چوہدریز آف گجرات۔ 218

چوہدریز آف گجرات۔

کہا جاتا ہے فساد کی جڑ زن،زمین اور زرہوتا ہے ،حالیہ انتخابات میں مگر '' چوہدراہٹ کی سیاست'' بھی ایک نیا اضافہ ہے، جس کی ضد میں پنجاب کا معروف سیاسی خاندان ہے، شرافت،سنہری اقدار،اعلیٰ روایات اور مہمان نوازی جس کا طرہ امتیاز ہے،نصف صدی سے زائد تک سیاسی اعتبار سے متحد رہنے اور پاکستان کی سیاست میں کلیدی کرادار ادا کرنے والا یہ قبیلہ ان دنوں سیاسی مخالفت میں اس حد تک آگے جاچکا ہے، کہ پھوپھی ،بھتیجا آمنے سامنے ہیں، یہ روش خاندان کی اقدار کے بالکل برعکس ہے، یہ کبھی نہیں ہواکہ خاندان کی خواتین کی سیاست میڈیا میں زیر بحث آئے،خاندان کے قائد چوہدری شجاعت کا یہ وصف رہا ہے کہ وہ سیاسی مخالفین کی خواتین کی قدرو منزلت اس طرح دل میں رکھتے ہیں جیسے اپنی گھریلو خواتین کی ، ان کے تربیت یافتہ بیٹے بھی اپنی پھوپھی کاسیاسی میدان میں مقابلہ کرتے ہوئے خوش دکھائی نہیں دیتے۔ گجرات کی سیاست پر نظر رکھنے والے محو حیرت ہیں کہ چوہدری ظہور الہی کے خاندان کو کس کی نظر لگ گئی، عوامی حلقے اب تلک چوہدری برادارن کو سگے بھائی خیال کرتے رہے ہیں، ان کے مابین تنازعات نے'' کزن ''کے رشتہ کو عیاں کیا ہے، شنیدہے کہ ظہور الہی پیلس کے مابین ٹینٹ کی عارضی دیوار کردی گئی ہے ، اطلاعات یہ بھی ہیں کہ تقسیم کے لئے بھی عدلیہ سے رجوع کر لیا گیا ہے، تاہم انتخابات کے انعقاد تک حکم امتناہی بھی لے لیا ہے، اس خاندان کی تاریخ میں یہ پہلی بار ہوا ہے کہ وہ درودیوار جو محبت، اخلاص،رواداری کی علامت تھے ان میں دڑار واضع نظر آرہی ہے، گمان ہے کہ وہ خاندان جو دوسروں کے لئے رواداری ،محبت،صلح جوئی کا نمونہ ہو اس کے لئے یہ تقسیم غیر متوقع اور انتہائی تکلیف دہ ہوگی۔ یہ ملکہ چوہدری ظہور الہی کو حاصل رہا ہے کہ انھوں نے اُس وقت گجرات کی سیاست میں جگہ بنائی تھی جب نواب زادہ خاندان کا طوطی بولتا تھا،جٹ اور گجر برادریاں ایک دوسرے کی حریف سمجھی جاتی تھیں، موصوف جٹ برادری کے سیاسی قائد کے طور پر سامنے آئے اور نواب زادوں کی سیاست کا خاتمہ کیا، 1962کے انتخابات میں نوابزادہ اصغرعلی کو مات دے کر میدن مار لیا،ظہور الہی نے ریپبلکن پارٹی سے اپنے سیاسی سفر کا آغاز کیا اور پھر مسلم لیگ کے ہو کر رہ گئے۔ 1970میں چوہدری ظہور الہی نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی،یہ وہ عہد تھا جب دولتانے، قریشی،ٹوانے،گیلانی شکست کھا کر بھٹو کے مطیع ہو گئے تھے، اِسی بھول میں مسٹر بھٹونے ظہور الہی کوپیپلز پارٹی میں شمولیت کی دعوت دی مگر انھوں نے کونشن لیگ نہ چھوڑی، جسکی بھاری سیاسی قیمت چوہدری ظہور الہی نے ادا کی،ایک روایت یہ بھی ہے بھٹو انھیں مستقل طور پر راستہ سے ہٹانا چاہتے تھے مگر اکبر بگٹی مرحوم نے یہ منصوبہ ناکام بنا دیا، بھٹو کے عہد ہی میں پر ویز اور شجاعت الہی کو پہلی بار جیل کی یاترا کرنا پڑی۔ ظہور الہی کی شہادت کے بعد پہلی دفعہ یہ دونوں ضیاء الحق سے ملے۔کتاب ''سچ تو یہ ہے ''کہ مصنف چوہدری شجاعت لکھتے ہیں کہ جب انکے والد گرامی لاہور سے بھٹو کے خلاف الیکشن لڑنا چاہتے تھے،وہ اپنے والد کے ہمراہ دفتر میں بیٹھے تھے تو ایک کشمیری نوجوان آیا تو اس نے کہا کہ ان کے والد میاں شریف نے الیکشن کے لئے چندہ بھیجا ہے، اس کو جواب دیا گیا کہ ہم چندہ نہیں لیتے خدا کی قدرت دیکھیں کہ اسی سے چوہدری پرویز الہی وزرات اعلیٰ کی امید لگائے بیٹھے تھے، یہ نوجوان نواز شریف تھا۔ چوہدری ظہور الہی پورے پنجاب میںسیاسی شہرت رکھتے تھے، انکی لاہور میں وسیع و رعریض رہائش گاہ تھی،جس میں صوبہ سرحد اور بلوچستان کے قائدین قیام کرتے تھے۔ معروف شاعر حبیب جالب نے ان پر نظم لکھی ،جس کا ایک شعر یہ تھا۔ آبرو پنجاب کی تو شان ہے پاکستان کی۔پیار کرتی ہے تجھے دھرتی بلوچستان کی۔ بڑے چوہدری کو قومی سیاست میں عزت اور محبت کا مقام ان کے والد کی وجہ سے ملا ، جس میں ان کا کردار بھی شامل ہے، انھوں نے ہمیشہ رواداری، مفاہمت ،صلح جوئی کی طرح ڈالی اورہر متنازعہ معاملہ پر'' مٹی پائو'' کی پالیسی اپنائی ،تمام سیاسی حلقوں میں آج بھی قدر اور احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں، وجہ یہی ہے کہ سیاسی بحران میں ہر سیاسی قیادت ان سے رجوع لازمی کرتی ہے۔ پی ڈی ایم کے قائدین بھی عدم اعتماد سے پہلے پرویز الہی کو وزیر اعلیٰ پنجاب بنانے پر متفق ہوگئے، مگر پرویز الہی نے اپنی راہیں جدا کر لیں،انھوں نے بنی گالہ کی طرف گاڑی موڑ لی، یہی وہ لمحہ تھا جب ''چوہدریز آف گجرات'' کے دلوں میں فرق آیا، اس میں اہم کردار اس خط نے ادا کیا جو عدم اعتماد کی بابت شجاعت الہی نے لکھا تھا۔ شریفین کے بیرون ملک جانے کے بعد مشرف کی چھتری تلے ق لیگ کی بنیاد اس خاندان نے رکھی، پرویز الہی نے مشرف کے بلدیاتی نظام سے فائدہ اٹھاتے ہوئے، پنجاب بھر کے جٹ برادری کے ناظمین کو بھی اپنا سیاسی ہم سفر بنا لیا،کامیاب وزیر اعلی کے طور پر معروف ہوئے،دونوں کزنز نے ہر دور میں سیاسی عہدے اوروزارتیں انجوائے کی ہیں، مسٹربھٹو جس کے دور میں ان کا خاندان زیر عتاب رہا، اس کے داماد نے ہی نے پرویز الہی کو ڈپٹی وزیر اعظم کے منصب پر فائز کیا تھا۔ مقام حیرت یہ ہے کہ پرویز الہی نے اُس فرد کے لئے پارٹی اورخاندان چھوڑا ہے جس نے عوامی اجتماعات میں انھیں بدترین القابات سے نوازا تھا، اس کی دوستی، وفاداری کا ٹریک ریکارڈ بھی بالکل اچھا نہیں ہے، چوہدری پرویز کے وزارتیں اور اسمبلیاں نہ چھوڑنے کے مشورہ پر بھی کپتان نے کان نہیں دھرا ،پھر بھی چوہدری جی کا اذیتیں برداشت کرنا سمجھ سے باہر ہے، کیونکہ یہ خاندان سیاسی اعتبار سے اتنا منجھا ہے، غلط جگہ پر اس نے قدم کبھی نہیں رکھا۔ ذرائع کہتے ہیں کہ چھوٹے چوہدری صاحب نے دو اڑھائی سال پہلے الگ الگ سیاست کرنے کا عندیہ دیا ، وجہ یہ بھی ہے کہ سیاست کی بھاگ ڈور اب نئی نسل کے ہاتھ میں آگئی ہے، خدشہ ہے کہ خاندانی خلیج سے ان کی سماجی حیثیت نہ صرف متاثر ہوگی بلکہ سیاسی مخالفین ہاتھ سے کوئی موقع جانے نہیں دیں گے۔ نجانے چوہدری ظہور الہی کی روح اس اختلاف پر کتنی رنجیدہ ہوگی جنھوں نے بہادری اور اصولی سیاست سے خاندان کو یہ مقام دلایا تھا، نسل نو اور خاندان کے بڑوں کو اس پر سوچنا ہے ،تاہم ان سے عقیدت رکھنے والے اس پر قطعی خوش نہیں ، اعلیٰ اقدار، وقار،اتفاق اور چوہدراہٹ کی سیاست ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔

بشکریہ اردو کالمز