این اے 181اور 182میں پیروں کا قبضہ  256

این اے 181اور 182میں پیروں کا قبضہ 

سیاست کے سینے میں دل ہوتا ہے یا نہیں لیکن گدی نشینوں نے اندھی عقیدت کے نام پر جس طرح اپنے عقیدت مندوں کو بے وقوف بنا رکھا ہے اس پر ان کو داد دینے کو دل کرتا ہے،حلقہ این اے 181میں 2018کے الیکشن میں صاحبزادہ فیض الحسن تیسرے نمبر پر رہے چونکہ یہ گدی نشین اپنے گھٹنوں پر ہاتھ لگوانے کے عادی ہیں اس لئے ان کو عوامی مسائل سے کوئی غرض نہیں ہوتی،ان کو صرف عقیدت مندوں کے وسائل سے غرض ہوتی ہے،صاحبزادہ فیض الحسن کی واجبی سے تعلیم ہے اور ان کو تعلیم کا پارلیمانی سیکریٹری بنا دیا گیا،اب چوہے بلی کا نیا کھیل شروع ہوچکا ہے جب جنرل ضیا نے محمد خان جونیجو کے خلاف محاذ بنایا تو پیر پگاڑ امرحوم نے کہا تھا کہ چوہے بلی کا کھیل شروع ہوچکا ہے ان کا کہنے کا مقصد یہ تھا کہ جنرل ضیا ہی محمد خان جونیجو کو اقتدار میں لائے اور اسی کے خلاف محاذ کھول لیا یعنی عوام کو یہ بے وقوف بنا رہے ہیں اب ایک وڈیو صاحبزادہ محبوب الحسن کی سامنے آئی ہے جو صاحبزادہ فیض الحسن کے بھتیجے ہیں اور سیاست میں آنے کے بعد ان کو ممبر اسمبلی بننے کا شوق ہے، اس وڈیو میں صاحبزادہ محبوب الحسن،صفدر عباس بھٹی اور صاحبزادہ فیض الحسن کے درمیان حلفاً یہ معاہدہ طے ہوا کہ مستقبل میں مل کر چلیں گے،صاحبزادہ محبوب الحسن کا شکوہ ہے کہ یہ وڈیو میرے چچا نے ریلیز کرائی جس کا مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ میں حلف سے بھاگ گیا ہوں،میری نظر میں یہ جنگ صرف اقتدار تک پہنچنے کی جنگ ہے کہ 1985سے لیکر آج تک اس حلقے میں میرے چچا نے جو حکمرانی کی ہے اب میں بھی اس حکمرانی کا تاج اپنے سر پر سجا سکوں،صاحبزادہ فیض الحسن نے بھی اقتدار کی خاطر کئی افراد کو استعمال کیا اور جب مطلب نکل گیا تو ان کو ٹشو کی طرح پھینک دیا،چوہدری اطہر مقبول کا پیسہ جس طرح صاحبزادہ فیض الحسن نے اپنی الیکشن مہم میں استعمال کیا اس کی داستان الگ ہے،اسی طرح مسلم لیگ ن کی پہچان ضلع لیہ میں ملک غلام محمد سواگ کے دم سے تھی جس روز ملک غلام محمد سواگ شہید ہوئے اس دن لیہ کے ورکر یتیم ہوگئے،ملک غلام محمد سواگ کے بعد اگر کسی ورکر کی بات کی جائے تو وہ ملک عبدالشکور سواگ ہیں،ملک عبدالشکور سواگ نے ملک غلام محمد شہید کے بعد اپنے ووٹرز اور ورکرز کے سر پر دست شفقت رکھا،سواگ خاندان کی پہچان بھی سیاست میں ملک غلام محمد شہید کی وجہ سے تھی لیکن اب صاحبزادہ فیض الحسن نے صفدر عباس بھٹی کے ساتھ اپنی پینگیں بڑھانا شروع کردی ہیں چلے ہوئے کاتوس کو صرف سرمایہ کی خاطر ساتھ ملا کر ملک عبدالشکور سواگ کی پیٹھ میں چھرا گھونپا جارہا ہے،پاکستان مسلم لیگ ن کی پیدائش چونکہ ضیا الحق کے گملے میں ہوئی اس لئے پارٹی کے اندر احتساب کا کوئی تصور نہیں،چاہیئے تو یہ تھا کہ پچھلی بار جب صاحبزادہ فیض الحسن نے ملک احمد علی اولکھ کی مخالفت کی تھی تو پارٹی اس بات پر صاحبزادہ فیض الحسن کی سرزنش کرتی،اس سے باز پرس کی جاتی لیکن ایسا نہ ہوا اب ایک بار پھر صاحبزادہ فیض الحسن ملک احمد علی والا سلوک ملک شکور سواک کے ساتھ روا رکھنا چاہتا ہے،بھتیجا اب اپنا گروپ بنا کر نکلا ہے جس میں ملک عبدالشکور سواگ،لالہ طاہر رندھاوا اور ملک احمد علی اولکھ شامل ہیں،جبکہ صاحبزادہ فیض الحسن صفدر عباس بھٹی کے ساتھ نیا گروپ تشکیل دے چکا ہے یعنی ایم این اے شپ ایک ہی خاندان کے پاس رہے،یہی حالت ہمارے حلقہ کی ہے سید ثقلین شاہ بخاری سے زاہد واندر نے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے موقع پر جب سوال کیا کہ این اے 182میں آپ کا امیدوار کون ہے؟ تو انہوں نے بڑی خوبصورتی سے سوال گول کردیا کہ یہ تمام دوست میرے ساتھ کھڑے ہیں ان کا کسی ایک کے بارے جو متفقہ فیصلہ ہوگا وہی امیدوار ہوگا،یعنی یہ تمام لوگ متفقہ فیصلہ کرکے میرے ساتھ کھڑے رہیں،میری الیکشن کمپین چلائیں میں ان میں سے کسی ایک پر اتفاق کرکے اپنا ووٹ بنک ضائع نہ کروں لیکن اس بار اگر مہر طفیل،عابد انوار علوی کو ٹکٹ نہ ملا تو اس کا جو نقصان سید ثقلین شاہ کو ہوگا اس کا شاید انہیں اندازہ نہیں ان کے ارد گرد جو حواری ہیں یہی ان کے دوستوں سے دور کرنے کا سبب ہیں،سید ثقلین شاہ کے سیاسی فیصلے بھی یہی حواری کرتے ہیں،سید ثقلین شاہ بھی چاہتے ہیں کہ میرا پینل سید رفاقت گیلانی کے ساتھ بنے،اگر اس کے ساتھ نہ بن سکے تو اگلی چوائس چوہدری اشفاق ہے،اس طرح دونوں حلقوں میں پیروں کا قبضہ ہے اس بار شاید یہ قبضہ برقرار نہ رہے

بشکریہ اردو کالمز