دینی علم حاصل کرنے کی ضرورت و اہمیت 628

دینی علم حاصل کرنے کی ضرورت و اہمیت

کچھ عرصہ قبل میرا تبلیغی جماعت کے ساتھ جانا ہوا وہاں چند بزرگ بیٹھے عورت کی نفاس کی مدت پر گفتگو کر رہے تھے تو ایک نے کہا کہ یہ 40 دن ہوتی ہے اور 40 دن کے بعد عورت غسل کر پاک ہو کر نمازیں پڑھ سکتی ہے ۔ میں نے انہیں بتایا کہ یہ 40 دن کی مدت زیادہ سے زیادہ ہے اگر عورت اس سے پہلے ہی پاک ہو جاتی ہے یعنی اس کا خون آنا بند ہو جاتا ہے تو وہ اس سے پہلے ہی غسل کر کے نمازیں پڑھے گی ، اگر نہیں پڑے گی تو قضا کرنے پر گنہگار ہوگی ۔ انہوں نے کہا نہیں ایسا تو نہیں ہے بلکہ 40 دن پورے کرنا ضروری ہے ۔ میں نے انہیں سمجھانے کی کوشش کی پھر میں نے انہیں کہا کہ آپ ایسا کیجیے جہاں سے آپ کو تسلی ہووہاں مفتیان کرام سے پوچھ لیجئے کہ یہ مسئلہ کیسا ہے ؟ ایک دو دیگر افراد جو وہاں بیٹھے تھے انہوں نے انہیں سمجھایا بھی کہ یہ بھی مولانا صاحب ہیں یہ مسئلہ درست بتا رہے ہوں گے لیکن وہ بزرگ تھے ان کے ذہن میں ایک پرانی بات بیٹھی ہوئی تھی تو وہ اس سے ہٹنے پر تیار نہیں ہو رہے تھے بہرحال میں نے انہیں یہی کہا کہ آپ کہیں اور سے پوچھ لیجئے جہاں سے آپ کو تسلی ہو۔ اسی طرح ایک اور مسئلہ بھی یہ پیش آیا کہ میرے چچا زاد بھائی کی شادی ہوئی تو شادی کے کچھ روز بعد انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ کیا مخصوص ایام میں عورت کے قریب جانا درست نہیں ہے میں نے انہیں عورت کی ماہواری کے متعلق ضروری مسائل سمجھائے تو وہ حیرت زدہ رہ گئے انہیں معلوم ہی نہیں تھا اور وہ شادی کے بعد ان مسائل سے آگاہ ہو رہے تھے۔ اس سے بھی دلچسپ صورتحال یہ پیش آئی کہ ایک اور چچا زاد بھائی جو اس گفتگو کو سن رہے تھے وہ کہتے ہیں کہ آپ بہت شریف ہیں آپ کو علم ہی نہیں ہے تو میں نے از راہ ِمذاح کہا کہ جناب جسے مسائل کے بارے میں علم ہو ، کیاوہ شریف نہیں ہوتا؟ اسے شرافت نہیں جہالت کہا جاتا ہے کہ کسی مسلمان کو ضروری دینی مسائل کے بارے میں بھی علم نہ ہو۔ ایسے ہی چند روز قبل ایک طلاق کا مسئلہ پیش آیا ایک خاتون نے طلاق معلق کے بارے میں مسائل پوچھے تو انہیں میں نے سمجھایا کہ طلاق کے بعد تین ماہواریاں گزر جائیں تو عدت پوری ہو جاتی ہے لیکن وہ اس بات پر بضد تھیں کہ نہیں میں نے تو یہ سنا ہے کہ تین مہینے اور دس دن کے بعد عدت پوری ہوتی ہے ،انہیں میں نے سمجھایا کہ چار مہینے دس دن بیوہ کی عدت ہوتی ہے مطلقہ کی عدت تین ماہواریاں ہوتی ہے تین مہینے 10 دن کوئی عدت نہیں ہے ۔لوگوں کو غسل کے فرائض تک معلوم نہیں ہیں ، یہ معلوم نہیں ہے کہ نماز میں فرائض کیا ہیں اور واجبات کیا ہیں؟ کوئی عمل چھوٹ جائے تو اس پر سجدۂ سہو کرنا ہو گا یا نماز دوبارہ پڑھنی پڑے گی یا کچھ کیے بغیر ہی نماز درست ہو جائے گی؟ یہ تمام مسائل سیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں جن کا واسطہ ہر ایک ہو ہر روز پڑتا ہے۔ بنیادی اور ضروری دینی مسائل جو تقریبا ہر گھر میں پیش آتے رہتے ہیں ان کے بارے میں بھی ہم لوگ آگاہ نہیں ہیں حالانکہ ان مسائل سے آگاہ ہونا ہر ایک کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ علم حاصل کرنے کو فرض بتایا گیا ہے اور علماء کہتے ہیں کہ اتنا علم حاصل کرنا ہر ایک پر فرض ہے کہ اپنی 24 گھنٹے کی زندگی کو دین کے مطابق گزار سکیں۔ اس میں ہمیں یہ علم ہو کہ پاکی کیا ہے ناپاکی کیا ہے ؟حلال کیا ہے حرام کیا ہے ؟ جائز کیا ہے ناجائز کیا ہے؟ مگر بدقسمتی سے ہمارے ہاں دینی علم حاصل کرنے کا رواج ہی نہیں ہے لوگ بچوں کو بچپن سے سکول بھیجنا شروع کرتے ہیں اور دینی علم کے بارے میں زیادہ سے زیادہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم کسی قاری صاحب کے پاس ناظرہ قرآن پڑھنے کے لیے بچے کو داخل کر دیتے ہیں بس یہی دینی علم کافی ہے بچہ ناظرہ پڑھنا سیکھ جائے ۔ وہ سمجھتے ہیں کہ دینی علم کا فریضہ بھی ہم سر انجام دے رہے ہیں حالانکہ اتنا علم دین کافی نہیں ہے بلکہ قرآن پڑھنا سیکھ رہے ہیں جس کے معنی اور مطالب بھی ان کی سمجھ میں نہیں آتے وہ تو صرف دیکھ کر پڑھ رہے ہیں۔ یہ بات بھی یاد رکھیں کہ دین کا علم حاصل کرنا فرض ہے کچھ لوگ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ اگر ہم نے کسی چیز کے بارے میں علم حاصل کر لیا تو اس پر عمل کرنا فرض ہو جائے گا اور اگر عمل نہیں کریں گے تو گنہگار ہوں گے اس لیے وہ علم ہی حاصل نہیں کرتے حالانکہ یہ بھی بہت بڑی جہالت ہے کہ عمل کے ڈر سے علم حاصل نہ کرنا حالانکہ عمل کرنا تو ضروری ہے۔ اسی طرح خطا اور نسیان یعنی غلطی اور بھول تو معاف ہے لیکن جہالت معاف نہیں ہے ہمارے دور میں تو جہالت کا بالکل سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ علم حاصل کرنے کے اس قدر زیادہ اور آسان ذرائع ہمارے پاس موجود ہیں کہ ہمارے پاس تو کوئی عذر ہی نہیں ہے کہ ہم علم حاصل نہ کریں۔ آج کے دور میں کوئی علاقہ ایسا نہیں جہاں دینی مدارس اور مساجد موجود نہ ہوں ، علماء کرام موجود نہ ہوں ہر علاقے میں علماء کرام بھی موجود ہیں جو مساجد میں رہنمائی بھی کرتے ہیں ، مدارس بھی ہر علاقے میں موجود ہیں دارالفتائیں موجود ہے ۔ اس کے علاوہ اب تو آن لائن دینی علوم کی کلاسیں بھی شروع ہو چکی ہیں ۔ یعنی ہمارے پاس لا تعداد ذرائع ایسے موجود ہیں جن کے ذریعے ہمیں علم حاصل کر سکتے ہیں اگر ہماری زندگی بہت مصروف ہے تو پھر بھی ہم شام کے اوقات میں یا فارغ اوقات میں بھی علم حاصل کر سکتے ہیں ہمارے پاس اتنے زیادہ وسائل موجود ہیں۔ اب تو اس بہانے کی کوئی گنجائش ہی نہیں کہ علم حاصل کرنا مشکل ہے یا علم حاصل کرنے کے مواقع موجود نہیں ہیں ۔ لہذا علم حاصل کرنا جتنا آسان ہے اتنا ہی زیادہ مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ علم حاصل کریں۔ علماء کرام نے بہت سے مختصر کورسز ترتیب دے رکھے ہیں جن کے ذریعے سے لوگ دین کے بنیادی اور ضروری علومسیکھ سکتے ہیں۔ صرف ضرورت ہماری توجہ دینے کی ہے کہ ہم اس چیز کی طرف توجہ دیں اور دینی علم حاصل کرنے کو بھی ضروری سمجھیں۔ ہمارے معاشرے میں جو بے راہ روی ، لوٹ مار ، کرپشن ، جھوٹ ، فراڈ ، غیبت، گھریلو لڑائیاں جھگڑے ، کام چوری وغیرہ اس کے علاوہ بھی جتنی برائیاں ہیں یہ سب دین سے دوری کی وجہ سے ہیں اور دینی علم حاصل نہ کرنے کا نتیجہ ہیں اگر لوگ دین کا علم حاصل کر لیں تو انہیں معلوم ہو جائے گا کہ کیا چیز جائز ہے اور کیا ناجائز ہے ۔ انہیں معلوم ہوگا کہ جھوٹ بولنے ، رشوت لینے ، کرپشن کرنے پر کتنا گناہ ہے اور کتنی سخت وعیدات ہیں ، تو وہ ان سے بچنے کی کوشش کریں گے ۔ ان کے اندر خوف خدا پیدا ہوگا ۔ علم حاصل کرنے سے نہ صرف یہ کہ انسان خود دین پر عمل کرتا ہے بلکہ معاشرے میں بھی فساد اور بیگاڑ ختم ہوتے ہیں ، معاشرہ امن و سلامتی کا گہوارہ بن جاتا ہے ۔لہٰذا دینی کے ضروری علم کو تعلیم کا حصہ بنانا چاہیے ، پہلے تو حکومت کو چاہیے کہ وہ تعلیمی نظام میں دینی علم کو رکھے تاکہ ہر طالب علم اسے نصاب کے طور پر سیکھ لے لیکن اگر حکومت ایسا نہیں کرتی تو پھر والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کی دینی تعلیم کا انتظام کریں اور دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ بچوں کو دینی تعلیم بھی دیں۔

بشکریہ اردو کالمز