میرا ایک جاننے والا سعودی عرب ملازمت کے لئے گیا ، کمپنی کا مالک بھی پاکستانی تھا ، جاتے ہی اس کو مشورہ دیا گیا کہ آپ نے یہاں کسی کو نہیں بتانا کہ میں پاکستانی ھوں ، ھاں البتہ کوئی پوچھے تو اپنے آپ کو انڈین کہہ دینا ، ورنہ ھمیں مارکٹنگ اور دوسرے کام کرنے میں مشکلات ھوں گی ، یہ حال سعودی عرب کا ہی نہیں ھے بلکہ دبئی میں اس سے کئی گنا حالات بگڑ چکے ہیں ، اس کی کیا وجوہات ہیں وہ جاننے کی ضرورت ہے ایک ملکی حالات ، دوسرا لوگوں کا رویہ اور تیسرا غیر قانونی اور غیر اخلاقی سرگرمیاں ہیں جس نے پورے ملک کو بدنام، پاسپورٹ اور روزگار کو خراب کر دیا ہے ، ایک اندازے کے مطابق پاکستان کے 24 سے زیادہ ضلعوں کے لوگوں کے لیے دوبئی کی حکومت نے پابندی عائد کر دی ہے ، وزٹ ویزے پر بھی قدغنیں ہیں جبکہ کمپنی کے ویزوں پر بھی چھان بین ھوتی ھے ،
ایک زمانہ تھا جب یہ جملہ مشہور ھو گیا تھا کہ "پڑھائی چھوڑو دوبئی چلو" اس کی وجہ روزگار اور دولت کی چمک تھی گلف سے آدھے سے زائد پاکستان کے لوگوں نے استفادہ کیا ، روزگار کے وسیع مواقع حاصل ہوئے یہاں تک کہ عرب ممالک کے لوگ اور طلباء میڈیکل ، ائیر فورس ، اور دوسری ٹیکنکل صلاحیت حاصل کرنے پاکستان آتے تھے ، یہاں کے انجینئرز ، ڈاکٹرز اور محنت کشوں کو ترجیح دی جاتی تھی ، اس باہمی رابطے اور اس سے جامع معاشی مشکلات کو آسان بنانے میں آسانی میسر آئی تھی ، ان ملکوں کی تعمیر و ترقی میں پاکستان اور آزاد کشمیر کے محنت کشوں کا بڑا ھاتھ ھے یہی حال دفاع میں بھی تھا ، لیکن حکومتوں کی غلط ترجیحات ، روزگار پہ جانے والے لوگوں کے رویوں اور بھارت کی کامیاب سازشوں نے ایسے حالات پیدا کر دئیے کہ تجارت ، روزگار کے ساتھ ساتھ اعتبار بھی ختم ھو گیا ، آپ عرب ممالک گھوم لیں ایشین میں سب سے زیادہ لوگ ، تجارتی مراکز ،اور بڑی کمپنیوں کے ملازمین آپ کو بھارت کے اور مزدور بنگلہ دیش کے ملیں گے ، پاکستانیوں کی تعداد بھی اچھی خاصی ھے مگر ان کو محدود کرتے کرتے بالکل کنارے لگا دیا گیا ہے یہاں تک کہ مکہ اور مدینہ میں بھی آپ کو زیادہ انڈین مسلم اور بنگلہ دیش کے لوگ ملیں گے یہی حال متحدہ عرب امارات ، اور یورپ میں بھی پھیل چکا ہے وہاں بھی اسی حالت کا سامنا ہے ، پاکستان کی ایک بڑی ابادی کا روزگار اور ملکی زرمبادلہ ان لوگوں سے وابستہ ھے ، مگر توجہ نہیں ، قانون سازی اور مراعات سب سے کم ہیں ، آپ ھفتوں اپنے سفارت خانوں میں گھومتے رہیں کوئی توجہ نہیں دے گا ، باقی ملکوں کی تمام تر پالیسی "سفارت کاری برائے سرمایہ کاری" کی بنیاد پر رکھی گئی اور ایک پروفشنل عملہ ہر وقت ملک اور وہاں اپنے شہریوں کی حفاظت کے لیے سرگرم رہتا ہے، سفارتی مشنوں کے ذریعے اعتماد کی بحالی اور معیشت و کاروبار کے ذرائع تلاش کیے جاتے ہیں ،
ھمارے ملک میں یہ کام کہیں ھوتا بھی ہے تو صرف دو تین فیصد ھوگا باقی تمام سفارتی عملہ غیر پیشہ ورانہ ، سفارشی اور ذاتی مفادات کے لیے رکھا گیا ہے ، کیا از سر نو سفارتی عملے کی تشکیل اور ٹاسک نہیں دیا جا سکتا ، اگر ول موجود ہو تو آپ کے سفارت خانے بزنس ، فلاح اور سرمایہ کاری کا مرکز بن سکتے ہیں ، کوئی سانحہ یا ایمرجنسی ھو جائے کوئی خبر لینے والا نہیں وہ بھلا ہو میڈیا کا جس کی وجہ سے سفارت خانہ کہیں جاگ جاتا ہے ، ورنہ پردیس میں اپنا کوئی نہیں ، بورڈ لگا کر لطف اٹھائیں ، میرا خیال ہے کہ اس سلسلے میں جب بھی ابتدا کی جائے گی بہتری آئے گی ،
اسوقت دوبئی میں ساڑھے پانچ ھزار سے زائد افراد منشیات کی سمگلنگ ، ھزاروں غیر قانونی طور پر روزگار کرنے اور بھیک مانگنے کی وجہ سے جیلوں میں قید ہیں ، ھمارے ہاں سیاست سے فرصت نہیں ، وہاں کی حکومت اور انتظامیہ سے اس سلسلے میں تعاون لیا جا سکتا ہے ،ملک میں ویزہ ایجنٹوں کے لیے قانون اور طریقہ کار وضع کیا جا سکتا ہے تاکہ سکروٹنگ یہاں مکمل ہو جائے ، کرونا وائرس کے دوران سینکڑوں افراد ایسے تھے جو جعلی سرٹیفکیٹس بنا کر دیتے تھے ، کیا اس کو روکا نہیں جا سکتا ؟، یہاں سے جانے کے لیے کوئی تربیت ، کوئی قانون ، کوئی رہنمائی موجود ھونی چاہیئے تاکہ ملک کا نام بدنام کرنے والے سامنے رہیں ، اب ان حکومتوں نے پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ ضروری قرار دیا ہے کیا وہ بھی جعلی بنیں گے ؟
جو حکومت اور اختیار رکھتا ہے جب تک اس طرف توجہ نہیں دے گا کوئی میکنزم تشکیل نہیں دیا جائے گا ، یہ مسائل بڑھ جائیں گے ، روزگار اور زر مبادلہ میں بڑی کمی آئے گی ، معیشت مزید خراب ہو گی ،فرسٹریشن بڑھے گی ، نتیجتاً انتہا پسندی جنم لے گی وزارت داخلہ اور خارجہ کو مشترکہ پالیسی بنانی ھو گی۔تاکہ مسائل حل کی طرف جائیں ، لوگوں سے گزارش ہے کہ قانونی طور پر اپنے آپ کو آگہی رکھیں اور اخلاقی اقدار کو کبھی ھاتھ سے نہ جانیں دیں ، اس کے ساتھ ملک میں ٹیکنیکل ایجوکیشن اور ہنر مندی کی اشد ضرورت ہے ، یونیورسٹیاں اور کالجز ڈگریاں تو دے رہے ہیں مگر سکلز نہ ھونے کے برابر ہیں ہنر کبھی بے روزگار نہیں ھونے دیتا ، حکومتیں اگر ٹیکنیکل ایجوکیشن کو زیادہ کر لیں ، بجٹ اور نیٹ ورک مضبوط بنا لیں تو روزگار کے مواقع پیدا ھو جائیں گے ، ایک سب سے بڑی وجہ قانون کی پاسداری ھے اس کے اثرات بھی اوپر سے نیچے چلے گئے ہیں ، غریب طبقے نے دیکھا جب اوپر میرٹ اور قانون کی دھجیاں اڑ رہی ہیں تو وہ بھی شیر ھو گئے ، راتوں رات امیر بننے کے خواب ، محنت سے جی چرانا اور کرپشن عادت بن چکی ہے ، اس کے لیے قانون و انصاف کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے ، پھر دوبئی جائیں یا یورپ گرین پاسپورٹ اور ویزا آپ کی عزت کا باعث بنے گا ھم پہلے گھر ، شہر اور ملک کے سفیر ہیں اس کا حق ادا نہیں کریں گے تو قدرت خود انتقام لے گی ، جو اپنا نہیں وہ کسی کا نہیں ،
175