ذمہ داروں کا اداکاروں سے مقابلہ 643

ذمہ داروں کا اداکاروں سے مقابلہ

عجیب سی الجھن ہے جوالجھانے پر مجبور کر رہی ہے ،الجھنے کی وجہ مسلسل ذہنی اذیت ہے جو ہر کسی کو گھیر رہی ہے گرا ہوا طبقہ مزید گر رہا ہے -گرے 
ہوئے طبقے سے مراد،وہ نامراد ہیں جو اپنی حیثیت سے زیادہ اچھل رہے ہیں،اپنی اوقات کے ساتھ ساتھ وقت کے اوقات سے بھی مسلسل غافل ہیں،لوگوں کو ہر طرح کی ذہنی اذیت دینا کم ظرفوں کا معمول بنتا جارہا ہے ، اذیت کا شکار زیادہ تر آج کا پڑھا لکھا طبقہ ہے- جسے پیٹ کی بھوک اور خواہشات کی اٹوٹ نے چھٹکارا پانے سے قاصر کردیا ہے اوروہ قصر بنانے کے چکر میں موت کے چکر کاٹ رہا ہے،یہ ایسا سفر ہے جس میں ہر کوئی ہم سفر کے لیے سفر کے نئے بہانےتلاش کرنے کے ذرائع ڈھونڈ رہا ہے،جن کے ہاتھ میں ڈگری ہے وہ ہاتھوں کی لکیروں سے لکیریں لگا رہا ہے،خدشہ ہے قسمت کے سارے راستے کہیں واسطے نہ دیں،کہ بابا بند کرو یہ دروازے جہاں سے خواہشات ابل رہی ہیں ،پرلے درجے کے لوگ ابلتی خواہشات پر پانی پھینک رہے ہیں ،اقتدار کے پجاری بد نصیب لوگوں کا نصیب ،نصب کرنے کی ضرب کاری کر رہے ہیں ،یہ چابلوس منحوس چہرے بار بار مانوس ہونے کے طریقے اپنا رہے ہیں-
انسان نے ترقی ضرور کی ہے مگر صرف ضرورتوں کے لیے ،اگر یہ ضرورتیں نہ ہوتیں ، تو شاید سب انسان ہوتے ،اب انسانی کھال کا کوئی حال نہیں،کوئی افکار نہیں ،کوئی علمبردار نہیں ،کوئی کردار نہیں ،کوئی روادار نہیں ،کوئی طرحدار نہیں اور کوئی ملک کا وفادار نہیں -
ہاں ایک طبقہ ایسا بھی ہے جس نے اپنی جنس کے لیے جسم تک کی پروا نہ کی ،ظالم سماج کے قصاب نے اس کی زبان کاٹ دی ،اس کا جسم نوچ ڈالا اب کہتا ہے کہ میں نوکر ہوں ،یہ سب میری نوکری کا حصہ تھا ،اس وجہ سے تمہارا حصہ ہڑپ گیا ،تمہارا سب کچھ ہڑپ کیا،امن،سکون،حق،حقوق،مراعات اور راحت ،یہ اس خطا کارخطہ کا المیہ رہا ہے ہمیشہ غلط لوگوں کا ہر جگہ اقتدار رہا ہے ،کوئی شعبہ نہیں جہاں شعبدہ باز لوگ آپ کو دکھائی نہ دیں ،ہر اداکار کی طرح ،فنکار لوگوں نے سوشل میڈیا کے پیج بنائے ہوئے ہیں ،جہاں غیر ضروری تشہیر کرتے رہتے ہیں اور چابلوسوں سے داد وصول کرتے رہتے ہیں ،یہی ان کی ترقی کا ذریعہ ہے باقی سارے ذرائع اخلاقیات سے جڑے ہیں اور یہ حضرات اخلاقیات سے کوسوں دور ہیں ،اس لیے ان کی نہ دور پر نظر ہے نہ یہ انسان نظر آتے ہیں ،کیوں کہ سب کھاتے ہیں اور اپنے جیسوں کو کھلاتے ہیں کوئی تقریب ہو یا تخریب ہو یہ ہر جگہ دکھائی دیتے ہیں،میری مراد سب عوامی نوکر ہیں-

بشکریہ اردو کالمز