کاش! کارل مارکس زندہ ہوتے۔ 327

 کاش! کارل مارکس زندہ ہوتے۔

 روس میںاسلام پسندی کی بناء پر قتل ہونے والے وہ بدقسمت آسودہ خاک نجانے کس انداز میں خوشی کا اظہار کر رہے ہوں گے، جب عالم ارواح میں انھیں یہ خبر ملی ہوگی، کہ اس سر زمین پر اسلامی بینکنگ کا نظام آزمائشی طور پرمتعارف کروایا جارہا ہے جن علاقہ جات میں مسلم اکثریت ہے۔بعد ازاں اسلامی بینکنگ کو دوسری ریاستوں تک وسعت دی جائے گی۔
 روس کی یہ وہ سرزمین ہے جس کے بارے میںبریگ ذوف کہا کرتے تھے کیمونزم کے پڑوسیوں کو بھی کیمونسٹ ہی ہونا چاہئے۔ افغانستان  پر جارحیت سے قبل روس نے وسطی ایشائی ریاستوں پر قبضہ کرنے کے لئے وہاں مسلمانوں پر جو ظلم ستم کیا وہ سب کچھ تاریخ میں پوشیدہ ہے۔
سرد جنگ کے خاتمہ تک روس کیمونسٹ ریاست کے طور پراشتراکیت کے بخار میں مبتلا رہا،انقلاب روس نے سماجی اور معاشی تبدیلی کے لئے نئے عہد کا آغاز کیا، وسیع وعریض جاگیریں، بھاری صنعت، کارپوریٹ اجاری داری اور معیشت کے کلیدی شعبوںکو مزدور ریاست نے ضبط کر لیا ،مالیاتی سرمایہ کی آمریت کو توڑ دیا گیا،کیمونسٹ نظریات پر پہلا انقلاب کال مارکس کے انتقال کے 34 سال بعد روس میں برپا ہوا، کال مارکس نے سرمایہ دارانہ نظام کے رد عمل میں اشتراکی نظام کا فلسفہ پیش کیا جس کا آغازسرمایہ داروں کے خلاف جرمنی میں جدوجہد سے کیا گیا۔
موجودہ سرمایہ دارانہ نظام کا تصور ماہر معاشیات آدم سمتھ نے اپنی کتاب  ''ولیتھ آف نیشن ''میں دیا، جس میں پیدائش دولت سے لے کر تقسیم دولت کے راہنماء معاشی اصول دیئے گئے،یہ کتاب یورپ کے سرمایہ داروں کے لئے  ''بائبل ''  بن گئی، انھیں نظریات کی بناء پر سرمایہ دار طبقہ مضبوط ہونے لگا، مذہبی پارسائوں، کلیسا نے بھی اس نظام کی حمایت کی، اٹھارویں صدی تک سرمایہ دارانہ ٹولہ اتنا طاقتور ہوا کہ اس نے دولت کا بہائو اپنے کنٹرول میں لے لیا، تو سماج میں دولت کا توازن قائم نہ رہا، غریب طبقہ معاشی جبر کا شکار ہونے لگا، اسی جبر کی پاداش میں پہلے انقلاب فرانس جنم لے چکا تھا۔
ان وجوہات کی بناء پر کارل مارکس سمجھتے تھے کہ سرمایہ دارانہ نظام میں خامی ہے کہ مسلسل بڑے پیمانہ پر معاشی اتار چڑھائو پیدا کرتا ہے،وہ الزام لگاتے ہیں کہ سرمایہ دارانہ نظام نے ایسا سماجی ڈھانچہ مرتب کیا ہے جس نے متوسط طبقہ کی زندگی اجیرن کر دی ہے، کارل مارکس کا خیال تھا کہ کیمونسٹ نظام زیادہ پیدا کرنے والا انسان دوست سسٹم ہے۔
کارل مارکس نے اشتراکیت کا سماجی و معاشی نظام متعارف کروایا،  اور تصور دیا کہ پیداواری ذرائع زمین، معدنیات،کارخانے ،بنک وغیرہ معاشرے کی اجتماعی ملکیت ہوتے ہیں، سماج میں انکی تقسیم ذہنی، جسمانی طور پر کام کرنے والوں کی تخلیقی صلاحیت کے مطابق ہوتی ہے، اس ضمن دو اصطلاحات مستعمل ہیں، ایک کیمونزم ہے جس کے مطابق کوئی فرد کسی قسم کی نجی ملکیت نہیں رکھ سکتا، دوسرا سوشلزم ہے، اس کے مطابق لوگ نجی ملکیت رکھ بھی سکتے ہیں، لیکن کوئی جائیداد انکی ملکیت نہیں ہو سکتی ،جس سے پیداوار حاصل کی جاتی ہے یا منافع کمایا جاتا ہے، منافع کمانے کی ملکیت صرف ریاست کے پاس ہو گی۔
روس کی سرزمین پر مارکس ازم کو عملی جامہ پہنانے اورپر وان چڑھانے میں سرخ انقلاب کے داعی لینن کا کردار کلیدی ہے،اس کے نظریات
 کا مقصد محنت کشوں کی آزادی تھا، مگر یہ مزدور ریاست زیادہ دیر اس نظریہ پر قائم نہ رہ سکی اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگئی، نام نہاد کیمونسٹ بھی افسر شاہی کے ساتھ ریاستی اثاثوں کو لوٹنے لگے،1990تک قریباً سات کروڑ لوگ غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گذارنے پر مجبور تھے،اس نظام میں وہ تمام خرافات موجود تھیں جو کسی انسان کے بنائے ہوئے سسٹم میں ممکن ہو سکتی ہیں۔
1990 میں سپریم سوویت نے قانون بنایااور کثیر الجماعتی ریاست تخلیق کی مذہب اور میڈیا کومزید آزادی ملی، مارکیٹ کی بنیاد پر معاشی سر گرمیاں تیز ہوئیں، لیکن پیریسٹر ائیکا پالیسیوںسے پہلے کیمونزم جن عناصر پر مشتمل تھا وہ ختم ہونے لگے،لوگوں میں مایوسی کا اظہار لطیفوں کی صورت میں ہونے لگا، جیسے کیا ہم حقیقی کیمونزم تک پہنچ گئے ہیں یا پھر اس سے بھی برے حالات آئیں گے؟معاشی طور پر دیوالیہ سوویت یونین کوریاست کے اندر اور باہر فوج رکھنے کی بھاری قیمت یونین ٹوٹنے کی شکل میں ادا کرنا پڑی۔
کارل مارکس نے چند ہاتھوں میں دولت کے ارتکاز اور غرباء کے معاشی جبر کے رد عمل میں اشتراکیت کا فلسفہ پیش کرتے ہوئے جو مقبولیت حاصل کی وہ اپنی جگہ مگر دنیا کو اب بھی امیر زادوں نے اپنی مٹھی میں بند کر رکھا ہے،اس وقت بھی98 فیصد دولت دنیا کے ایک فیصد افراد کے پاس ہے،8ارب کی آبادی میں800ملین افراد غذائیت کی کمی کا شکار ہیں،اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا انتباہ ہے کہ جب تک عالمی سطح پر امیر اور غریب کے فرق کو ختم نہیں کیا جاتا، دنیا بد امنی،بحرانوں اور تنازعات کا شکار رہے گی۔
عالمی مالیاتی فنڈ کے ادارہ کا ماننا ہے کہ مستقبل میں عالمی معیشتوں کو بلند ترین شرح سود برقرار رکھنے میں بری طرح ناکام ہوگی، سود کو ماضی کے نچلے ترین مقام تک لانا ہو گا، اس وقت عالمی سطح پر اسلامی بنکنگ کا نظام سود کی عدم موجودگی کی وجہ سے فروغ پارہا ہے،ایک محتاط اندازے کے مطابق 2025 اسلامی بنک کاری کا حجم77کھرب ڈالر تک پہنچ جائے گا،یہ بنک کاری اسلامی نظام معیشت کا ایک جزو ہے،تاہم اسکی خوبی یہ ہے کہ یہ بنک کاری کسی ایسی شہ کی مالی معاونت نہیں کرتی جو انسانوں یا معاشرے کو نقصان پہنچاتی ہو،کوئی فرد اس بنک کاری کے سرمایہ سے کوئی چیز فروخت نہیں کر سکتا جو سرے سے موجود نہ ہو۔
 اسی طرح اسلام کا معاشی نظام کچھ حدود کے ساتھ انفرادی حق ملکیت کو تسلیم کرتا ہے،اسباب معیشت میں ہر انسان کو فائدہ اُٹھانے کا پورا حق دیتا ہے،یہ نظام دولت کے چند ہاتھوں میں جمع ہونے کی نفی کرتا ہے، امیروں سے دولت لے کر غرباء میں زکوة کی صورت میں تقسیم کی ذمہ داری اسلامی ریاست پر ڈالتا ہے۔کہا جاتا ہے کہ روس کی جانب سے اسلامی بنک کاری کا نفاذ مغربی پابندیوں کا مقابلہ کرنے اور معاشی ترقی کو فروغ دینے کیجانب ایک مثبت پیش رفت ہے۔
سوویت یونین کے انہدام اور اشتراکیت کے نظام کی ناکامی کے بعد کاش ! کارل مارکس بھی زندہ ہوتے اور اپنی گنہگار آنکھوں سے اس تاریخی شکست کو دیکھ پاتے،ہمارا گمان ہے کہ اگروہ ز ندہ ہوتے تو روسی صدر کے ساتھ اسلامی بینکنگ کے افتتاح کے موقع پر'ربن'' کاٹتے ہوئے وہ بھی تالیاں بھی بجا رہے ہوتے۔
 

بشکریہ اردو کالمز