹ کا دوزخ بھرا جائے یا قربانی کے قابل کوئی جانور خریداجائے۔حال یہ ہے کہ جاری مہنگائی کا سلسلہ نہ رک سکا، ایک ہفتے میں مہنگائی کی شرح میں 0.33 فیصد اضافے ہوا۔ ڈاکٹر خیال امروہوی نے1985میں ایک مقالہ ’’38سالہ تلخ تجزیہــ‘‘ کے عنوان پر لکھا تھا اُس وقت پاکستان بنے 38سال ہوچکے تھے، اب75 سال ہوگئے ہیں ،حیران کن امر مگر یہ ہے کہ تجزیے میں جن مسائل کا ذکر کیا گیا وہ نہ صرف جوں کے توںہیں بلکہ ہم مزید تنزلی کا شکار ہوچکےہیں۔ ہمارے بعد آزادی حاصل کرنیوالے ممالک ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہوچکے ہیں ۔ اور تو اور ہم سے آزادی حاصل کرنے والے بنگلہ دیش سے متعلق ماہرین معاشیات کا کہنا یہ ہے کہ پاکستان کو بنگلہ دیش کی موجودہ ترقی تک پہنچنے کیلئے برسوں درکار ہیں ۔آئیے خیال امروہوی کے مقالے کی کچھ سطور میں ماضی وحال میں مطابقت تلاش کرتے ہیں وہ لکھتے ہیں ’’ہمارے ملک کی تاریخ کے اوراق انسانی استحصا ل کے ایسے بھیانک واقعات سے بھرے ہوئے ہیں کہ غالباً سابقہ اقوا م کے تین ہزار سال بھی اس کی برابری نہ کرسکیں، بے مقصد معاشی نظام نے یہاں کے تمدن کو وہ کوڑھ دیا جو کسی بقراط کے نسخے سے بھی دور نہیں ہوسکتا،لوٹ کھسوٹ، جابرانہ ہتھکنڈوںنے افرادی قوت کو اس طرح منتشر، مفلس وقلاش بنادیا ہے کہ یہاں انسان کا سانس لینا حرام ہے۔یہاں دین اسلام’’جمہوریت‘‘ سوشلزم ،ملکی سلامتی کے نام پر کیا کچھ کارنامے انجام نہیں دئیے گئے، اربوں روپیہ کس طرح مفلس آبادی کی جیبوں سے نکال کر غیر ملکی بینکوںمیں جمع کردیا گیا۔ پاکستانی عوام اسی طرح (بالادست طبقات)کے غلام ہیں جس طرح یونان،اور روما کی حکومتوںمیں ہوتے تھے۔ آج بھی پاکستان کا مسلمان ،مہاجن اور یہودی کی طرح سرمائے پر اژدھا بنا بیٹھا ہے۔ آج بھی لاکھوں بے روزگار مفلس خدا ہی کو پکار رہے ہیںلیکن ’’خدا والے‘‘آج بھی انہیں یہی تسلی دے رہے ہیں کہ تمہارے مقدر میں جو لکھ دیا گیا اسی پر صابر و شاکر رہو، افسر شاہی نے پاکستانی تمدن کو اس طرح روند ڈالا ہے جس طرح ابرہہ کے خونخوار ہاتھی اپنی فوج کو کچلتے ہوئے نکل گئے تھے۔ہمارے پلاننگ ڈویژن اور محنت کے محکموں نے افرادی قوت کو اس طرح برباد، مفلس اور بے روزگارکردیا ہے کہ قوم عاد، ثموداور قوم لوط کی بربادی بھی اس بربادی کے مقابلےمیں صفر کادرجہ رکھتی ہے۔تحفظ خویش ،ذاتی منفعت اور لاقانونیت کے اس طوفان میں پاکستانی ’’آئیڈیالوجی ‘‘چیونٹی کی طرح رینگتی دکھائی دیتی ہے۔ یہ کس قسم کی اطاعت ہے جو انسان کو چکی کے دو پاٹوں کے درمیان پیسے چلی جارہی ہے اور اس کا کوئی حل نظر نہیں آرہا، یہ ملک قرضوں اورخیرات پر پل رہا ہے،نالائق انجینئراورخودغرض افسران و منافع خور ٹھیکیدار اختیارمندوں کوراستہ دکھاتے ہوئے ملک وعوام کو لوٹ رہےہیں ،چنانچہ اس مضحکہ خیز صورت حال میں اگر یہ دعویٰ کیا جائے کہ ہم ایک فلاحی ریاست کے مالک ہیں،توکیا یہ دعویٰ قابل قبول ہوگا؟‘‘ ڈاکٹر خیال امروہوی کے مطابق اس تجزئیےسے یہ واضح کرنا مقصود ہےکہ ہم قیام پاکستان کے بعد جہاں تھے اب بھی وہی ہیں ،بلکہ مزیدتباہیوں سے دوچارہیں۔جب بڑے بڑے محلات ،سیم وزر رکھنے والوں سے پوچھا جاتاہے کہ یہ رقم کیسے کمائی تو جواب ملتاہے کہ یہ خداکافضل ہے،تو اگرپاکستان کے سب اختیارمند پارساہی ہیں تو پھر یہ کون ہیں جنہوں نے ملک وعوام کو اس حالت تک پہنچادیا ہے!!بنابریں بیچاری عید ،توموجودہ حکمران طبقات جس میں ملاسے لیکر مقتدرہ تک سب شامل ہیں،ہی افورڈ کرسکیں گے،چنانچہ یہ عید بھی دیگر عیدوں کی طرح راہنمایان ملت ہی کو مبارک ہو۔

بشکریہ جنگ نیوزکالم