ہماری تائی اماں مرحومہ کہتی تھیں کہ ہم نے بزرگوں سے سنا ہے کہ قرب قیامت کی نشانیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ گھر گھر منڈوا '' سینما''ہوگا، لوگ ناچ گانا دیکھیں گے، ادب و احترم اور شرم و حیا جیسی اقدار بتدریج دم توڑ ہو جائیں گی،ہم ان کی بات پر ہنسا کرتے ،کہ بڑے شہروں میں چندایک سینما گھر ہیں، دیہات میں تو اس کا تصور بھی محال ہے، اُس دور میں فلم دیکھنا بھی بڑی برائی سمجھا جاتا تھا، جن افراد کے بارے میں پتہ چلتا کہ وہ فلمیں دیکھتے ہیں، انھیں '' لوفر'' کے القابات سے پکارا جاتا تھا،والدین ایسے لڑکوں سے میل جول رکھنے پر بچوں کو سزا بھی دیتے تھے۔ شہروں میں اگرچہ فلم دیکھنے کی سہولت اور آزادی تھی، اس کے باوجو متوسط گھرانوں کے بچے فلم بینی کے بعد والدین سے آنکھیں چرا کر گھر میں داخل ہوتے تھے۔ بعد ازاں ٹی وی آیا تو بھی دیہاتی کلچر میں اس کو ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا گیا،پورے گائوں میں سے ایک آدھ گھر میں ٹی وی ہوتا تھا،اس کے بعد وی سی آر کا زمانہ آیا،تفریح کا یہ آلہ بھی'شرف قبولیت'' حاصل نہ کر سکا،لڑکیوں کا ڈرامہ اور فلم دیکھنا تو بہت ہی برا سمجھا جاتا تھا۔ ممکن ہے کہ نسل نو اُس دور کو دقیانوسی کا زمانہ قرار دے ،اب تو سمارٹ فون کی صورت میںہر گھر میں ہی نہیں بلکہ ہر ہاتھ میں ''منڈوا'' ہے، جس میں صرف فلم دیکھنے ہی کی سہولت نہیں بلکہ اپنی وڈیوز بنانے کے فیچرز موجود ہیں۔ ہر چند انفارمیشن ٹیکنالوجی نے عام فرد کے لئے بہت سی آسانیاں پیدا کردی ہیں،تما م مکاتب فکراس جدید ترین ڈیوائس سے مستفید ہورہے ہیں، ای کامرس سے لے کر ای گورننس تک نے انتظامی امور اور تجارت کو سہل بنا دیا ہے۔ تعلیم وتدریس سے وابستہ طبقہ کے لئے یہ کم یاب نعمت سے کم نہیں، علم کا ایک سمندر ان کے سامنے کھلا ہے،دنیا کے علوم انکی دسترس میں ہیں، یہ گھر بیٹھے عالمی لائبریری سے بھی استعفادہ کر سکتے ہیں۔ بہت سے آن لائین کورسز بغیر فیس سے کئے جاسکتے ہیں، دنیا بھر کی سیر کیمرہ کی آنکھ سے کی جاسکتی ہے، معلومات کا ایک خزینہ آپ کی مٹھی میں بند ہے، آپ حضر میں ہوں یا حالت سفر میں انٹرنیٹ کی وساطت سے آپ فائدہ اُٹھا اوراسکی مدد سے آپ منزل مقصود تک باآسانی پہنچ سکتے ہیں، کسی بھی ائیر لائین کی ٹکٹ،ٹرین سے متعلق گھر بیٹھے آپکو میسر آسکتی ہے۔ بیرونی دنیا کے ماہر ترین ڈاکٹرز سے مشاورت ممکن ہوئی ہے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی نے علم و تحقیق کے نئے دریچے عیاں کئے ہیں، دنیا بھر کے کلچر، ثقافت، رسم وراج ،رہن سہن سے آپ آشنا ہوسکتے ہیں، دنیا کے معروف مذہبی سکالرز کے علوم کا مطالعہ اسی سے ممکن ہے، یورپ میں بیٹھے بچوں کو قرآن کی ناظرہ تعلیم دینا بہت آسان ہو گیا ہے، دنیا بھر کے اخبارات اور ٹی وی چینل تک آپکی رسائی ہے ۔اس وقت ہزاروں افراد فری لانسنگ اور مختلف ایپس کو استعمال کرتے ہوئے روزی کما رہے ہیں،گویا پورے عالم میں ایک انقلابی کیفیت ہے، دنیا حقیقتاً ایک گائوں کا منظر پیش کر رہی ہے، حتیٰ کہ دیہات کے باسیوں کے لئے بھی ممکن ہوا ہے کہ وہ دیار غیر میں اپنے پیاروں سے وڈیو کال پر بات کر سکیں۔ مذکورہ بالا مثبت پہلو سمارٹ فونز سے سوشل میڈیا تک کے مستعمل ہونے سے ہیں۔لیکن ایسا سماج جس کو ماضی میں فلم بینی کی بھی اجازت نہ ہو، خاندان کے ساتھ ڈرامہ دیکھنا بھی محال ہو، اس معاشرہ میں تعلیم، روزگار اور روابط کے نام پر بغیر تربیت کے سمارٹ فونز رکھنے کی کھلی آزادی مل جائے تو اس کے منفی استعمال کا ہونا اور اس کے مابعد اثرات سے فرار نا ممکن ہے۔ ٹک ٹاک ایپ کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ ڈاون لوڈ کرنے والی ایپ ہے، ہماری نسل نو اسکی دلدادہ ہے، اسی طرح شارٹ وڈیوز جسے ''ریل'' کا نام دیا جاتا ہے ،وہ بھی ان میں مقبول ہے، اس میں کوئی دورائے نہیں وہ لوگ جنہیں کسی پلیٹ فارم پر اپنی خفتہ صلاحتیں دکھانے کا موقع نہیں ملا،ایسی ایپس سے وہ ناظرین کو'' محظوظ '' کرتے نظر آتے ہیں،اس دوڑ میں خواتین بھی پیچھے نہیں ہیں، المیہ یہ ہے کہ تعلیمی اداروں کی نوعمر بچیاں اور بچے بھی ٹک ٹاکر بن رہے ہیں،جنکی تمام مثبت اور منفی سرگرمیاں اب پورے عالم میں دیکھی جاتی ہیں،ایسی سہولت کے منفی نتائج سے والدین بھی پریشان ہیں، بدلتے طور طریقوں کو سامنے رکھتے ہوئے سائبر ایکٹ کے تحت انٹرنیٹ جرائم پر قابو پانے کے لئے قانون سازی کی گئی ہے، جب متاثرین کے ہاتھ کا تیر کمان سے نکل جائے تو پھر حرف تاسف ہی بچتا ہے۔ جنوبی پنجاب حاصل پورسے تعلق رکھنے والی ایسی ہی ٹک ٹاکر جو دیہاتی زندگی پر وڈیوز بنا کر شہرت کی بلندیوں پر پہنچ گئی تھی، اسکی ایک ناپسندیدہ اور غیر اخلاقی حرکت نے اسے وآپس زمین پے لا کھڑا کیا ہے، غیر محرم سے چیٹ کرتے ہوئے اس نے وہ حد پار کر دی جس کا کسی عورت سے تصور بھی ممکن نہیں ہے، دیار غیر میں بیٹھے فرد نے وہ سب کچھ آن ائیر کردیا ،جو خلاف توقع اور قانون تھا ہرچند متاثرہ ٹک ٹاکر نے قانون کی مدد لی ہے، کیا قانون اس ٹک ٹاکر کو بھی ایسی وڈیو بنانے کی اجازت دیتا ہے؟ اگر تھیٹر میں فنکاروں کو اس بات کا پابند کیا جاتا ہے کہ وہ اپنے جسم کی نمائش نہ کریں، ورنہ انھیں حد کا سامنا کرنا ہو گا ،پھر اس طرح کی ٹک ٹاکر کیونکر قانون اور سزا سے مستثنیٰ قرار دی جاسکتی ہیں، کسی ایک کے لئے نرم گوشہ رکھا گیا تو خدا نخواستہ یہ روایت نہ چل نکلے، سوشل میڈیا تو ہر عمر کے افراد کی دسترس میں ہے،سائبر سیکس کے انداز میں دعوت گناہ دینے کو کوئی سماج برداشت نہیں کرتا۔ روایت یہ ہے کہ مصر کی ایک عدالت نے ٹک ٹاکرز کو لڑکیوں میں فحاشی پھیلانے پر قید اوربھاری جرمانے کی سزا سنائی تھی، اس طرح انڈونیشیاء کی ایک عدالت نے ٹک ٹاکر کو سور کا گوشت کھانے سے قبل بسمہ اللہ پڑھنے پر توہین مذہب کے ارتکاب جرم پر قید اور جرمانہ کی سزا دی تھی، ان کی وڈیوز بھی وائرل ہوئی تھیں، اسلامی روایات، اقدار کے خلاف ٹک ٹاکر کا نازیبا فعل بھی خلاف قانون ہے، اسکی وڈیو لیک کرنے والے تارک وطن کے ساتھ ساتھ موصوفہ کو بھی کٹہرہ میں لا یا جائے تاکہ آ ئندہ کسی کو بھی تفریح کے نام پر بے حیائی پھیلانے کی ہمت نہ ہوسکے۔
451