جشن آزادی کیسے منائیں؟ 216

جشن آزادی کیسے منائیں؟

    حالیہ دنوں سبھی جشن آزادی منانے کی تیاریوں میں مگن ہیں، بچے ، جوان، بوڑھے، عورتیں، مرد چودہ اگست کا انتظار کر رہے ہیںاور اس کے لیے جھنڈے ، جھنڈیاں، کپڑے، چوڑیاں اور باجے وغیرہ خریدنے میں مگن ہیں۔ کیونکہ چودہ اگست کے دن ہم نے اپنے اسلام ملک کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے تمام غیر اسلامی کام کرنے ہیں، ہم نے اسلامی ملک کے حصول کے لیے قربانیاں دینے والے اپنے بزرگوں کو یاد کرنا ہے جس کے لیے غیر اسلامی طریقے اختیار کریں گے۔ ہم سال میں ایک دن جشن آزادی خوب دھوم دھام سے مناتے ہیں جس کا طریقہ نہایت عجیب اور شرمناک ہے۔ اس دن نوجوان موٹرسائیکلوں پر سارا دن شور مچاتے اور ون ویلنگ کرتے اپنی اور دوسروں کی جان کو خطرے میں ڈالتے پھرتے ہیں۔ جو خود کو تھوڑے سمجھ دار خیال کرتے ہیں وہ گانے بجانے میں مصروف ہوتے ہیں۔ ہمارے ملک میں چودہ اگست کی مرکزی تقریب میں بھی بے پرد گانے والوں اور گانے والیوں کو بلایا جاتا ہے جو خوب ناچتے اور گاتے ہیںمختصراً یہ کہ اس دن اسلامی ملک کے وجود میں آنے کی خوشی کے نام پر اللہ رب العزت کے تمام احکامات کو پیروں تلے روندا جاتا ہے۔ 
    کسی کو اس بات کا احساس ہی نہیں ہوتا کہ جشن آزادی منانے کا مقصدکیا ہے ، جو سارا دن موٹرسائیکلوں پر کرتب دکھاتے رہتے ہیں وہ کیا جانیں پاکستان کیوں بنا تھا؟ ہمارے بزرگوں نے اس کے لیے اتنی قربانیاں کیوں دی تھیں، انہوں نے اپنے ملک کو دو ٹکرے کیوں کیا تھا؟ کیا اس لیے کہ ہم اس میں گانوں کی دھنوں پر ملی نغمے بنا کر رقص کرتے پھریں۔ اس وقت تو یہ کہا جاتا تھا کہ ہم نے پاکستان اس لیے بنانا ہے کہ ہم ہندوؤں سے الگ پہچان رکھتے ہیں ، ہمارا مذہب ، ہماری ثقافت، ہماری تاریخ سب کچھ ہندوؤں سے مختلف ہے ہم ان کے ساتھ مل کر ایک قوم نہیں بنا سکتے۔ ہم ایک ایسا ملک چاہتے ہیں جہاں ہم اپنے دین کے سنہری اصولوں کے مطابق زندگی گزارنے کے قابل ہو سکیں۔ مگر ملک بن جانے کے بعد کسی صاحب اقتدار نے اسے اسلامی ملک بنانے کی کوشش کی نہیں اور نہ ہی کسی نے اس کی خواہش ہی ظاہر کی ہے۔ ہم نے ملک حاصل کرنے کے بعد تمام طریقے اور قوانین ہندوؤں اور انگریزوں کے بنا ڈالے ، ہم انہی کے نقش قدم پر چل نکلے جس کی وجہ سے پاکستان حاصل کرنے کا مقصد ہی باقی نہ رہا۔ ہندو اور انگریز بھی ہمیں دیکھ کر یہ سوچتے ہیں کہ اگر یہی سب کچھ کرنا تھا تو ہم نے کب منع کیا تھا ہمارے ساتھ ہی رہ کر کرتے رہتے۔ ہماری تو اب یہ حالت ہو گئی ہے کہ 
    وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنود
    یہ مسلماں ہیں! جنہیں دیکھ کر شرمائیں یہود
    ہم ایک دن بہت جوش و خروش سے وطن سے محبت کا اظہار کریں گے ، ملی نغمے گائیںگے، وطن کی مٹی کے تعویذ بنائیںگے، پاکستان کا شکریہ ادا کریںگے، اس کی دھرتی پر قربان جائیںگے ،اسے خزاں سے بھی بچانے کی کوشش کریں گے ، بہاریں بھی اس پر قربان کرنے کی خواہش کریں گے ، پورے ملک میں ہی ہلہ گلہ مچا ہو گا پھر ہم ہی ہوں گے کہ دوسرے دن سے ہی اس کی جڑیں کاٹنے کا کام شروع کر دیں گے ، کرپشن ، رشوت، لوٹ مار سب کچھ کریں گے اور جنہیں ان سب کا موقع نہیں ملے گا وہ ملک سے بھاگنے کی کوشش میں مصروف ہو جائیں گے۔ ملک کو ترقی دینے، اسے سنوارنے ، اس کے حالات کو درست کرنے کی کسی کو فکر نہیں ہو گی۔ کیونکہ ہماری سوچ اس قدر بلند ہونے ہی نہیں دی گئی کہ ہم اس ملک کی ترقی کے بارے میں کچھ سوچ سکیں ۔ ہمیں بس ناچنے گانے تک ہی محدود رکھا گیا ہے ہمیں صرف اتنا ہی بتایا گیا ہے کہ جشن آزادی منانے کا یہی طریقہ ہے کہ اس دن خوب گانے گائے جائیں ، موسیقی کی دھنوں کے ساتھ وطن سے محبت کا اظہار کیا جائے ۔ کیونکہ اگر ہم کچھ سوچنے سمجھنے کے قابل ہو گئے تو ہمارے حکمران خاندانوں کی عیاشیاں ختم ہو جائیں گی۔ 
    عوام اور عوام میں ہی صاحبان علم و شعور کو چاہیے کہ وہ عوام کو سیدھی راہ دکھانے اور ان میں شعور پیدا کرنے کے لیے کوشش کریں ، ملک کو ترقی دینے کے لیے عوام میں شعور پیدا کرنا نہایت ضروری ہے ۔ چودہ اگست کے دن جشن آزادی منانا ضروری ہے لیکن اس کے لیے یہ طریقہ ہونا چاہیے کہ ایسے پروگرام رکھے جائیں جو فکری اور نظری ہوں ، ان میں ناچ گانے کی بجائے نوجوانوں کو سمجھایا جائے کہ پاکستان کیوں حاصل کیا گیا اور اس کے مقاصد کو ہم نے کیسے حاصل کرنا ہے؟ انہیں سمجھایا جائے کہ پاکستان موجودہ خستہ حالی تک کیسے پہنچا اور اسے درست کرنے کا کیا طریقہ ہو گا؟ انہیں بتایا جائے کہ جس وقت آپ یہاں بیٹھے آزاد فضاؤں میں جشن آزادی منا رہے ہیں اسی دن 1947میں ہمارے بزرگ پاکستان کے شوق میں اپنی جانیں قربان کر رہے تھے۔ لیکن وہ ایسا کیوں کر رہے تھے کیونکہ وہ ایک ترقی یافتہ اسلامی ملک دیکھنا چاہتے ، جسے وہ تو نہ دیکھ سکے مگر ہم نے ان کے خوابوں کو پورا کرنا ہے ۔ اس کے لیے ہمیں اس ملک کے ساتھ مخلص ہونا ہے ، اسے تمام برائیوں سے پاک کرنا ہے اور اسے ترقی دینے کے لیے ہم سب نے اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ جشن آزادی اگر اس طرح منایا جائے تو ملک و قوم کو اس کا فائدہ ہو گا۔
    

بشکریہ اردو کالمز