دنیا بھر کی جمہوریتوں کا چلن اس یونیورسل اصول پر ہے کہ ’’طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں‘‘لیکن تضادستان میں طاقت کا سرچشمہ وہ ہے جسکے ہاتھ میںلاٹھی ہے، اگر کسی کو شک ہے تو بے شک9 مئی والوں سے پوچھ لے، یہی وجہ ہے کہ اس وقت ہماری پوری سیاست لٹھ برداروں کی خوشنودی کیلئے مسابقت میں ہے ۔ ہمارےخطہ بدنصیب کے باسی اتنی بربادی کے بعد بھی اپنی جنونیت سے باز نہیں آرہے، شعور اور دانش سے شاید ان کو خدا واسطے کا بیر ہے ۔شاید اسی لیے ایک بہن کلبلا رہی ہے کہ میرے بھائی کا ذہنی توازن ٹھیک نہیں رہا اور سیانے یہ پوچھ رہے ہیں کہ بی بی اسکا ذہنی توازن ٹھیک تھا کب؟اگرٹھیک ہوتا تو وہ اقتدار کے سنگھاسن پر براجمان ہو کر حوصلے سے کام لیتا ،اپنے سیاسی حریفوں کے خلاف اپنی زبان کو لگام دیتا جبکہ وہ تو انہی پر حملہ آور ہو گیا جنکی وہ پیداوار تھا ۔اب وہ کس منہ سے تڑیاں لگا رہا ہے کہ”کارکنو! میرے لیے سڑکوں پر نکلو جو امیدوار باہر نہیں نکلیں گے ان کے ٹکٹ تبدیل کر دوں گا“۔
ہمارے اقتدار کی تکون طاقت، عدالت اور سیاست اس وقت سرگرم عمل ہیں اور تینوں کی کارگزاری سے اس وقت میڈیا میں رونقیں لگی ہوئی ہیں ۔طاقتوروں نے بھی نوید سنا دی ہے کہ ان کی تعینات کردہ کوئیک رسپانس فورس دو لاکھ72 ہزاراہلکاروں پر مشتمل ہوگی،یہ آر مڈ فورس انتخابی حلقوں میں فوری سرگرمی دکھائے گی، کسی کواجازت نہیں دی جائے گی کہ انتخابی کھلواڑ کرے یا قانون کو ہاتھ میں لے، جہاں تک ہماری عدالت عظمیٰ کا معاملہ ہے وہ اس قدر صراط مستقیم پر شاید کبھی نہ تھی جس قدر اب ہے ،ہمارے موجودہ قاضی القضاۃ کی سخت جانفشانی کا فیضان ہے کہ پہلی مرتبہ سپریم جوڈیشری پر مقدمات کا نیا بوجھ بڑھنے کی بجائے پہلا بوجھ کم ہواہے قاضی صاحب فرما رہے ہیں کہ عوام کے پیسے سے چلنے والا ہر ادارہ عوام کو جوابدہ ہے، اس لیے معلومات تک رسائی ہر شہری کا بنیادی آئینی حق ہے ساتھ ہی یہ بھی فرما رہے ہیں کہ محتاط چلنا ہوگا کہیں اداروں میں آئینی توازن خراب نہ ہو جائے، البتہ سابق حکومت میں ڈپٹی سپیکر کے عہد ے پر براجمان رہنے والا قاسم سوری جس طرح آئینی بحران کی وجہ بنے اس حوالے سے تو ضرور کارروائی ہونی چاہئے۔ جس غیر ملکی سازش کو بنیاد بنا کر اتنا بڑا کھلواڑ کیا گیا اس کی قلعی تو حال ہی میں اس سائفر کے خالق یا تحریر کرنے والے پاکستان کے امریکا میں سابق سفیر اور سابق سیکرٹری خارجہ اسد مجید خان نے آفیشل سیکرٹریٹ ایکٹ کی خصوصی عدالت میں یہ کہتے ہوئے کھول دی کہ میرے بھیجے گئے سائفر میں سازش یا تھریٹ جیسے الفاظ کا کوئی ریفرنس موجود نہ تھا ۔ اسد مجید نے یہ بھی بتایا کہ 7مارچ کو ڈونلڈ لو سے پاکستانی مشن کی ملاقات ہوئی اور فریقین کو معلوم تھا کہ منٹس آف دی میٹنگ ریکارڈ ہو رہے ہیں میں نے اس گفتگو کو سائفر ٹیلی گرام کی شکل میں 8 مارچ کو وزارت خارجہ میں ارسال کیا اور 25 مارچ کو نیشنل سیکورٹی کمیٹی کی میٹنگ میں بھی مجھے بلایا گیا جہاں متفقہ طور پر سائفر کے ڈیمارش کا فیصلہ ہوا، انہی دنوں کی بات ہے جب ڈاکٹر اسد مجید سے استفسار کیا گیاکہ ہمارا کھلاڑی تو کہہ رہا ہے کہ وہ سائفر کے ساتھ کھیلے گا تو انہوں نے ہنستے ہوئے جواب دیا کہ آپ کا کھلاڑی کس کس کے ساتھ نہیں کھیل رہا ؟تب اس نوع کے سوالات بھی اٹھتے رہے کہ ہمارا کھلاڑی ایسا کون سا تیس مارخاں ہے جسے ہٹانے کیلئے امریکا کو سازشیں کرنا پڑیں؟البتہ اس حرکت سے پاکستان اور امریکہ میں بدگمانی ضرور پیدا ہوئی، یقیناً یہ اپنے ذاتی مفاد کی خاطر ملک دشمنی کی حرکت تھی۔ہمارے چیف جسٹس قاضی صاحب کا یہ فیصلہ قابل تحسین ہے کہ کھلی آئین شکنی کرتے ہوئے اسمبلی توڑنے جیسا شدیدقدم اٹھانے والے شخص کو انصاف کی عدالت میں بلا کر پوچھا جانا چاہیے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اس بھیانک کھیل میں سوری اکیلا نہیں اس کا پارٹی چیئرمین تو رہا ایک طرف ہر وہ شخص جس نے اس غیر آئینی اقدام کی فوری تائید کرتے ہوئے عمل درآمد بھی کروا یا اگرچہ سپریم جوڈیشری کے پانچ معزز ججز نے غیر آئینی اقدام کو ریورس کر دیا ۔
یہ امر واضح ہے کہ یہاں آئیڈیل جمہوریت نہ کبھی آئی ہے اور نہ شاید آئے گی لہٰذا ہم نے ان حقائق اور مجبوریوں کے ساتھ ہی آگے چلناہے یہاں طاقت اور عدالت کے ساتھ ساتھ ہی سیاست نے بھی آگے بڑھنا ہے ہماری جمہوری بہتری محض اس صورت ہو سکتی ہے جب یہاں سیاست اپنی پوری طاقت سے اپنے قدموں پر چلنے کے قابل ہو سکے یہاں تو طاقتوروں نے اپنے مفادات کی خاطر دو تہائی اکثریت والی عوامی جمہوری و سیاسی حکومتوں کو چلتا کیا،مانگے تانگے کی بیساکھیوں والے سیاسی اناڑیوںکی کیا حیثیت ہے، وقت کا تقاضا ہے کہ 8فروری کو مضبوط سیاسی و جمہوری حکومت قائم کرنے کیلئے ہمارے عوام اپنا کردار ادا کریں۔