شبیر حسین امام - این ایف سی: دم توڑتی امیدیں این ایف سی: دم توڑتی امیدیں

خیبر پختونخوا کے ضم شدہ اضلاع: انضمام، مالیاتی جمود، اور ٹوٹتی امیدیں

این ایف سی ایوارڈ کی تاخیر محض تکنیکی مسئلہ نہیں بلکہ ایسا سقم ہے جس نے قبائلی اضلاع کی ترقی کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں

این ایف سی کی بروقت وصولی نہ ہونے کے باعث، ضم شدہ اضلاع کو لگ بھگ 1300 ارب روپے کی ترقیاتی امداد سے محروم رکھا گیا ہے

’این ایف سی‘ نہ ملنے سے ایک مالیاتی خلا پیدا ہوا جس نے قبائلی عوام کے ذہنوں میں یہ سوال پیدا کیا ہے کہ کیا آئینی اصلاحات صرف کاغذوں تک محدود تھیں؟

این ایف سی کا بھوت انضمام کے عمل پر تاریکی کی طرح چھایا ہوا ہے‘ جو ترقی کی روشنی عوام تک پہنچنے سے روک رہا ہے

خیبرپختونخوا (صوبائی) حکومت کو ملنے والے مالی وسائل (فنڈز) کا بہاؤ مسلسل اُن شہری انفراسٹرکچر والے علاقوں کی طرف رہا جو پہلے ہی ترقی یافتہ تھے اور یوں ’این ایف سی‘ کی عدم موجودگی میں، منصوبہ بندی کی روح پس منظر میں دھکیل دی گئی

شبیرحسین امام

یکم جون 2018 کی تاریخ پاکستان کی آئینی تاریخ میں سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس روز، وفاق کے زیرانتظام اُس وقت کے قبائلی علاقہ جات (جنہیں عرف عام میں فاٹا کہا جاتا تھا) کو خیبر پختونخوا (کے پی) میں ضم کر کے نئی آئینی اور جغرافیائی حقیقت کو جنم دیا گیا۔ اس اقدام کا مقصد عشروں کی محرومی، فرسودہ انتظامی ڈھانچے اور ریاستی عملداری کی کمزوری کو ختم کرنا تھا۔ لاکھوں قبائلی عوام نے اس انضمام کو بہتر سہولیات کے حصول کی امید کے ساتھ بادلنخواستہ قبول کیا۔ اس آئینی ترمیم نے نہ صرف ’کے پی‘ کا جغرافیہ اور آبادی کا نقشہ تبدیل کر کے رکھ دیا بلکہ وفاقی سطح پر وسائل کی تقسیم اور ترقیاتی منصوبوں کے نئے دور کے آغاز کا وعدہ بھی ہوا۔ اُمید تھی کہ زخم مندمل ہوں گے جو کئی دہائیوں سے جاری شورش، دہشت گردی کی لہر اور شدید بدانتظامی نے لگائے تھے۔ قبائلی علاقوں کا خیبرپختونخوا میں انضمام دراصل و درحقیقت صرف آئینی عمل نہیں تھا بلکہ قومی دھارے میں شمولیت کا جذباتی اور نفسیاتی عمل بھی تھا، جہاں ہر فرد کو مساوی حقوق اور ذمہ داریاں حاصل ہونے کی توقع تھی۔

انضمام کے بعد جو سب سے بڑا چیلنج ابھر کر سامنے آیا‘ وہ مالیاتی وفاقیت اور وسائل کی منصفانہ تقسیم تھا۔ آئینی انضمام کے 7 برس گزرنے کے باوجود، قومی مالیاتی کمیشن (NFC) ایوارڈ تاحال ان ضم شدہ اضلاع کو قومی آمدنی کی تقسیم کے میکانزم میں شامل نہیں کر سکا۔ این ایف سی ایوارڈ کی تاخیر محض تکنیکی مسئلہ نہیں بلکہ ایسا سقم ہے جس نے قبائلی اضلاع کی ترقی کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔ این ایف سی کی بروقت وصولی نہ ہونے کے باعث، ضم شدہ اضلاع کو لگ بھگ 1300 ارب روپے کی ترقیاتی امداد سے محروم رکھا گیا ہے۔ یہ وہ بنیادی مالیاتی وسائل تھے جنہیں ان خطوں کے معاشی انضمام کی بنیاد بننا تھا، جن سے سڑکوں کا جال بچھنا تھا، تعلیمی اور طبی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار ہونا تھا اور خاص کر نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقع پیدا کرنے تھے۔ این ایف سی کی روح، جس کا مقصد وسائل کی متحرک اور منصفانہ تقسیم ہے، اس بحران کے سامنے بے بس نظر آتی ہے۔ سات بار صدارتی توسیع کے ذریعے اس مالیاتی ایوارڈ کو پرانے اصولوں پر چلانے نے یہ تاثر گہرا کر دیا ہے کہ پاکستان میں مالیاتی وفاقیت جمود کا شکار ہو چکی ہے جبکہ ’’آئین پاکستان کی شق (آرٹیکل( 160‘‘ مالی وسائل کی بلاتاخیر اُور منصفانہ تقسیم کی بات کرتا ہے۔ ’این ایف سی‘ نہ ملنے سے ایک مالیاتی خلا پیدا ہوا جس نے قبائلی عوام کے ذہنوں میں یہ سوال پیدا کیا ہے کہ کیا آئینی اصلاحات صرف کاغذوں تک محدود تھیں؟ اگر ریاستی وعدے کے باوجود، بنیادی مالیاتی میکانزم کسی نئے آئینی خدوخال کو قبول کرنے میں ناکام رہتا ہے، تو یہ وفاقی ساکھ کے لئے شدید دھچکا ہے۔ انضمام کے حامیوں کو یہ خدشہ ہے کہ مالیاتی محرومی کہیں ان تاریخی محرومیوں کو مزید گہرا نہ کر دے جن سے نجات پانے کے لئے عوام نے اتنی بڑی آئینی تبدیلی کو خوش آمدید کہا تھا۔ ترقیاتی فنڈز کی عدم دستیابی نے نہ صرف انفراسٹرکچر کی تعمیر کو سست کیا ہے بلکہ مقامی انتظامی اداروں کی کارکردگی اور ان کی ریاستی خدمات کی فراہمی کی صلاحیت کو بھی مفلوج کر دیا ہے۔ اس طرح، این ایف سی کا یہ بھوت انضمام کے عمل پر ایک گہرے سایے کی طرح چھایا ہوا ہے، جو ترقی کی روشنی کو عوام تک پہنچنے سے روک رہا ہے۔

جب قبائلی عوام نے انضمام کو قبول کیا، تو یہ صرف آئینی تبدیلی کی رضامندی نہیں تھی بلکہ یہ ریاستی بیانیے پر اعتماد کا اظہار تھا۔ ابتدائی طور پر، اس اعتماد کے ثبوت بھی ملے۔ 2020 میں ہوئے ایک سروے میں قبائلی خطے کے عوام کی اکثریت نے قومیت کے احساس، ریاستی اختیار کی عملداری اور پاکستان سے تعلق سے دلی و جذباتی تعلق میں اضافے کو اظہار کیا۔ اُن کے احساسات حب الوطنی پر مبنی تھے۔ ایک ایسا خطہ جہاں سکیورٹی فورسز کی پوزیشن اور ریاست کا کردار اکثر متنازع رہا ہو، وہاں اس طرح کا احساس ِملکیت درحقیقت بڑی نفسیاتی کامیابی تھی۔ قبائلی علاقے جو عشروں تک پولیٹیکل ایجنٹ کے فرسودہ نظام کے تحت چلتے رہے، اب مین سٹریم جمہوری عمل کا حصہ بن چکے تھے اور لوگوں نے توقع کی تھی کہ ترقیاتی عمل بھی اسی رفتار سے آگے بڑھے گا لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا گیا، امیدیں دم توڑنے لگیں۔ 2022 تک‘ زمینی حقائق نے عوام کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ انضمام کے ثمرات ان تک نہیں پہنچ رہے۔ وہ بجلی کے شدید بحران سے دوچار تھے، صحت کی کمزور سہولیات نے ان کی روزمرہ زندگی کو اجیرن بنا دیا تھا اور اہم رابطہ سڑکوں کی کمی نے ان کے معاشی اور سماجی روابط کو محدود کر دیا تھا۔ وہ آئینی ذمہ داری جو وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر عائد ہوتی تھی کہ وہ ان اضلاع کو ترجیحی بنیادوں پر ترقی دیں، وہ پوری نہیں ہو سکی۔ خیبرپختونخوا (صوبائی) حکومت کو ملنے والے مالی وسائل (فنڈز) کا بہاؤ مسلسل اُن شہری انفراسٹرکچر والے علاقوں کی طرف رہا جو پہلے ہی ترقی یافتہ تھے اور یوں ’این ایف سی‘ کی عدم موجودگی میں، منصوبہ بندی کی روح پس منظر میں دھکیل دی گئی۔ یہ عدم توازن اس لئے بھی زیادہ افسوسناک ہے کیونکہ انضمام کا بنیادی مقصد ہی ان تاریخی محرومیوں کو ختم کرنا تھا۔ جب شہری علاقوں میں میٹرو اور فلائی اوورز کی بحث ہوتی ہے، تو ضم شدہ اضلاع کا باشندہ آج بھی زندگی کی بنیادی ضروریات مثلاً پینے کا صاف پانی، ہسپتال میں ڈاکٹر کی موجودگی، یا چوبیس گھنٹے بجلی کی فراہمی کے لئے جدوجہد کر رہا ہے۔ اس فرق نے قبائل کے خواص و عوام کے اندر پیدا ہونے والے اتحاد اور تعلق کے جذبات کو آہستہ آہستہ بے دلی اور مایوسی میں بدلنا شروع کر دیا ہے۔ اعتماد، جو بڑی مشکل سے بحال ہوا تھا، ریاستی وعدوں اور ان کے عملی نفاذ کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کے سامنے کمزور پڑنے لگا ہے۔ اگر دیکھا اُور سمجھا جائے تو یہ صورتحال انتہائی نازک اُور وفاقی ساکھ کے لئے بھی سنگین خطرہ ہے۔

ضم شدہ اضلاع کی معاشی پسماندگی کوئی نئی بات نہیں۔ اس کی جڑیں انضمام سے پہلے کے انتظامی اور مالیاتی ماڈل میں پیوست ہیں۔ انضمام سے قبل ’’فاٹا‘‘ کا فی کس ترقیاتی خرچ ملک کے دیگر پسماندہ علاقوں، یہاں تک کہ بلوچستان کے مقابلے میں بھی آدھا تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ قبائلی عوام کو نہ صرف بنیادی سہولیات سے محروم رکھا گیا بلکہ ریاستی ترقیاتی وسائل تک ان کی رسائی کو بھی منظم طریقے سے محدود کیا گیا تھا۔ یہ تاریخی مالیاتی ناانصافی ہی انضمام کی سب سے بڑی وجہ بنی تھی۔ بدقسمتی سے، انضمام کے بعد بھی صورتحال میں بہتری کے بجائے مزید بگاڑ آیا ہے۔ مالیاتی اعداد و شمار سے عیاں ہے کہ ترقیاتی خلیج کم ہونے کے بجائے مزید گہری ہوئی ہے۔ خیبرپختونخوا حکومت نے ضم شدہ اضلاع کی ترقی کے لئے پرعزم تیز عمل درآمد منصوبہ بنام ایکسلریٹیڈ ایملیمنٹیشن پلان (AIP) پیش کر رکھا ہے جس کے تحت اگلے چند برس میں (اگر صوبے کے پاس مالی وسائل ہوئے تو) 600 ارب روپے کی خطیر رقم قبائلی اضلاع میں خرچ کی جائے گی اُور اس کا وعدہ کیا گیا ہے لیکن عملی طور پر، وفاقی حکومت کی جانب سے مطلوبہ وسائل کی فراہمی میں سستی اور تاخیر نے منصوبے کو متاثر کر رکھا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ 600 ارب روپے کے وعدے کے برعکس قبائلی اضلاع کے لئے صرف 168 ارب روپے جاری کئے جا سکے ہیں۔ یہ بھاری کٹوتی نہ صرف قبائلی اضلاع میں ترقی کی رفتار کو کم کرنے کا باعث و سبب بنی ہے بلکہ اِس سے قبائلی عوام کو یہ پیغام بھی ملا ہے کہ ریاست ان کے ساتھ کئے گئے مالیاتی وعدوں پر پوری طرح سے سنجیدہ نہیں۔ جب مالی وسائل (فنڈز) کی فراہمی کا وعدہ کیا جاتا ہے مگر اس کا صرف ایک چوتھائی حصہ جاری ہوتا ہے تو اس کا براۂ راست اثر تعمیراتی منصوبوں کی تکمیل میں تاخیر، تعلیم اور صحت کے بجٹ میں کٹوتی اور روزگار کے مواقع کی کمی کی صورت میں نکلتا ہے۔ مالیاتی غفلت سے پیدا ہونے والی یہ نئی محرومی ان علاقوں میں عدم استحکام اور بغاوت کی نئی لہر کو جنم دے سکتی ہے، خاص طور پر اس خطے میں جہاں دہشت گردی کی طویل لہر نے پہلے ہی پوری نسل کو سماجی اور نفسیاتی طور پر زخمی کر رکھا ہے۔ 2001 سے 2018 کے عرصے میں ’خیبرپختونخوا‘ اور ’فاٹا (حال قبائلی اضلاع)‘ میں دہشت گردی سے ہونے والی ہلاکتوں کی شرح پاکستان بھر کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ رہی ہے۔ ایسے نازک سماجی اور سکیورٹی پس منظر میں، مالیاتی وعدوں کی خلاف ورزی عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے اور ریاستی یقین دہانی کی ساکھ کو بھی متاثر کر رہی ہے۔

ترے وعدے پر جیے ہم تو یہ جان جھوٹ جانا
کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا

ختم شد

بشکریہ روزنامہ آج