میں اب کہاں جاؤں گی ، میرا ایک ہی بچہ تھا ، کوئی دس بچے نہیں تھے ، وہ میرا سب کچھ تھا ، وہ میرا واحد دوست تھا "یہ الفاظ ہیں ناہیل ایم کی ماں مونیا کے جس کا بیٹا سر بازار پولیس نے گولی مار کر ہلاک کر دیا اس کا جرم کیا تھا بس اتنا کہ اس نے گاڑی نہیں روکی ، ناہیل ایم فوڈ ڈیلیوری کا کام کرتا اور نانترے رگبی کلب کی طرف سے رگبی بھی کھیلتا تھا ، اسے پولیس اچھی طرح جانتی تھی کیونکہ پہلے بھی ایسے حالات سے کئی مرتبہ گزر چکا تھا اور جیل و عدالت تک اپنی صفائی پیش کر چکا تھا پولیس اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والوں نے بتایا کہ ناہیل ایم کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ بھی نہیں تھا ، ناہیل ایم کا تعلق الجزائر سے تھا اور وہ گزشتہ کئی سالوں سے یہاں آباد تھا سوشل ورک ، اور محروم طبقات کے لیے ساتھ چلنے کی عادت اسے سکول سے تھی ، اس روز بھی اس نے ماں کا بوسہ لیا اور کہا "ماں میں آپ سے بہت محبت کرتا ہوں" یہ آخری بوسہ تھا جیسے ہی وہ بیچ سڑک پہنچا پولیس نے زبردستی روکا اور نہ رکنے پر سینے میں گولی مار دی ، یہ خبر فرانس میں آگ کی طرح پھیل گئی ، اتنے پرتشدد مظاہرے ھوئے ، عمارات جلائی گئیں ، گاڑیاں اور ٹرام نذر آتش ھوئیں ، کم از کم چالیس ھزار پولیس اہلکار شہر میں تعینات کیے گئے ، مظاہرے اتنے پرتشدد تھے کہ لوگ 2005ء کے مظاہرے بھول گئے ، صدر میخواں نے سترہ سالہ ناہیل کی ھلاکت کی مذمت کی ، پولیس آفیسر پر فرد جرم بھی عائد ھوئی تاہم اہم بات یہ ہے کہ کیا فرانس میں ہونے والے ان مظالم کے پیچھے کوئی مذھبی یا نسلی دشمنی کارفرما ھے ؟
اس سوال کی کچھ بنیادی وجوہات ہیں مثلاً فرانس ایک سیکولر ریاست کے لئے قوانین بنانے میں کسی حد تک بھی جا سکتا ہے ، فرانس نے چرچ اور ریاست کو علیحدہ کرنے کے لیے بڑی جدوجہد کی اور وہ اس کے لیے ہر وہ عمل کر گزرتے ہیں جس سے یہ ثابت ھو کہ یہاں مذہبی پیشواؤں اور ان کی باتوں پر عمل کرنے والے پیدا نہ ھوا ، اسی لیے قوانین میں دس ھزار یورو سے زیادہ بھیجنے پر پابندی ، حجاب اور شادی کے قوانین میں کئی ترامیم کی گئیں ، حال ہی میں آنے والے قوانین سے مسلمان پریشان ہیں تاہم آج بھی وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ھمیں فرانس جیسی آزاد زندگی کہیں میسر نہیں آسکتی ، ایک عربی خاتون نے بی بی سی کو بتایا کہ میں نے ٹرام میں سفر کے دوران کسی سے عربی میں بات کی جس پر فرانسیسی خاتون اتنی سیخ پا ھوئی کہ مجھے دھشت گرد اور مہاجر بھی کہا ، مگر اس کے باوجود وہ خاتون سمجھتی ہیں کہ فرانس میں منافرت اور عدم تحفظ نہیں ہے ،البتہ نئے آنے والے قوانین سے فرانس میں بسنے والے ساٹھ لاکھ مسلمان تشویش اور تذبذب کا شکار ہیں ، کوئی اپنے ملک واپس جانا چاہتا تو کوئی فرانس سے باہر زندگی کی تلاش میں ہے فرانس میں عبادات ، مساجد اور چرچ پر کوئی پابندی نہیں تاہم لیکن مذہبی مقامات کو ریاستی قوانین میں مداخلت کی اجازت نہیں ہے ، ان سب باتوں کے باوجود مسلمانوں کے دل میں کہیں نا کہیں خوف ضرور موجود ہے اور وہ مستقبل سے خوف زدہ ہیں ، حالیہ پرتشدد واقعات میں کئی لوگوں کو اپنے گھروں پر الجزائر سے الگ تھلگ دکھانے کے لیے تختی لگانی پڑی ،کہ تاکہ اس بنیاد پر کوئی قانونی شکنجے میں نہ لے آئے ، فرانس یورپ کا وہ مرکز ہے جہاں لبرلزم کے ہر ضروری اور بعض دفعہ غیر ضروری قوانین بنائے جاتے ہیں ، یہ ریاست کا حق ہے مگر انسانی حقوق کی کئی تنظیمیں اقلیتوں سے روا رکھے جانے والے سلوک پر بات کرتی رہتی ہے ، خوبی یہ ہے کہ قانون کے مطابق چیزوں کو اولیت حاصل ھے ، ہر حکومتی طبقے نے ناہیل ایم سے کی جانے والی پولیس کی حرکت پر دکھ ہے اور بھرپور مذمت بھی کی گئی ، البتہ فرانس کے معاشرے میں نسل پرستی اور مذھب دشمنی کے عناصر موجود ہیں ، اس کی وجہ اس کا ماضی ھے ، شمالی افریقہ کے ممالک تیونس ، مراکش اور الجزائر فرانس کی کالونیز رہے ہیں ،
یہ اکتوبر 1961ء کا واقعہ ھے جب موجودہ الجزائر کے باشندوں نے کرفیو کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ، آزادی کے حق میں مظاہرے کیے جس پر پولیس نے اندھا دھند فائرنگ کی ، جس سے اڑھائی سو زائد افراد ہلاک ہوئے ، سیکنڑوں کو دریا میں پھینک دیا ، ایک رپورٹ کے مطابق ھزاروں افراد کی لاشوں کو دریا سائن میں بہا دیا گیا ، تمام ثبوت اور ارکیو کو مٹا دیا گیا ، تاکہ کسی کو اندازہ نہ ھو سکے ، بعد میں فرانس کی حکومت نے تسلیم کیا کہ اس تشدد کے پیچھے پاپون نامی دھشت پسند کا ھاتھ تھا اور اس نے یہودیوں کے قتل عام میں نازیوں کی بھی مدد کی تھی ، سیاہ فام باشندوں کے ان مظاہروں کے بعد کچھ حقائق سامنے آئے اس وقت ایک نیا کہرام مچ گیا جب فاطمہ بیضا نامی ایک بچی کی لاش دریا سائن سے ملی ، حالات مزید بگڑتے گئے ، آج ناہیل ایم نسل پرستی کی بھینٹ چڑھا یا فاطمہ بیضا جیسے واقعے کا تسلسل ہے ، لوگ اس بارے میں سوچ کر پریشان ہیں مسلمان اور سیاہ فارم افراد میں تشویش پائی جاتی ہے ، مسلمان لبرلزم سے بھی خائف ہیں جس کی بنیاد پر وہ برطانیہ یا واپس اپنے ممالک میں جانے کا سوچتے ہیں ، فرانس میں عرب نفرت کے آثار بھی موجود ہیں ، جس کی بنیاد 1961ء سے بھی پرانی ھے ، 1961ء میں چلنے والی تحریک کا نتیجہ یہ نکلا کہ بالآخر فرانس کو ان افراد سے مذکرات کرنے پڑے اس جدوجہد کے نتیجہ میں فرانسیسی صدر چارلس ڈیگال نے مذاکرات کیے بالآخر 1962ء میں الجزائر کو آزادی دے دی گئی ، البتہ فرانس میں رہ جانے والے سیاہ فام مسلمان ابھی بھی فیصلہ کرنے میں آسانی نہیں سمجھتے ، وہ پس منظر اور پیش منظر سے پریشان رہتے ہیں ، صرف ناہیل ایم کا کیس دیکھ کر فیصلہ کرنا مشکل ھے کیونکہ قوانین میں تبدیلی اور فرانس کے صدر کی مذمت کو یہ لوگ اہم ضرور سمجھتے ہیں مگر کافی نہیں سمجھتے اس کی وجہ وہی خوف ھے ناہیل ایم کی والدہ اور نانی نے آکر لوگوں سے بات کی تو پرتشدد مظاہروں میں کمی آئی دوسری طرف حکومت نے قانونی طریقے سے بھرپور اقدامات کیے عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر قدم اٹھایا ، کوئی غیر قانونی اور ناانصافی پر مبنی قدم نہیں اٹھایا ، یہ ھمارے معاشرے کے لیے ایک سبق ھے ، جس کی لاٹھی اس کی بھینس والا قانون فرانس میں استعمال ھوتا تو نہ مظاہرے رکتے اور نہ ہی شدت کم ھوتی ، حکومت نے احساس اور تحفظ کو یقینی بنایا ھے یہ فرانس کی خوبی ھے ،
205