یہاں حد نظر نیلگوں آسمان ، پرندوں کی سریلی آوازیں اور سبزہ و گل مانند ریشم و اطلس بکھرا پڑا ہے ، خصوصاً پرندوں کی صدا کاری اتنی سریلی ھے کہ دل کرتا ہے اس خواب نما وادی میں ڈوبے رہیں ، اس مرتبہ ھمالہ نے بھی کمال کر دیا ہر دوسرے دن برف کی ایک اور دبیز چادر اوڑھ لیتا ہے ، تتلیوں نے تو لگتا ہے سارا جہاں چھوڑ کر ادھر کا رخ کر لیا ہے ، آنکھوں میں چمک اور تازگی کے ساتھ مے نوشی کے آثار نمایاں ہیں ، ھلکی خماری اور نیم بے ھوشی جنت کا احساس دلاتی ہے ، شاید اسی لیے اسے جنت نظیر وادی کہا گیا تھا ، اتنی سیٹیاں بجاتی ھوائیں ہیں کہ جو آنکھوں کو طراوت اور دل و روح کو سکون بخشتی ہیں، انسان نہ چاہتے ہوئے بھی کہیں ابدی حسن و جمال میں کھو جاتا ہے، کسی مغل شہنشاہ جہانگیر کا سفر ھو کہ نور الدین ولی اور شاہ ھمدان کے گوشہ تنہائی میں ڈوبے روح پرور شب و روز، جنت نظیر نے سب کو جکڑے رکھا ہے، راجے مہاراجے ، قبائلی اور تند مزاج لوگ اس کو تاراج کرتے رہے مگر اس کا حسن و جمال ماند نہیں پڑا، ابھی میں یہ الفاظ لکھ ہی رہا تھا کہ شہید کی مکھیوں کا ھجوم سر بکھیرتے گزرا ہے کہ فطرت کے سات سروں نے محو کردیا ، سوچتا ہوں آدم کو جنت سے کیوں نکالا گیا ، کیا یکسانیت اور حسن کی موجوں نے کنارے لگا دیا یا بیدخل کر کے سزا دی گئی ہے ، یہ سرا سر آدم کی متلون مزاجی ھے اور غفلت بھی کہ دنیا میں جنت نظیر خطوں کو زخم دینے میں ذرا بھی دیر نہیں کرتے ،
وادی کشمیر بھی زمین پر جنت کا ایک ٹکڑا ہے جہاں امن اور استحکام کو ایک طرف بھارت کی نو لاکھ فوج ،پولیس اور ھندو انتہا پسندوں نے یرغمال بنایا ھوا اور دوسری طرف آزاد کہلایا جانے والا خطہ قحط الرجال کا شکار ھے ایک طرف انسانوں کی سنگین فطرت جنگ ابادی کی صورت میں بپا ہے دوسری جانب بے اعتنائی اور غفلت بلکہ ظالمانہ سوچ کی نذر ہو گئی جبکہ حکومتوں اور حکمران طبقے کی موج مستیاں عروج پر ہیں ، قیادت کا سیاہ ترین بحران اس کا حسن دور کی بات ضمیر و انصاف بھی زد کوب کر دیا ہے ، جو کچھ پاکستان میں ھو رھا ھے اس سے کئی گنا زیادہ یہاں ایوانوں میں اور قانون کے ساتھ ھوتا ھے ، گزشتہ دو دہائیوں سے تو حکومتوں اور اس کے چلانے والوں کی نظر صرف پیسے پکڑنے اور مہنگی گاڑیوں میں گھومنے اور زمین و جائیداد پر ہی ھے ، حکومتوں کی تبدیلی ایک مذاق بن چکی ھے جیسے ہی پاکستان میں کوئی انگڑائی جنم لیتی ھے بندے پیسے پکڑ کر ادھر ادھر ھو جاتے ہیں ، برادریوں اور مال و دولت نے ہر شخص کو اندھا کردیا ہے ، جب عمران خان پاکستان میں وزیر اعظم بنے تھے تو یہاں ان کی سخت ترین مخالف حکومت تھی مگر انہوں زیادہ چھیڑ خوانی نہیں کی بلکہ کسی قسم کا قدغن نہیں لگایا ، اس سے قبل تین وزیراعظم تبدیل ھوئے تھے ، اب کی بار پھر ہر ایم ایل اے وزیر اعظم بننے کے چکر میں مہم جوئی میں مصروف ہے پہلے ایک تبدیل ھوا وہاں بھی مال و دولت مرکزی نکتہ تھا اب نئے چوھدری آئے تو یہاں بھی دولت اور منصب بنیادی مقصد ھے ، لگتا یہ ہے کہ یہ بھی زیادہ عرصہ نہیں نکالیں گے ، ایک سیاسی تجویز پہ سیاستدانوں کو غور کرنا چاہیے کہ پاکستان اور آزاد کشمیر کے انتخابات بلکہ گلگت بلتستان میں بھی ایک ہی دن یا ساتھ ساتھ ھونے چائیے ، دوسرا پارٹی پالیسی سے انحراف پر۔ پابندی ھونی چاہیے جس کو بھی ایسی خواہش گھیرے وہ اسمبلی سے استعفیٰ دے اور دوبارہ الیکشن لڑے ، یہ قابل قبول نہ ھو تو بہتر ہے ایک منتظم پانچ سال کے لیے منتخب کر دیا جائے ، افسوس ناک امر یہ ہے کہ ھماری پوری معاشرت سیاست سے جڑ گئی ہے انتظامیہ ، عدلیہ اور ادارے سارا سال حکومت بنانے توڑنے اور سفارشی کلچر کے پیچھے چلتے رہتے ہیں اور یہ چھوٹا سا خطہ آن گنت مسائل کا شکار ہو چکا ہے ، انفراسٹرکچر ، سیاحت اور قانون فطرت کو بری طرح پامال کر دیا گیا ہے ، تعلیمی ادارے ھوں یا بلدیہ کا نظام صلاحیت ماحول کو پراگندہ کر رہا ہے ،
امسال عید پہ میں نے مکمل مشاہدہ کیا ، عید گاہ اور مساجد میں نظر دوڑائی جس میں میں نے دیکھا کہ تقریباً ساٹھ فیصد افراد اٹھارہ سے بائیس سال کی عمر کے ھوں گے ، بیس فیصد بچے ، اور پندرہ فیصد افراد کی عمر تیس سے پچاس سال کی ھوگی بوڑھے افراد کا تناسب صرف پانچ فیصد سے زیادہ نہیں ، ان حالات میں سیاسی اور سماجی سطح پر بڑی منصوبہ بندی اور منظم کوششوں کی ضرورت ہے ، پورے پاکستان میں اس سائیکی کو سمجھنے کی ضرورت ہے ، اب لوگ اسی تناسب سے ردعمل بھی دیتے ہیں اور آپے سے باہر بھی ھو جاتے ھیں ، بڑی مشکل سے ایل پی جی کی آمد سے درختوں کی کٹائی ستر فیصد کم ھوئی تھی اور آج جنگلات کی اور درختوں کی ایک بہتر پوزیشن ھے مگر خود روزگار میں کمی ، اور حکومتوں کی غفلت کی وجہ سے مقامی لوگ شہروں میں منتقل ہو چکے ہیں جس سے شہروں پہ بھی دباؤ بڑھ رہا ہے اور ابادی میں اضافے کی وجہ سے ماحولیاتی مسائل بڑھ رہے ہیں جو جنت نظیر کو فطری حسن سے دور لے جا رہے ہیں ، آپ جنت میں بیٹھ کر انسان کی ان موج مستیوں کو کب تک برداشت کریں گے ، اقبال کا ایران صغیر ھو کہ اولیاء کرام کا روحانی مسکن اب یہ اجڑ رہا ہے محض آدم کی موج مستیوں کی وجہ سے ، معاشرے میں بھی وہی رنگ اتر گیا ہے حالانکہ فطرت تقاضا کرتی ہے کہ سماج کا اثر اوپر جاتا مگر سماجی تربیت کا سارا نظام معاشی تنگ دستی ، حسد اور حرص و طمع نے کھا لیا ہے اس لئے یہاں سارا سماج حکومت سے جڑا ہوا ہے ، اب اس سبزہ و کہسار میں وہ پہلے جیسے حالات نہیں ، معاشرتی بندھن شکست و ریخت کا شکار ہیں ، پانی جیسی فطری دولت چھنتی جا رہی ہے ، پرندے اب بھی بولتے اور ثناء خوانی کرتے ہیں ، بیاڑ ، دیودار ، چنار اور سفیدے کے بلند و بالا درخت اب بھی لہلہاتے ہیں مگر موج مستیوں نے دل اداس کر دیا ہے ، پھلدار درختوں میں البتہ کمی ھوئی ھے چونکہ ابادی بڑھ چکی اور پھلوں کو کوئی کمرشل شکل نہیں دی جا سکی ، جس کی وجہ سے دلچسپی کم ھو چکی یہ موج مستیاں آدم کی اسی طرح رہیں تو ڈر ہے کہ کہیں فطرت خود اسے یہاں سے نکلنے پر مجبور نہ کر دے ، جنت سے نکالا جانا اس کی اپنی غفلت ھے یا فطرت ھے جس کا اعلان کسی وقت بھی ھوسکتا ھے
اور یہ صورت ھوگی کہ ۔۔
"بڑے بے آبرو کے تیرے کوچے سے ہم نک
1506