چکوالی دانش سے پھوٹا مدعا! 198

چکوالی دانش سے پھوٹا مدعا!

(گزشتہ سے پیوستہ)

27جون کو ’’آئین نو‘‘ بعنوان’’ چکوالی دانش سے پھوٹا مدعا‘‘میں 14ماہ سے جاری سیاسی و معاشی دھما چوکڑی اور آئین و عدلیہ کی اکھاڑ پچھاڑ کی سخت آلودگی میں بھی ایک روشن شمعِ علم کی سچی کہانی پیش کی تھی، کہ کیسے برصغیر میں علمی راہ سے نکالے ’’دو قومی نظریے‘‘ کے بانی سرسید احمد خان کے خانوادے کے 82سالہ سید اسعد اللہ خاں اس نظریے پر قائم ہوئے۔ پاکستان کی موجودہ ابتری میں بھی پورے انہماک سے اپنے حصے کی شمع جلا رہے ہیں۔ اس عمرِ پیری میں بھی لاہور میں ججوں کی بستی (جوڈیشل کالونی) میں تن تنہا مقیم اسعد اللہ پر دھن سوار ہے کہ بچوں خصوصاً لڑکیوں کو مطلوب حصول علم و تربیت سے تہذیب و اخلاق کی طرف لائو۔ کامل یقین سے فرمایا:ہماری فائونڈیشن کی اسی علی گڑھ مسلم اپروچ کو پورے ملکی نظام تعلیم کی بنیاد (پرائمری و سیکنڈری) بنائو تو اس سے مستقل بن گئی ہماری سیاسی و معاشی و معاشرتی ابتری ختم ہو کر پائیدار نتیجہ خیز آئینی اور اس سے مطلوب سیاسی و معاشی اور تہذیبی عمل کا آغاز ہو گا۔

شام اسعد صاحب سے فیض یاب ہوا تو رات گئے لطیف طنز و مزاح اور سنجیدہ سیاسی تجزیے کے توازن پر دسترس کے حامل دانشور کالم نویس، ایاز امیر کا دو روز سے سنبھالا کالم بعنوان ’’اہل زبان سے‘‘ پڑھا تو ایک عجب علمی سیاسی واردات کا نزول ہوا۔ امیر صاحب کی مایوس کن تحریر پڑھ کر یقین ہوا کہ عسکر البلاد (چکوال) کے دانشور پر موجود ہ دنیاکےبدترین ملکی مافیا راج (اولیگارکی) کی 14 ماہی حکومتی دھما چوکڑی اور آئین و عدالت کے ساتھ مچائے کھلواڑ سے مایوسی کا شدید دورہ پڑا ہے۔ حساس تو ہیں نا۔ امیر صاحب کی ماتمی تحریر سے ناچیز کو بھی لاحق تشویش میں اضافہ ہوا کہ ایسی نا امیدی تو ایاز امیر کا عمومی انداز و اسلوب نہیں۔ حیرت ہوئی کہ قیام پاکستان پر بھی ان کا مدعا بلا ابہام ہے۔ مایوسی اور تشویش تو ہوگی ہی ، امیر مقدمے نے چونکا بھی دیا کہ وہ اپنی تحریر میں مکمل ’’اہل زبان‘‘ سے مخاطب ہوئے، جن کے خلاف انہوں نے پاکستان بنانے کا مقدمہ بنا دیا، یوں میرے بزرگ ان کے ملزم ٹھہرے۔ قیام پاکستان کی سنہری تاریخ کو مولانا فضل الرحمٰن کے والد مولانا مفتی محمود نے گناہ قرار دیا تھا۔ اب 75 سال بعد عسکری شہر کے سپوت سابق میجر اور قومی اسمبلی کے ایوان سے بیزار ن لیگی منتخب سابق رکن نے بھی یہ ’’غبار اٹھانے‘‘ کا ذمے دار اکابر’’اہل زبان‘‘ کو قرار دے دیا ہے۔ مجھے تو یہ مقدمے سے زیادہ فتویٰ لگا، لیکن ایاز امیر کے مولوی ہونے پر ہر گز یقین نہیں کیا جا سکتا، سو میں اسے سیاسی مقدمہ ہی سمجھ رہا ہوں۔یہ بات الگ ہے کہ انہوں نے اپنے اگلے کالم بعنوان ’’یہ کھلواڑ نا گزیر نہ تھا‘‘ میں ’’نہ‘‘ کے باوجود یوٹرن لے لیا، یقیناً کسی فوری اور بلٹ مانند فیڈ بیک پریشر نے انہیں بھرپور وضاحتی تحریر لکھنے پر مجبور کر دیا جو پہلے سے متضاد ہے۔ لگتا ہے فیڈ بیک آیا ہے کہ امیر صاحب آپ نے یہ کیا غضب کر دیا کہ قیام پاکستان کا کل کریڈٹ اہل زبان کو ہی دے دیا، لیکن یہ سمجھ نہ آئی کہ ’’ناگزیر‘‘ کو میر صاحب نے پھر کھلواڑ قرار دیدیا اور ’’نہ‘‘ کا کیا مطلب ہے؟ قیام پاکستان تو مکمل ثابت شدہ حد تک ’’ناگزیر‘‘ ہی تھا۔ لگتا ہے کہ ملک میں ڈر، خوف، مایوسی کی فضا اور آئے دن کے حکومتی کھلواڑ اور ایک سے بڑھ کر ایک ڈیزاسٹر نے دانشوروں کو مایوس ہی نہیں کنفیوژ بھی کر دیا ہے۔ جیسا کہ موصوف نے پہلی تحریر ’’اہل زبان سے‘‘ میں فرمایا: ’’حضور، آپ جو اونچے کلچر والے ٹھہرے، اہل زبان، اہل نظر، اہل ذوق، آپ کی سوچ ہم سے زیادہ تھی۔ وہ غبار جس نے بعد میں بہت زور پکڑا، وہ آپ کے ذہنوں میں اٹھا تھا۔ ہمارا تو اس سے واجبی سا تعلق بنا تھا، نعرے آپ کے تھے، رہنمائی بھی آپ فرما رہے تھے، ہم تو ویسے ہی ان نعروں کے پیچھے لگ گئے، بغیر پوری طرح سمجھے کہ یہ ماجرا کیا ہے اور اس کے نتائج کیا ہو سکتے ہیں۔ حیرت ہے کہ اس غبار کو نقطہ عروج پر پہنچے پچھتر سال ہو چکے ہیں تو ناکام تجربے پر رونا بھی اہل نظر دانشوروں کا ہی سب سے زیادہ ہے۔ یہ حسن اتفاق ہے یا عسکر البلاد کے دانشور حالاتِ حاضرہ کی افتاد و ابتری سے کچھ زیادہ ہی متاثر ہو گئے۔ وہ تو عسکری اضلاع و تحصیلوں کے سپوت ہیں، ہم ان سے حوصلہ پانے اور ہر حالت میں کھڑے اور جمے رہنے کی توقع رکھتے ہیں۔

یقیناً اندھیرا و خوف و مایوسی بہت، مہنگائی جان لیوا، ناقص آٹے اور بینظیر انکم سپورٹ سے حقیر امداد لینے کی تگ و دو میں جانیں بھی جا رہی ہیں، لوگ زخمی بھی ہو رہے ہیں۔ صحت کارڈ کی بندش شروع ہو گئی۔ جیلیںسیاسی کارکنان سے اٹی پڑی ہیں، پھر بھی تحریکِ پاکستان، آندھی و غبار تو نہ تھا نہ ہم نے آپ کو اہل زبان نے گمراہ کیا۔پھرا میر صاحب، آپ ماتم میں کوئی تنہا نہیں، ادھر بھی مایوسی کم نہیں، آپ کے اپنے شہر عساکر سے ممتاز مذہبی اسکالر اور سیاسی تجزیہ نگار خورشید ندیم بھی ماتم کناں ہیں، ان کا رونا ادب و شاعری اور صحافت کے جیتے جی اور بڑھتے بڑھتے اجڑ اور اکھڑ جانے کا ہے۔ آپ کے کالم کے ساتھ ہی ان کا بھی چھپا ہے۔ وہ صحافتی صفوں میں پناہ لئے ادیبوں میں تخلیق ڈھونڈ رہے ہیں جو انہیں مل نہیں رہی، لیکن اتنا مان رہے ہیں کہ قیام پاکستان کے بعد بھی سرحد و جغرافیے سے بے نیاز ادب و شاعری پلتی بڑھتی رہی جو اب شہر آشوب میں ناپید ہے۔

قارئین کرام، بالخصوص امیر اور خورشید صاحب، آپ کا کنفیوژن دور کرنے کیلئے پکی سچی کہانی سنائوں۔ 7/8برس ہوئے انڈین، امریکن دنیائے لسانیات کے جانے مانے نعت گو ڈاکٹر ستیہ پالا آنند لاہور تشریف لائے۔ ڈیلس سے برادر ِکلاں عرفان علی منصوری کا حکم آیا لاہوری اسٹائل کی مہمان نوازی ہو، کوئی کسر نہ رہے۔ پنجاب یونیورسٹی میں ان کے اعزاز میں تقریب کی، چونکہ ڈاکٹر صاحب چکوال کی جم پل ہیں، پارٹیشن کے وقت گورنمنٹ کالج لاہور میں فرسٹ ایئر بوائے تھے۔ میں نے مقامی میزبان گیسٹ اسپیکر کے طور جناب ایازا میر کو مدعو کیا، مان گئے لیکن آئے نہیں۔ محفل بہت خوب تھی۔اگلے روز ڈاکٹر صاحب نے غریب خانے پر ظہرانے میں دوران گپ شپ سب کو چونکا دیا، فرمایا پاکستان آپ کے ہی نہیں ہمارے بزرگوں نے بھی بنایا تھا۔ تنہا کریڈٹ کیوں لیتے ہو۔ بتایا گرما میں چکوال سے نانی کے پاس چھٹیاں گزارنےگورداس پور جاتےتھے۔ لاہور ریلوے اسٹیشن پر ماتاصراحی دے کر تازہ پانی لینے بھیجتیں تو پتا جی اتر کر چوکس رہتے کہ میں غلطی سے ہندو پانی کی جگہ مسلم پانی نہ بھر لوں۔ ایک دفعہ غلطی ہوئی تھی۔ اب بتائو ہمارے بزرگوں نے سب بڑے شہروں کے اسٹیشنز پر ہندو، مسلم الگ پانی کا مطالبہ منوا کر تمہارے دو قومی نظریے کو عملاً کتنا سپورٹ کیا تھا؟ مانو نہ۔ سب مان گئے۔ اور آج مودی کے رنگ دیکھو!

بشکریہ جنگ نیوزکالم