کچھ بھی ممکن ہے یہاں اسلئے اے جانِ جہاں!
کچھ بھی ہو جائے، تعجّب کی بھلا کیا تُک ہے
جو نوشتے میں ہے، وہ سامنے آجائے گا
فکر مندی کی، تذبذب کی بھلا کیا تُک ہے
145
کچھ بھی ممکن ہے یہاں اسلئے اے جانِ جہاں!
کچھ بھی ہو جائے، تعجّب کی بھلا کیا تُک ہے
جو نوشتے میں ہے، وہ سامنے آجائے گا
فکر مندی کی، تذبذب کی بھلا کیا تُک ہے