باپ دنیا کا خوبصورت اور مخلص دوست 512

باپ دنیا کا خوبصورت اور مخلص دوست

ملک کے حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ اولاد والدین کا گلا دبا رہی ہے ماں باپ کو اپنی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاٹ سمجھتی ہے انکے خیالات پرانے لگتے ہیں اور بڑھاپے میں وہ بوجھ محسوس ہونا شروع ہوجاتے ہیں حالانکہ دنیا میں اگر ہماری کوئی شناخت اور وجود ہے تو یہ والدین کی وجہ سے ہی ہے جنہوں نے انگلی پکڑ کر چلنا سکھایا میں سمجھتا ہوں کہ ہماری تمام ناکامیاں اور خامیاں ہماری اپنی وجہ سے ہیں اور کامیابیاں والدین کی محنت سے ملی ہیں ہم لوٹ گھسوٹ کے تو عادی ہیں ہی ساتھ ساتھ ہم ذہنی طور پر بھی فارغ ہوچکے ہیں ہم صرف پیسوں میں دیوالیہ ہونے نہیں جا رہے بلکہ تمیز کردار حلال انصاف اخلاقات برداشت اور انسانیت میں بھی دیوالیہ ہوچکے ہیں اخلاقیات کا جنازہ نکل چکا ہے بچے والدین کے آگے سر اٹھا کر انہیں شرمندہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ آپ نے ہمارے لیے کیا کیاوالد کو ہم نے پیسے کمانے والی مشین سمجھ رکھا ہے اور والدہ کو گھر کی نوکرانی ہماری ذہنی پستی کا یہ حال ہے کہ جوانی میں انسان باپ کو شک کی نگاہ سے دیکھتا رہتا ہے جیسے باپ کو ہمارے مسائل تکلیفوں یا ضرورتوں کا احساس ہی نہیں یہ نئے دور کے تقاضوں کو نہیں سمجھتا کبھی کبھی ہم اپنے باپ کا موازنہ بھی کرنا شروع کر دیتے ہیں کہ اتنی محنت ہمارے باپ نے کی ہوتی بچت کی ہوتی کچھ بنایا ہوتا تو آج ہم بھی فلاں کی طرح عالیشان گھر گاڑی میں گھوم رہے ہوتے کہاں ہو کب آو گے زیادہ دیر نہ کرنا جیسے سوالات انتہائی فضول اور فالتو سے لگتے ہیں سویٹر تو پہنا ہے کچھ اور بھی پہن لو سردی بہت ہے انسان سوچتا ہے کہ اولڈ فیشن کی وجہ سے والد کو باہر کی دنیا کا اندازہ نہیں اکثر اولادیں اپنے باپ کو ایک ہی معیار پر پرکھتی ہیں گھر،گاڑی،پلاٹ،بینک بیلنس،کاروبار اور اپنی ناکامیوں کو باپ کے کھاتے میں ڈال کر خود سرخرو ہو جاتے ہیں ہمارے پاس بھی کچھ ہوتا تو اچھے اسکول میں پڑھتے کاروبار کرتے اس میں شک نہیں اولاد کے لئے آئیڈیل بھی انکا باپ ہی ہوتا ہے لیکن کچھ باتیں جوانی میں سمجھ نہیں آتیں یا ہم سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے اسلئے کہ ہمارے سامنے وقت کی ضرورت ہوتی ہے دنیا سے مقابلے کا بھوت سوار ہوتا ہے جلد سے جلد سب کچھ پانے کی جستجو میں ہم کچھ کھو بھی رہے ہوتے ہیں جسکا احساس بہت دیر سے ہوتا ہے بہت سی اولادیں وقتی محرومیوں کا پہلا ذمہ دار اپنے باپ کو قرار دے کرہر چیز سے بری الزمہ ہو جاتی ہیں وقت گزر جاتا ہے اچھا بھی برا بھی اور اتنی تیزی سے گزرتا ہے کہ انسان پلک جھپکتے ماضی کی کہانیوں کو اپنے ارد گرد منڈلاتے دیکھنا شروع کر دیتا ہے جوانی،پڑھائی،نوکری،شادی، اولاد اور پھر وہی اسٹیج وہی کردار جو نبھاتے ہوئے ہر لمحہ اپنے باپ کا چہرہ آنکھوں کے سامنے آ آ کر باپ کی ہر سوچ،احساس،فکر،پریشانی،شرمندگی اور اذیت کو ہم پر کھول کے رکھ دیتا ہے باپ کی کبھی کبھی بلا وجہ خاموشی،کبھی پرانے دوستوں میں بے وجہ قہقہے اچھے کپڑوں کو ناپسند کرکے،پرانوں کو فخر سے پہننا،کھانوں میں اپنی سادگی پر فخر کبھی کبھی سر جھکائے اپنے چھوٹے چھوٹے کاموں میں مگن ہونے کی وجہ کبھی بغیر وجہ تھکاوٹ کے بہانے سر شام بتی بجھا کر لیٹ جانا نظریں جھکائے انتہائی محویت سے ڈوب کر قران کی تلاوت کرنا سمجھ تو آنا شروع ہو جاتا ہے لیکن بہت دیر بعد جب ہم خود راتوں کو جاگ جاگ کردوسرے شہروں میں گئے بچوں پر آیت الکرسی کے دائرے پھونکتے ہیں جب ہم سردی میں وضو کرتے ہوئے اچانک سوچتے ہیں پوچھ ہی لیں بیٹا آپکے ہاں گرم پانی آتا ہے جب قہر کی گرمی میں اے سی یا روم کولر کی خنک ہوا بدن کو چھو تی ہے تو پہلا احساس جو دل و دماغ میں ہلچل سی مچاتا ہے کہ کہیں اولاد گرمی میں تو نہیں بیٹھی جوان اولاد کے مستقبل شادیوں کی فکر ہزار تانے بانے جوڑتا باپ تھک ہار کر اللّہ اور اسکی پاک کلام میں پناہ ڈھونڈتا ہے تب یاد آتا ہے ہمارا باپ بھی ایک ایک حرف ایک ایک آیت پر رک رک کر بچوں کی سلامتی،خوشی اوربہتر مستقبل کی دعائیں ہی کرتا ہوگا ہر نماز کے بعداٹھے کپکپاتے ہاتھ اپنی دعاؤں کو بھول جاتے ہونگے ہماری طرح ہمارا باپ بھی ایک ایک بچے کو نمناک آنکھوں سے اللّہ کی پناہ میں دیتا ہوگا سر شام کبھی کبھی کمرے کی بتی بجھا کر اس فکر کی آگ میں جلتا ہوگا کہ میں نے اپنی اولاد کے لئے بہت کم کیا اولاد کو باپ بہت دیر سے یاد آتا ہے اتنی دیر سے کہ ہم اسے چھونے،محسوس کرنے،اسکی ہر تلخی،اذیت اورانکی ہرفکر کا ازالہ کرنے سے محروم ہو جاتے ہیں یہ ایک عجیب احساس ہے جو وقت کے بعد اپنی اصل شکل میں ہمیں بے چین ضرور کرتا ہے لیکن یہ حقیقتیں جن پر وقت پہ عیاں ہو جائیں وہی خوش قسمت اولادیں ہیں اولاد ہوتے ہوئے ہم سمجھتے ہیں باپ کا چھوناپیار کرنادل سے لگانایہ تو بچپن کی باتیں ہیں اور پھر باپ بن کر آنکھیں بھیگ جاتی ہیں کہ پتہ نہیں باپ نے کتنی دفعہ دل ہی دل میں ہمیں چھاتی سے لگانے کو بازو کھولے ہونگے پیار کے لئے اسکے ہونٹ تڑپے ہونگے اور ہماری بے باک جوانیوں نے اسے یہ موقعہ نہیں دیا ہوگا ہم جیسے درمیانے طبقے کے سفید پوش لوگوں کی ہر خوائش،ہر دعا،ہر تمنا،اولاد سے شروع ہو کر اولاد پر ہی ختم ہو جاتی ہے لیکن کم باپ ہونگے جو یہ احساس اپنی اولاد کو اپنی زندگی میں دلا سکے ہوں یہ ایک چھپاہوامیٹھا میٹھا درد ہے جو باپ اپنے ساتھ لے جاتا ہے اولاد کے لئے بہت کچھ کر کے بھی کچھ نہ کرسکنے کی ایک خلش آخری وقت تک ایک باپ کو بے چین رکھتی ہے اور یہ سب بہت شدت سے محسوس ہوتا ہے جب ہم باپ بنتے ہیں بڑھاپے کی دہلیز پر قدم رکھتے ہیں تو باپ کے دل کا حال جیسے قدرت ہمارے دلوں میں منتقل کر دیتی ہے اولاد اگر باپ کے دل میں اپنے لئے محبت کو کھلی آنکھوں سے وقت پر دیکھ لے تو شاید اسے یقین ہو جائے کہ دنیا میں باپ سے زیادہ اولاد کا مخلص،خوبصورت اور بہترین دوست کوئی اور ہو ہی نہیں سکتا اس لیے اب بھی وقت ہے کہ اپنے باپ کو اپنا دوست بنائیں

بشکریہ اردو کالمز