G20 سمٹ کا عالمی سیاست میں رول؟ 127

G20 سمٹ کا عالمی سیاست میں رول؟

کیا آج کی دنیا قدیمی روایتی تعصبات کو خیرباد کہتے ہوئے جنگجو ذہنیت اور منافرت کی جگہ نیو ورلڈ آرڈر کے تحت امن و شانتی اور معاشی ترقی و خوشحالی پر استوار ہورہی ہے؟ کیا آج کی دنیا میں لڑائی یا مسابقت اپنی اپنی معیشتوں کو مضبوط و توانا بنانے پر ہے؟G20معاشی طور پر خوشحال اور مضبوط ممالک کا ایساکلب ہے جس میں اگرچہ چین اور روس جیسے ممالک بھی شامل ہیں لیکن اثر ورسوخ کے لحاظ سے ریاست ہائے متحدہ امریکا کو اس میں کلیدی حیثیت اس وجہ سے حاصل ہے کہ انگلینڈ، فرانس، جرمنی، کینیڈا، اٹلی، آسٹریلیا، جاپان، جنوبی کوریا اور انڈیا جیسے مضبوط معیشت کے حامل ممالک بڑی حد تک امریکا کے اتحادی ہیں۔

ہمارے میڈیا میں چائنہ کے بیلٹ اینڈ روڈ کاریڈور پر بہت کچھ بولا لکھا گیا ہے اب یہ بھی ملاحظہ فرمالیاجائے کہ G20کے اٹھارویں اجلاس منعقدہ نئی دہلی میں انڈیا، مڈل ایسٹ یورپ اکنامک کاریڈور (IMEC)کے نام سے جس ہیوی منصوبے کی نقاب کشائی ہوئی ہے وہ نہ صرف یہ کہ بیلٹ اینڈ روڈ سے دس گنا بڑا ہے بلکہ کئی حوالوں سے تہلکہ خیز ہے جس نے ہماری عالمی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے جس طرح اس کانفرنس کا سلوگن تھا ”ایک دنیا، ایک فیملی اور ایک فیوچر“ اس کی مطابقت میں یہ پروجیکٹ انڈین معیشت کو مڈل ایسٹ سے جوڑتے ہوئے اسے یورپ اور امریکا تک استوار کردے گا اسے ”شپنگ اینڈ ریل کاریڈور“ کانام بھی دیاجارہا ہے اس میں ریلوے، بندرگاہیں یعنی پورٹس، ہائیڈروجن پائپ لائنز، الیکٹریسٹی اور ڈیجیٹل ڈیٹا نیٹ ورکس کے ذریعے رابطے قائم کیے جائیں گے۔ ممبئی سے دبئی تک شپنگ، دبئی سے سعودی عرب اور عمان سے گزرتے ہوئے اسرائیلی بندرگاہ حیفہ تک ریلوے لائن بچھائی جائے گی اور وہاں سے یورپ تک کاریڈور بنایا جائے گا گرین ہائیڈروجن کی تیاری اور ٹرانسپورٹ کیلئے انفراسٹرکچر بھی اس راہداری کے ذریعے بنے گا یہ ٹیلی کمیونیکیشن ڈیجیٹل ڈیٹا ٹرانسفر کو بھی زیر سمندر کیبل کے ذریعے مضبوط بنائے گا مغربی جمہوریتوں میں اسے گیم چینجر کا نام دیا جارہا ہے۔

قبل ازیں کنٹینروں کو نہر سویز سے گزرنا پڑتا تھا جس میں وقت اور سرمایہ یا لاگت بھی بڑھ جاتی تھی اب یورپ سے بھارتی تجارت چالیس فیصد تیز ہوجائے گی۔ چھ ہزار کلومیٹر کا فاصلہ طے کرتے ہوئے جو مال چھتیس دنوں میں پہنچتا تھا وہ اب چودہ دنوں کی بچت کے ساتھ بائیس دنوں میں پہنچے گا یورپی یونین کی صدر کا کہنا ہے کہ انڈیا، مڈل ایسٹ اور یورپ کی یہ اقتصادی راہداری صرف ریلوے یا کیبل تک محدود نہیں یہ براعظموں اور تہذیبوں کے درمیان گرین ڈیجیٹل برج ہے۔

چینی بیلٹ اینڈ روڈ کاریڈور محض بھاری شرح سود پر دیگر ممالک کیلئے قرضوں کا شدید بوجھ تھا جب کہ یہ IMECتمام مضبوط معیشت کے حامل ممالک کے باہمی مالی تعاون و اشتراک پر استوار ہے جس کیلئے سب سے بڑھ کر امریکا 200ارب ڈالر خرچ کریگا انفرسٹرکچر کیلئے بھارتی صلاحیت و تکنیک سے مستفید ہوا جائے گا ۔ بالخصوص ریلوے سسٹم کو مربوط بنانے کیلئے اسی طرح دیگر یورپین اور مڈل ایسٹ ممالک بھی اس میں رول ادا کریں گے اٹلی کی وزیراعظم نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ وہ چینی کاریڈور کو خیرباد کہنے جارہی ہیں امید ہے چین اس کا برا نہیں منائے گا۔ امریکی و عرب کمپنیاں بھارت میں انویسٹ کریں گی اور بھارتی ماہرین ان ممالک میں خدمات سرانجام دیں گے سعودی عرب نے بھی دو لاکھ انڈینز کو اپنے ہاں مدعو کیا ہے جبکہ چوبیس لاکھ انڈینز پہلے ہی مختلف شعبہ جات میں یہاں خدمات سرانجام دے رہے ہیں اور سعودیہ انڈیا میں سو ارب ڈالر کی انویسٹمنٹ بھی کرنے جارہا ہے۔ سعودی عرب پانچ سو ارب ڈالر کی خطیر رقم سے جو نیوم سٹی بسارہا ہے بھارتی ماہرین اس میں بھی ہر نوع کی معاونت کررہے ہیں سعودی اور ریاض ائیرلائنز بھی انڈیا کیلئے سرگرم ہوچکی ہیں۔ سعودی کراؤن پرنس محمد بن سلمان نے اپنے تین روزہ دورۂ بھارت کے آخری دن فرسٹ لیڈرزا سٹرٹیجک پارٹنرشپ کونسل کے اجلاس میں پرائم منسٹر مودی کیساتھ مشترکہ صدارت کرتے ہوئے پچاس کے قریب معاہدے کیے ہیں جن پر عملداری کیلئے مشترکہ ٹاسک فورس تشکیل دی گئی ہے یہ معاہدے خلیج تعاون کونسل GCCتک بڑھائے جائینگے سعودی عرب آندھرا پردیش میں جو آئل ریفائنری پروجیکٹ لگانے جارہا ہے وہ اس کا حصہ ہے۔دہلی میں G20سمٹ کی سربراہی کرتے ہوئے مودی نے سہ طرفہ مفادات اٹھائے ہیں ایک طرف خوشحال مسلم ممالک کو اپنے ساتھ جوڑا ہے جس کیلئے جمہوریہ مصر اور متحدہ امارات کے علاوہ بنگلہ دیش کی شیخ حسینہ کو خصوصی مہمان کی حیثیت سے مدعو کیا گیا ہے سعودی عرب، انڈونیشیا اور ترکیہ تو پہلے ہی G20کے ممبران کی حیثیت سے شریک تھے ترک صدر طیب اردوان کے متعلق خیال کیاجاتاتھا کہ وہ بھارت کے لیے شاید گرمجوشی نہیں رکھتے مگر دہلی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ We will be proud if India becomes permanent member of UN Security Council ۔(جاری ہے)

بشکریہ ڈان ںیوز