نور حسین افضل
اسلامک اسکالر، مصنف، کالم نویس
صدر: پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ (مشرق وسطی)
رسول اللہ ﷺ جب ہجرت کے موقع پر غارِ ثور میں تشریف لے گئے تھے، کیا اس وقت مکڑی نے غار کے دھانے جالا تن دیا تھا؟ اور کبوتر نے انڈے بچے دے دیے تھے؟ یہ ثابت ہے یا نہیں؟ اگر ثابت ہے تو کیا یہ اسی وقت اچانک ہوگیا تھا، یا کبوتر نے پہلے سے گھونسلہ بناکر پہلے سے انڈے دیے ہوئے تھے؟ نیز کیا سانپ نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو کاٹا تھا؟
کتب تاریخ میں مندرجہ بالا واقعات کثرت سے مذکور ہیں، لہذا ان شبہات کی تحقیق درج ذیل ہے۔
(1) غار ثور کے دہانے مکڑی کا جالا تننا۔
(2)کبوتر کا انڈے دینا۔
(3) گھونسلہ بنانا۔
(4) سانپ کا حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو ڈسنا۔
پہلی بات: مکڑی کا جالا تننا:
یہ بات مختلف حضرات نے اپنی سندوں کے ساتھ نقل کی ہے، مثلاً: امام بیہقی رحمہ اللہ نے فرمایا:
"وأمر الله العنکبوت فنسجت في وجه النبي صلی الله علیه وسلم فسترته". (دلائل النبوة: 354/2، طبع:دارالحدیث القاهرة)
ترجمہ:امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرماتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے مکڑی کو حکم دیا، تو اس نے نبی کریمﷺ کے چہرے کو ڈھانپ دیا۔ (دلائل النبوة: 354/2، طبع:دارالحدیث القاهرة)
امام بیہقی رحمہ اللہ کی یہ سند اگرچہ کم زور ہے، لیکن مختلف حضرات نے چوں کہ اسے ذکر کیا ہے، اور مسئلہ کا تعلق احکام سے بھی نہیں ہے، لہذا ایسی روایت قابلِ قبول ہوتی ہیں۔
دوسری بات: کبوتر کا انڈے دینا :
یہ بات ہمیں تاحال نہ مل سکی، البتہ یہ بات ملی ہے، کہ دو کبوتر آئے اور غار کے دہانے کھڑے ہوگئے، اور نبی کریمﷺ کو چھپا لیا، امام بیہقی رحمہ اللہ کی روایت ہے:
"وأمر الله حمامتین وحشیتین فوقفتا بفم الغار". (دلائل النبوة: 2/354)
ترجمہ: اور خدا نے دو جنگلی کبوتروں کو حکم دیا، تو وہ غار کے منہ میں کھڑے ہو گئے۔ (دلائل النبوة: 2/354)
تیسری بات: کبوتر کا گھونسلہ بنانا:
اس بات کو بھی کئی حضرات نے نقل کیا ہے، امام مقریزی رحمہ اللہ نے فرمایا۔
"وعششت حمامتان علی باب الغار". (إمتاع الأسماع :1/40 مطبعة لجنة التالیف والترجمة)
ترجمہ: دو کبوتروں نے غار کے آگے گھونسلہ بنایا۔ (إمتاع الأسماع :1/40 مطبعة لجنة التالیف والترجمة)
چوتھی بات :سانپ کا ڈسنا:
حضرت صدیق اکبر صدیق ؓ کو سانپ کے ڈسنے کا واقعہ امام بیہقی رحمہ اللہ نے ان الفاظ سے نقل کیا ہے:
"وکان في الغار خرق فیه حیات وأفاعي، فخشي أبوبکر أن یخرج منهنّ شيءٌ یؤذي رسول الله صلی الله علیه وسلم، فألقمه قدمه فجعلن یضربنه ویلسعنه الحیات والأفاعي، وجعلت دموعه تنحدر و رسول الله صلی الله علیه وسلم یقول له: یا أبابکر لاتحزن إن الله معنا". (دلائل النبوة: 2/353)
ترجمہ: اور غار میں سوراخ تھے، جس میں سانپ تھے، اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو ڈر تھا، کہ ان میں سے کوئی ایسی چیز نکلے گی، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نقصان پہنچائے۔ (دلائل النبوة:2/351)
اس کے علاوہ یہ کہ انڈے دینے کا واقعہ اچانک ہوگیا تھا، یا پہلے سے گھونسلہ بنا ہوا تھا؟ اس کے بارے میں عرض ہے، کہ اس طرح کی مدد ونصرت کا ہونا ظاہر ہے، ایک غیبی معاملہ ہے، اور اس میں ظاہری اسباب کو نہیں دیکھا جاتا ہے، انڈے دینے والا واقعہ تو ہمیں نہیں مل سکا ہے، لیکن مکڑی کا جالا تننا، اور کبوتر کا گھونسلہ بنانا، اور پھر غار کے دہانے ایسی جگہ کھڑا ہونا، جس کی وجہ سے حضور نبی اکرمﷺ نظر نہ آئیں، یہ سارے واقعات کا تعلق بھی عام معاملات سے نہیں ہے، اسی لیے جن روایات میں ان کا تذکرہ ہے، اس میں اس بات کے ساتھ "أمر الله" کے الفاظ بھی مذکور ہیں، کہ اللہ کے حکم سے ایسا ہوا۔
یہ عام اتفاقات نہیں تھے، اگر انڈہ دینے کا واقعہ درست بھی ہو، تو ممکن ہے کہ وہ بھی اللہ کے حکم سے اسی وقت ہوا ہوں۔ اس کا عقل میں آنا ضروری نہیں ہے، اللہ تعالیٰ کامل قدرت والے ہیں، جب باقی کام خلافِ عادت کرسکتے ہیں، تو انڈے دینے والا واقعہ خلاف عادت کیوں نہیں ہوسکتا ہے۔
البتہ اس بات کی دوبارہ صراحت ضروری ہے کہ ہمیں یہ واقعہ (کبوتر کا انڈے دینا) کسی مستند کتاب میں نہیں مل سکا ہے۔ اللہ تعالی ہمیں دین سمجھنے اور اس پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین