دین اسلام ایک خوبصورت اور پاک دین ہے۔اسلام نے ہر بندے کے حقوق بڑے احسن طریقے سے بیان کی ہے۔اور ہر ایک بندے کو ان کے مساوی حقوق دینے کا حکم دیا ہے۔ہم اگر دیکھیں تو ہم بحیثیت ایک مسلمان ہوتے ہوئے اس پر عمل پیرا نہیں ہے۔ہم میں بہت سی خامیاں ہیں۔ہم نے کبھی دین اسلام کو صحیح معنوں میں نہیں پڑھا ہے۔اسی لئے ہمارے معاشرے میں بندے کے حقوق پامال کئے جاتے ہیں۔حقوق تو بہت سے ہے لیکن میں آج بات کرنے والا ہوں ایک بہن کی جائیداد میں حصے کی،جو کہ نہایت ہی اہم ہے۔ہم تبلیغ کا کام کرتے ہیں نماز پڑھتے ہیں حج کیلئے جاتے ہیں عمرے کیلئے جاتے ہیں لیکن ایک بہت بڑی کمی ہے ہم میں کہ ہم جائیداد میں بہن کو حصہ دینا پسند نہیں کرتے۔ہم لاکھوں روپیہ فضول خرچ کرتے ہیں ہمارے دِل نہیں دھڑکتے لیکن جب بات جائیداد میں بہن کی حصہ کی آتی ہے تو ہم پریشانی کی عالم میں چلے جاتے ہیں۔بھائی جائیداد کیلئے بھائی کو ایک انچ زمین زیادہ نہیں دیتا بھائی خود خفہ ہوجاتے ہیں کہ مجھ سے کہیں جائیداد میں زیادتی نہ کی جائے لیکن جب بات بہن کی آتی ہے،تو ہم سیدھا کہتے ہیں کہ بہن کو کیا ضرورت ہے جائیداد میں حصہ لینے کی۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں ہر فرض عمل جو آپ نے کہیں چھوڑا ہو معاف کرتا ہوں لیکن بندے کا حق معاف نہیں کرسکتا،جب تک اس بندے نے خود سے معاف نہیں کی ہو۔اتنا بڑا ذات کہتا ہے کہ میں معاف نہیں کرسکتا تو ہم کیا چیز ہے کہ کسی کا حق زبردستی کھائے۔ تقریباً ہر معاشرے میں یہی حال ہے کہ جائیداد میں بہن کو حصہ نہیں ملتا۔بہن بھائیوں کی پریشانی کی وجہ سے کہہ بھی نہیں سکتی کہ مجھے میرا حصہ دو مجھے میرا حق دو۔وہ جانتی ہے کہ اگر میں نے اپنا حق مانگا تو میرے اپنے بھائی میرے خلاف ہوجائے گے،کہ بہن کو کیا ضرورت ہے جائیداد میں حصہ لینے کی۔اج کل صورتحال اس حد تک پہنچ چکی ہے،کہ بہن اگر اپنا حصہ حاصل کرنا چاہتی ہے تو وہ عدالت کا دروازہ کٹکاکر حصہ لینے کی کوشش کرتی ہے۔بہن عدالت میں خوار زار ہوتی رہتی ہے۔بے پردہ ہوتی ہے۔بھائیوں کی غیرت پھر بھی نہیں جاگتی کہ بہن نے اپنے حق کیلئے عدالت جانے کا راستہ اختیار کیا ہے تو بھائی کیا کرتے ہیں اسی بہن کے خلاف اسی عدالت میں جواب داخل کرتے ہیں۔حالانکہ وہ جواب بے بنیاد ہوتی ہے لیکن پھر بھی کوشش کرتے ہیں کہ پتہ نہیں کچھ راستہ نکل جائے اور بہن کو جائیداد میں حصہ سے محروم کیا جائے۔اج کل صورتحال اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ جائیداد کیلئے ایک دوسرے پر پستول اور گولیاں چلاتے ہیں۔روز ہمیں یہ خبریں ملتی رہتی ہے کہ فلاں جگہ میں جائیداد کی تنازعہ پر فریقین کے درمیان فائرنگ ہوئی ہے اتنے مرگئے اور اتنے زخمی ہے۔جائیداد وہی کا وہی پڑا ہوتا ہے لیکن بیچ میں قیمتی جانیں ضائع ہوتی ہے۔پہلے تو بہن کو جائیداد میں حصہ ملتا نہیں لیکن جب ملتا ہے تو اس شرط پر ملتا ہے کہ آج کے بعد ہمارے گھر نہیں آؤ گے۔اج کے بعد ہمارا تعلق ختم۔نہ ہم تمہارے بھائی ہیں اور نہ ہی تم ہماری بہن ہوں،کیوں ،کیوں کہ تم نے اپنے حق کی بات کی ہے اور اپنا حق وصول کرنا چاہتی ہے۔یہ ہم جا کہا رہے ہیں زرا سوچئے خدارا ہم بہت نقصان کر رہے ہیں۔جب اسلام نے حق دیا ہے تو ہم تو پھر مسلمان ہیں الحمداللہ ہم کیوں اس بات سے انکار کرے،ہم کیوں غیروں جیسا رویہ اختیار کرے۔عورت بیچاری کیا کرسکتی ہے۔زیادہ تر عورتیں بس بھائیوں کی پریشانی کی وجہ سے منہ سے کہتی ہے کہ نہیں میں جائیداد میں حصہ نہیں لینا چاہتی مجھے کوئی ضرورت نہیں ہے تو کیا کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ بہن جو کہہ رہی ہے دل سے کہہ رہی ہے۔مجھے پکا یقین ہے کہ بہنیں صرف منہ سے کہتی ہے دل میں خون کی آنسو روتی ہے۔لیکن بیچاری کیا کرے گی بھائیوں کی گھر بر باد ہوجاتی ہے۔باپ کی گھر پر بند ہوجاتی ہے۔جب کبھی حصہ مل جاتی ہے تو پھر موت تک اپنے بوڑھے ماں باپ کی شکل تک نہیں دیکھ پاتی۔علماء کرام بار بار کہتے ہیں ممبر پر بیٹھ کر کہ خدارا بہن کو جائیداد میں حصہ دو ورنہ قیامت میں پکڑے جاؤ گے۔لیکن ہم ہمیں اس سے کیا ہمیں تو بس بہن کی جائیداد پر قبضہ کرنا پسند ہے۔ہمیں تو بس صرف یہی مٹی پسند ہے۔خدارا اپنے گھروں کو دوزخ مت بنائے اپنی زندگی کو اجیرن مت بنائے اگر خوشیاں چاہتے ہوں تو بہن کو جائیداد میں حصہ ضرور دو اس سے تمہارے جائیداد میں زرے برابر کمی نہیں آتی۔
243