جی ایس پی پلس سہولت کی بحالی 262

جی ایس پی پلس سہولت کی بحالی

یورپی یونین (EU)نے 2014ء میں پاکستان کو 5 سال کیلئے ڈیوٹی فری ایکسپورٹ کیلئے GSP پلس سہولت دی تھی جس کو مزید 5 سال کیلئے بڑھاکر دسمبر 2023ء تک کردیا گیا تھا جس کیلئے پاکستان نے 27 عالمی معاہدوں بالخصوص 16 انسانی حقوق کے قوانین پر عملدرآمد کرنے کیلئے دستخط کئے تھے۔ GSP پلس کے تحت پاکستان کو یورپی یونین ایکسپورٹ پر ٹیکسٹائل سمیت 6300 سے زائد مصنوعات پر 9.6 فیصد کسٹم ڈیوٹی ختم کردی گئی تھی جس سے پاکستان کو اپنے مقابلاتی حریفوں بھارت، ترکی، ویت نام اور چین پر ڈیوٹی فری سبقت حاصل ہوگئی تھی جس کے نتیجے میں پہلے 5سال میں یورپی یونین کو ملکی ایکسپورٹ میں 15 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا۔ پاکستان 27 ممالک کے اہم بلاک یورپی یونین کا بڑا ٹریڈنگ پارٹنر ہے جو ہماری ٹیکسٹائل مصنوعات بالخصوص گارمنٹس، چادریں، تولئے، ہوزری کے علاوہ چمڑے، اسپورٹس اور سرجیکل گڈز کیلئے 44کروڑ افراد کی بڑی مارکیٹ ہے۔ پاکستان کی یورپی یونین سے امپورٹ 5.3 ارب ڈالر اور ایکسپورٹ تقریباً 6.8 ارب ڈالر (6.6 ارب یورو) ہے جو پاکستان کی مجموعی ایکسپورٹ کا 22 فیصد بنتا ہے۔ پاکستان نے GSP پلس سہولت سے ٹیکسٹائل مصنوعات کی ایکسپورٹ میں یقیناً فائدہ اٹھایا لیکن ایگریکلچر، ہارٹی کلچر، اسپورٹس، سرجیکل گڈز، آئی ٹی، کینو، آم کی یورپین مارکیٹ میں جگہ نہیں بناسکا جس کا ایک بڑا پوٹینشل موجود ہے۔ پاکستان کے علاوہ 14 ممالک بولیویا، کرغزستان، منگولیا، آرمینیا، فلپائن، سری لنکا اور پیراگوائے قابل ذکر ہیں جن کی GSP سہولت کی مدت 31دسمبر 2023ء میں ختم ہورہی ہے۔ بنگلہ دیش کو کم ترقی یافتہ ملک (LDC) کی حیثیت سے GSP کا درجہ دیا گیا تھا لیکن کم ترقی یافتہ ملک سے ترقی پذیر ملک میں جانے کے بعد بنگلہ دیش کی GSP پلس کی سہولت ختم ہوجائے گی۔ یاد رہے کہ یورپی یونین نے سری لنکا میں انسانی حقوق کی پامالی پر GSP پلس کی سہولت واپس لے لی تھی۔ GSP پلس سہولت کی وجہ سے پاکستان کی یورپی یونین ایکسپورٹ میں 60 فیصد اضافہ ہوا جو ہمارے مقابلاتی حریفوں بالخصوص بھارت کو قابل قبول نہیں جس نے 27 اپریل 2021ء کو یورپی پارلیمنٹ میں لابنگ کرکے پاکستان کو دی گئی GSP پلس سہولت پر نظرثانی کی قرارداد منظور کروائی جس میں پاکستان کی ڈیوٹی فری مراعات واپس لینے کی تجویز دی گئی تھی جس کے حق میں 662 ووٹ اور مخالفت میں صرف 3 ووٹ آئے جبکہ 26 ممبران نے ووٹنگ میں حصہ نہ لیا۔ قرارداد میں پاکستان میں اقلیتوں کے مذہبی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے علاوہ پاکستان میں دی جانے والی پھانسیوں کے خلاف پروپیگنڈہ تھا حالانکہ پھانسی کا GSP پلس سہولت سے براہ راست کوئی تعلق نہیں تھا لیکن ہماری کوششوں سے 22 ستمبر کو برسلز میں یورپی یونین نے دسمبر 2023ء تک پاکستان کا جی ایس پی پلس درجہ برقرار رکھنے کا اعلان کیا۔ جی ایس پی پلس سہولت سے میرا گہرا تعلق رہا ہے۔ میں نے پیپلزپارٹی دور حکومت میں وزیراعظم کے مشیرِ ٹیکسٹائل کی حیثیت سے جی ایس پی پلس کے حصول کیلئے انتھک کوششیں کیںاوریورپی یونین کوجی ایس پی پلس سہولت کیلئے ایک نئی نظرثانی اسکیم پیش کی جس کے بعدپاکستان اس سہولت کاحقدار بنا ۔ وزیر ِتجارت نویدقمر نے اپنے دورہ برسلزمیں EU میں اس وقت پاکستان کے سفیر ڈاکٹراسدمجیدکے ساتھ یورپی یونین میںانٹرنیشنل ٹریڈکے چیئرمین برنڈلینگی اور دیگراعلیٰ عہدیداروں سے ملاقاتیں کی اور انہیں پاکستان میںسیلاب سے ہونیوالے معاشی نقصانات کے بارے میںبتایا اوردرخواست کی کہ ان حالات میںپاکستان کی GSP پلس سہولت ملک میںنئی ملازمتیں اورغربت میں کمی لانےمیں مددگارثابت ہوگی۔وزیرِتجارت نے زراعت،اینگروانڈسٹریز، واٹرمینجمنٹ، فوڈ سیکورٹی اورسیلاب کی روک تھام کے بارے میںبھی یورپی یونین سے تعاون کی درخواست کی ۔ انہوں نے مجھے کراچی میں حالیہ ملاقات میں بتایا کہ EU کا ردِعمل کافی مثبت تھا ۔پاکستان میںیورپی یونین کی سابق سفیراینڈرولا کمرینانے کراچی میںمجھے بتایاکہ پاکستان کومزید 2024ء سے 2034ء تک جی ایس پی پلس سہولت کی تجدیدکیلئے یورپی یونین کمیشن کونئی درخواست دیناہوگی اوراقوام متحدہ کے 27 معاہدوںکے علاوہ اضافی 5معاہدوں پرعملدرآمدیقینی بناناہوگا جس میںانسانی واقلیتی حقوق،آزادی صحافت،گمشدہ افراد کی بازیابی،معذورافراداوربچوںکےحقوق،بین الاقوامی جرائم،موسمیاتی تبدیلی اورگڈگورننس کے معاہدے شامل ہیں۔خوش قسمتی سے پاکستان نے ان معاہدوںپر دستخط کئے ہوئے ہیں لہٰذایورپی یونین کو ان اضافی کنونشنز پر مطمئن کرنا مشکل امر نہ ہوگا۔ 27معاہدوں پر عملدرآمد کی مانیٹرنگ کیلئے جون 2022ء میں یورپی یونین مانیٹرنگ مشن (EEAS) نے پاکستان کادورہ کیاتھا جس کی رپورٹ یورپین پارلیمنٹ کو 2023 کے آخرتک جمع کرائی جائے گی جس پر ہماری جی ایس پی پلس سہولت کی مزید 10 سال کیلئے تجدید کا دارومدارہے۔ پاکستان کے FATF کی گرے لسٹ سے کامیابی سے نکلنے سے جی ایس پی پلس سہولت پر مثبت اثرپڑاہے کیونکہ FATF کے کئی کنونشن GSP پلس سے ملتے ہیں لیکن بھارت مسلسل پاکستان میں انسانی و اقلیتی حقوق، آزادی صحافت، گمشدہ افراد کی بازیابی کے ایشوزیورپی یونین میںاٹھاکرپاکستان کودی گئی جی ایس پی سہولت کوواپس لینے کیلئے پروپیگنڈہ کررہاہے۔ وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری اور وزیر تجارت کو تجویز ہے کہ وہ جی ایس پی سہولت کی تجدید کیلئے یورپی یونین کے ممالک سے سفارتی حمایت حاصل کریں۔ بلاول بھٹو اور نوید قمر جی ایس پی پلس پریورپی یونین کے کئی ممالک کے ہم منصبوں سے ملاقاتیں کرچکے ہیںجس پر انہیںمثبت ردعمل ملا ہے۔ جی ایس پی پلس سہولت کی مزید 10 سال کیلئے تجدید پاکستان کی ٹیکسٹائل صنعت ،جو پہلے ہی مشکلات کا شکار ہے، کیلئے نہایت اہم ہے۔ ڈیوٹی فری سہولت واپس لینے کی صورت میں پاکستان کی یورپی یونین ٹیکسٹائل ایکسپورٹس بری طرح متاثر ہوں گی جس کا ملک موجودہ حالات میں متحمل نہیں ہوسکتا۔

بشکریہ ہم سب