جشنِ حرّیت ……… 178

جشنِ حرّیت ………

دُکھوں میں آئی ہے سُکھ کی گھڑی کیا

اندھیرے میں ہوئی ہے روشنی کیا

کسی پَل چَین سے ہم بیٹھتے ہوں

یہ انہونی بھی ہوتی ہے کبھی کیا

رواجاً ہنس رہا ہو آدمی تو

بَھلی لگتی ہے ہونٹوں پر ہنسی کیا

نہ ہوں آزاد اگر ہم بندِ غم سے

تو جشنِ حرّیت کی ہو خوشی کیا

تہی دست و تہی دامن ہیں کیوں ہم

جہاں میں نعمتوں کی ہے کمی کیا

ہمیں نفرت ہے بیکاری سے لیکن

کسی بھی کام میں لگتا ہے جی کیا

شعورؔ اب شہر میں سب ایک سے ہیں

شناسا کیا عزیزم ! اجنبی کیا

بشکریہ جنگ نیوزکالم