حضرت ابوبکر ؓ کو "صدیق" کا لقب کب اور کیسے ملا؟ 383

حضرت ابوبکر ؓ کو "صدیق" کا لقب کب اور کیسے ملا؟

حضرت ام ہانی ؓ بنت ابی طالب سے روایت ہے، فرمایا؛ نبی اکرمﷺ کو معراج میرے گھر میں ہوا، رات وہاں آرام فرمایا، صبح ہوئی تو آپ نے فرمایا؛ اے ام ہانی ؓ! آج رات مجھے بیت المقدس لے گئے، وہاں سے آسمانوں پر پہنچایا گیا، صبح سے پہلے واپس لے آئے۔ حضرت ام ہانی ؓ فرماتی ہیں، کہ میں نے عرض کی؛ یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، میری درخواست ہے، کہ اس عجیب بات کو منکروں کے سامنے پیش نہ فرمائیں، وہ یقین نہیں کریں گے، اور آپ کو جھوٹا کہیں گے۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا؛ خدا کی قسم! میں اس قصہ کو کسی سے پوشیدہ نہیں رکھو گا۔ عبد اللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں، کہ نبی کریمﷺ مسجد حرام تشریف لائے، اور حجرہ میں غمگین بیٹھ گئے، کیونکہ قریش کی تکذیب اور کم ظرفوں کے استہزاء کا خدشہ تھا، اسی خیال میں تھے، کہ ابو جہل لعین آیا، اور آپ کے سامنے بیٹھ گیا، اور آپ سے استہزاء کے طور پر کہا، اے محمد( صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کوئی نئی چیز ظاہر ہوئی ہے؟ نبی کریمﷺ نے فرمایا؛ ہاں، میں نے ایک ایسا سفر کیا ہے، جو کسی نے نہیں کیا، اور ایسی خبر لایا ہوں، کہ آج تک کوئی نہیں لایا۔ اس نے کہا کہاں تک کا سفر کیا ہے؟ آپﷺ نے فرمایا، بیت المقدس اور پھر وہاں سے آسمانوں کے طبقات تک گیا۔ اس نے کہا آج رات گئے، اور صبح مکہ میں تھے۔ آپﷺ نے فرمایا ہاں۔ وہ کہنے لگا ایسی بات کو قوم کے سامنے بیان کریں گے؟ نبی کریمﷺ نے فرمایا جی ہاں۔ ابو جہل چیخ اٹھا؛ اے گروہ بنی کعب اور اے بنی لوی!، لوگ ارد گرد جمع ہو گئے۔ ابو جہل نے کہا اے محمد( صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) جو کچھ مجھ سے کہا ہے، ان لوگوں کے سامنے بھی بیان کیجئے۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا، رات مجھے بیت المقدس لے گئے، پھر وہاں سے آسمانوں پر لے گئے۔ حاضرین حیران رہ گئے، اور دست تاسف ملنے گئے، ابو جہل حضرت ابو بکر صدیق ؓ کے پاس آئے اور کہا؛ آپ اپنے نبی کے پاس پونچھے، تا کہ آپ کو معلوم ہو کہ وہ کیا کہتا ہے۔ حضرت ابو بکر صدیق ؓ نے پوچھا؛ رسالت مآبﷺ کیا فرماتے ہیں؟ ابو جہل نے کہا کہتے ہیں؛ رات مجھے بیت المقدس میں لے گئے، حالانکہ رات وہ قوم میں تھے۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے پوچھا کیا؛ یہ بات نبی کریمﷺ نے فرمائی ہے؟ ابو جہل نے کہا جی۔ حضرت ابو بکر صدیق ؓ نے فرمایا؛ کوئی تعجب کی بات نہیں، میں آپ کی آسمانی خبروں کی تصدیق کرتا ہوں؛ اگر نبی کریمﷺ فرمائیں؛ کہ میں ساتوں آسمانوں سے بھی آگے نکل گیا، اور واپس آ گیا، تو میں اس کی بھی تصدیق کرتا ہوں۔ ابو جہل نے کہا؛ میں نے کسی ساتھی کو اپنے ساتھی کی اس طرح تصدیق کرنے والا نہیں دیکھا؛ جیسا آپ ہیں، حضرت ابو بکر صدیق ؓ نبی کریمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، اور عرض کیا؛ یا رسول اللہﷺ کیا آپ نے فرمایا ہے؛ کہ مجھے رات آسمانوں پر لے جایا گیا ہے. نبی کریمﷺ نے فرمایا؛ جی ہاں، حضرت ابو بکر ؓ نے کہا؛ سچ فرمایا یا رسول اللہﷺ، پھر عرض کیا یا رسول اللہ! کیسے ہوا؟ آپﷺ نے شروع سے آخر تک بیان فرمایا۔ حضرت ابو بکر ؓ آپ کی ہر بات ختم کرنے پر کہتے، آپ نے سچ فرمایا۔ پھر نبی کریمﷺ نے فرمایا؛ اے ابو بکر ؓ! تم میری ہر بات کی تصدیق کرتے ہو۔ حضرت ابوبکر ؓ نے کہا، یارسول اللہ! کیسے تصدیق نہ کروں؟ وہ خدا جس نے جبرائیل علیہ السلام کو ہزار مرتبہ نیچے اتارا؛ آپﷺ کو بھی زمین سے آسمانوں پر لے جا سکتا ہے۔ اسی وجہ سے ثابت اور مقرر ہو گیا، کہ سب سے پہلے جس شخص نے نبی کریمﷺ کے معراج کی تصدیق، وہ ابو بکر ؓ تھے۔ کہتے ہیں کہ اس روز آپ صدیق کے لقب سے ملقب ہوتے، آیت قرآنی نازل ہوئی۔ ”والذی جاء بالصدق و صدق بہ“ اور سب سے پہلے جس شخص نے جھٹلایا، اور نبی کریم کی تکذیب کی، وہ ابو جہل تھا۔ اس کے متعلق آیت اتری۔ ”فمن اظلم ممن کذب علی اللہ و کذب بالصدق اذ جاؤہ“ پس جو شخص معراج کی تصدیق کرتا ہے، وہ ابوبکر صدیق ؓ کا پیرو کار ہے، اور جو شخص انکار کرتا ہے وہ ابو جہل کی ذریت ہے۔ (ابو بکر صدیق کے سو قصے مولف شیخ محمد صدیق منشاوی مترجم مولانا خالد محمود صفحہ 50)

بشکریہ اردو کالمز