جیسا کروگے ویسا بھروگے 247

جیسا کروگے ویسا بھروگے

وقت سب سے بڑا استاد ہے کسی بھی شخص کو بڑی بڑی یونیورسٹیاں جو کچھ نہیں سکھلا پاتیں وہ وقت سکھلا دیتا ہے۔ اگر کسی کو غور و تفکر کی عادت ہو تو ’’والعصر ‘‘کی رمز بھی یہی ہے،ساحر لدھیانوی نے شاید اسی تفکر کو یوں نظم کیا ہے ..

وقت سے دن اور رات، وقت سے کل اور آج

وقت کی ہر شے غلام، وقت کا ہر شے پہ راج

‏وقت کی گردش سے ہے، چاند تاروں کا نظام

وقت کی ٹھوکر میں ہے، کیا حکومت کیا سماج

وقت کی پابند ہیں آتی جاتی رونقیں

وقت ہے پھولوں کی سیج، وقت ہے کانٹوں کا تاج

آدمی کو چاہیے وقت سے ڈر کر رہے

کون جانے کس گھڑی وقت کا بدلےمزاج

لیکن کیا کریں لوگ جب طاقت میں ہوتے ہیں تو وقت سے سیکھتے نہیں ہیں ورنہ ہم لوگ کس قدر خوش قسمت ہیں کہ سیکھنے کیلئے اپنا زمانہ ہی نہیں پچھلی پانچ ہزار سالہ تاریخ کھلی کتاب کی طرح ہمارے سامنے ہے۔اس کائنات میں جو بھی اپنی اکڑفوں کے ساتھ مسند نشیں ہوا ، اس نے انسانی دکھوں میں اضافہ ضرور کیا لیکن بالآخراس کا اپنا انجام بھی خوشگوار نہ رہا ۔ دنیا میں کتنے افلاطون، ارسطو، بدھا، ٹیگور، کارلائل اور رسل جیسے دانا و مدبر آئے مگر جبر پر آمادہ خودستائی کے مارے متکبرین نے ان سے کوئی سبق نہ سیکھا ۔کوفہ کی ایک دردناک مثال پیش کی جاتی ہے کہ جب حکمران کی حیثیت سے مروان اپنے مخالف کی گردن کاٹنے کا حکم صادر کررہا تھا تو ایک بوڑھا مسکرایا، وجہ معلوم کرنے پر بولا کہ یہاں اسی تخت کے سامنے میں نے کس کس کو مخالفین کی گردنیں کاٹنے کا حکم دیتے اور پھر اسی تلوار سے ان کی اپنی گردنیں کٹتی دیکھی ہیں، یہ تو مکافاتِ عمل ہے۔

ہمارے جناح ثالث کے ساتھ ابھی توکچھ بھی نہیں ہوا، ابھی تو اس کے رکھوالےاسکی ضمانت کا انتظام کر دیں گے لیکن اس چند روزہ جیل یاترا نےوہ کیسابوکھلا گیا ہے!موصوف دوسروں کو طعنے دیتےتھےکہ یہ جیلوں سے کیوں ڈرتے ہیں ، قیدی ہیں تو دوسرےقیدیوں کی طرح رہیں جو دوسرے جیلوں میں کھاتے ہیں یہ بھی وہی کھائیں نواز شریف میں تمہیں چھوڑوں گا نہیں ذرا میں واپس آلوں سب سے پہلے تیرا اے سی اترواؤں گا ،کون سا مخالف ہے جس کو اس شخص نے دھمکیاں نہ دیں؟ اس شخص کی پوری سیاست ہی ایسے تھرڈ کلاس الزامات میں ڈوبی رہی، رانا ثنا اللہ تو اس کا اور اس کے ہمنواؤں کا خصوصی ہدف رہا ہے خدا کو جان دینے کی قسمیں کھانے والا اس کا خوشامدی جب پندرہ کلو ہیروین کا جعلی کیس بنوارہا تھاساتھ آیات کا ورد بھی کررہا تھا۔ خان آج تم چند روز کی جیل یاترا پر ہی بلبلا اٹھے ہو کہ یہاں بڑی گرمی ہے مکھیاں مچھر مجھے تنگ کرتے ہیں یقیناً اس سے آپ کی نیند خراب ہوتی ہوگی کیونکہ آپ تو پیدائشی رئیس ہیں نازونعمت میں پلے بڑھے۔ جہاں اتنی موج مستیاں کرتے رہے ہو وہاں چند دن کی یہ مشقت بھی خوش دلی کے ساتھ برداشت کرلو البتہ یہاں کی تنہائی میں اگر شعور کام کررہا ہے جو بیچارہ اتنا کمزور بلکہ نہ ہونے کے برابر ہے اس پر اتنا زور ضرور ڈالو کہ میں اپنی خرمستی کے سارے دور میں دوسروں پر ایسے ایسے بیہودہ الزامات کیوں عائد کرتا رہا ہوں؟اپنے عوام کو اتنا بیوقوف کیوں سمجھتا رہا ہوں؟ ۔ آج دیکھ لیا نا اپنے جھوٹ پہ جھوٹ کا نتیجہ جو تمہاری گرفتاری تمہاری ہدایات کے عین مطابق ریڈ لائن کی گردان الاپتے ہوئے فوجی تنصیبات پر ٹوٹ پڑے تھے، آج پوری دنیا کا میڈیا دکھارہا ہے کہ طالبان خان کی گرفتاری پر کہیں سے بھی احتجاج کی کوئی صدا بلند نہیں ہوئی ہے۔ شاباش میرے یوتھیو یعنی کہ کھلاڑی کے فین کلب والے جذباتی نوجوانو! تم نے بھی وقت کے بدلتے تیوروں سے کافی کچھ سیکھ لیا ہےمیرے نوجوانو! یادرکھو کامیاب انسان وہی ہوتا ہے جو وقت اور بدلتے حالات سے سیکھتا ہے اگر زندگی میں کہیں ٹھوکر کھاتا ہے تو اگلی مرتبہ اس کھائی یا چٹان سے دور رہتا ہے آپ کی پارٹی کے بڑے بڑے لیڈروں کو سمجھ آگئی ہے تو آپ لوگ بھی سمجھ جاؤ کہ اب ان تلوں میں تیل نہیں ۔ تمہارا لیڈر اب ایک چلا ہوا کارتوس ہے اس پر عروج کا ایک وقت ضرور آیا تھا ،جسے اپنے غرور و تکبرکے باعث وہ سنبھال نہ پایا اب جلد یا بدیر اسے اپنے کرموں کا پھل ملنے والا ہے اس جناح تھرڈ نے جتنے بے گناہوں کی تذلیل کی ان کی آہیں اس کا پیچھا کیوں نہیں کریں گی؟ ہمیشہ کرتی رہیں گی۔

آج پوری دنیا کے میڈیا میں یہ پوری طرح عیاں ہوگیا ہے عالمی میڈیا میں نمایاں سرخیوں کےساتھ توشہ خانے کی لوٹ مار اور بے ایمانی کی کہانیاں شائع ہوتی ہیں فینزکلب کی اگر پوری تسلی نہیں ہوئی ہے تو وہ ”القادر ٹرسٹ“ میں اربوں کی ہیراپھیری سے واضح ہوجائے گی بس ذرا ستمگر ستمبر کا مہینہ گزرلے۔ اب جناح ثالث کو یہ ازبر ہوجانا چاہیے کہ جو کروگے وہی بھرو گے اور آخری بات یہ کہ مذہب کے جعلی تڑکے لگانے اب بس کردو جس چیز کی ابجد کا بھی تمہیں علم نہیں ہے اس پر یوں بڑی بڑی کیوں چھوڑتے ہو؟

بشکریہ ڈان ںیوز