حادثہ یا سانحہ ایک دم نہیں ہوتا  191

حادثہ یا سانحہ ایک دم نہیں ہوتا 

کہتے ہیں حادثہ ایک دم نہیں ہوتا ، سانحہ بھی ایک دم نہیں ہوتا کہیں نا کہیں انسانی غفلت اور نظام کی نااہلی کارفرما ھوتی ھے ، ترقی پزیر ھوں یا ترقی یافتہ ممالک انہوں نے انسانوں ، جانوروں اور پودوں تک کی حفاظت اور زینت کے قوانین بنا رکھے ہیں جو اخلاقی اور قانونی طور پر ہر شخص نبھاتا ہے ، ذرا سی غفلت پر تربیت اور نظام میں بہتری تک مسلسل کام کیا جاتا ہے ،جو علماء دین اسلام میں اعلیٰ فکر رکھنے والے ہیں وہ اس بات پر متفق ہیں کہ ایک اشارہ توڑنا بھی دینی اعتبار سے گناہ کے زمرے میں آتا ہے ، بنیادی تشریح انسانی زندگی کی حفاظت ھے اس کے لیے جو بھی قوانین بنیں گے وہ اخلاقی طور پر فرائض کے زمرے میں آتے ہیں ، ھم وہ بدقسمت لوگ ہیں جن کے معاشرے اور حکومت کو کسی انسانی جان کی پروا نہیں ہے اور وہ ایک انسان کی حفاظت دور کی بات ہے ایک نسل بھی تباہ ھو جائے کوئی مسئلہ نہیں ، سیلاب ، طوفان اور ناگہانی آفات تک کی کوئی منصوبہ بندی نہیں ہے، راولپنڈی سواں پل حادثہ اس کی منہ بولتی تصویر ھے ، جہاں ایک تیز رفتار سیمنٹ کے بھرے ٹرک نے کئی گاڑیوں کو روند ڈالا ، جس میں سات افراد موقع پر جاں بحق اور درجنوں زخمی ہو گئے ، کیا ھم گاڑیوں اور ڈرائیور کی کیفیت کو چیک کرکے گاڑیاں نہیں چلا سکتے ؟اڈوں پر ہی ایسا نظام ھو نا چائیے جو گاڑی اور ڈرائیور دونوں کو چیک کر سکیں ، 
گاڑی اور سواریوں کی انشورنس کی جائے ،پورے سعودیہ میں یہ نظام رائج ہے ،تاکہ کسی ناگہانی حادثے کی صورت میں زخمیوں کا علاج معالجہ ، گاڑی کے نقصان اور لواحقین کے لیے کوئی بہتر کام ھو سکے ، کتنے حادثے روز بوتے ہیں مگر آج تک ٹرانسپورٹ اور ٹرانسپورٹ سروس سے وابستہ لوگوں کے لیے کوئی قانون سازی اور نظام نہیں بنا سکے ، لمحہ فکریہ ہے ، سواں پل پر بے شمار حادثات ھو چکے ہیں ایک اندازے کے مطابق چالیس لوگوں کی جانیں مختلف اوقات میں جا چکی ہیں ، گاڑی کے حادثے میں میرے اندازے کے مطابق یہ بڑے عوامل شامل ہوتے ہیں ، 
1۔سب سے پہلی اور بڑی وجہ تیز رفتاری ،
2۔ڈرائیور کی صحت اور سٹریس ،
3.گاڑی کی فٹنس کا مسئلہ ، 
4.ڈرائیور کا نشہ اور ھونا ، 
5.سفر کی زیادتی کی وجہ سے ڈرائیور کی تھکاوٹ ،
5.اور لوڈنگ
6.سڑک کا خستہ حال ھونا ، 
7.ڈرائیونگ کے اصول پر سمجھوتہ کرنا ، 
ان سات بڑی وجوہات میں کہیں آخر پہ حادثے کا مقدر ھوتا ھے ، وہ بھی نہ ھونے کے برابر ہے ، ایران ، ترکی ، اور یورپ کے کئی ممالک میں حادثات کی شرح بہترین ٹرانسپورٹ نظام کی وجہ سے کم ھے ، حادثات کے بعد کی ذمہ داری علاج ، زندگی کی بحالی اور حادثات کی روک تھام کے اقدامات حکومت و ریاست اپنے ذمے لیتی ہے یہاں زلزلے اور سیلاب میں ھزاروں مر گئے کسی کو پوچھنے والا ، ٹراما برداشت کرنے میں مدد دینے والا کوئی نہیں ھوتا ، سائل کی فائل بس داخل دفتر ھو جاتی ھے ، ٹرانسپورٹ کے اڈوں پر گاڑی اور ڈرائیور کی چیکنگ اور ،تیز رفتاری کو کنٹرول کرنے کا عمل ، ہی کر دیا جائے اور دیانتداری سے عمل کیا جائے تو کافی حادثات کی روک تھام ھو سکتی ھے ، تمام ڈرائیور حضرات کا پندرہ روزہ تربیتی پروگرام رکھا جائے جس کے بعد ھی لائسنس جاری کیا جائے سب کام رشوت اور سفارش سے ہی کرانے ہیں تو پھر کود جائیں اس جہنم جہاں سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ، آج ہی سابق وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کے جواں سالہ بیٹے کو تیز رفتاری سے حادثہ پیش آیا کیا کوئی اس کے والدین کا دکھ درد جان سکتا ہے ، قمر زمان کائرہ کا جواں سالہ بیٹا بھی حادثے میں جاں بحق ھوا تھا ، کیا وہ آج تک دکھ بھلا پائے ہیں ، کسی بندے نے کیا خوب کہا تھا کہ غریب کے پاس دکھ ھی تھے وہ بھی امیروں نے لے لیے ہیں ، دکھ جس شخص کو ھوتا ھے دوسرا اسے کبھی نہیں سمجھ سکتا ، اس کے دل کے اندر نہیں اتر سکتا ، بات روڈ حادثات کی ھو رہی ہے ، کچھ زمہ داری معاشرے اور گاڑی مالکان کی بھی بنتی ہے وہ اس کو اچھی طرح چیک کریں ، کسی غصے ، دوڑ بھاگ سے ، آپ کچھ بھی نہیں کر سکتے ، اس لئے رفتار ایسی رکھیں جہاں گاڑی کنٹرول ھو سکے ، قوانین کی ضرورت اور دینی فرض سمجھ کر عمل کریں گے تو مسائل حل ھوں گے ، جانیں بچائیں اور فیض پائیں بارشوں کے موسم میں حادثات میں شدت آجاتی ہے ، حالیہ بارشوں میں اسلام آباد ، موٹر وے آور دیگر جگہوں پر چالیس جانیں ضائع ھو چکی ہیں کیا ھمارے ھاں جان کی کوئی قیمت ھوگی ؟ ان حادثات کو کم کرنے والے ادارے کوئی کردار ادا کریں گے ؟ روڈ سیفٹی یا آفات کی قبل از وقت کوئی منصوبہ بندی کی جائے گی ؟ ان سوالات پر سوچنا اور عمل کرنا ھوگا

بشکریہ اردو کالمز