ٰاسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کی آنکھ مچولی 218

ٰاسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کی آنکھ مچولی

اسلام آباد میں عدالت کے حکم پر 2015 میں بلدیاتی انتخابات ہوئے اور اس وقت منتخب ہونے والے بلدیاتی نمائندوں کی مدمدت 2020 میں مکمل ہو گئی مگر اس وقت پی ٹی آئی کی حکومت جو ج موجودہ حکومت کو انتخابات سے بھاگنے کا طعنہ دے رہی ہے ، اس نے بلدیاتی انتخابات نہ کرائے حالانکہ بلدیاتی اداروں کی مدت پوری ہونے بعد بھی تقریباً ڈیڑھ سال تک ان کی حکومت رہی مگر اسلام آباد بلدیاتی نمائندوں سے محروم رہا۔ جب ان کی حکومت ختم ہوئی تو مسلم لیگ نون کی حکومت آگئی مسلم لیگ نون کی حکومت نے بھی بلدیاتی انتخابات کرانے میں حیل و حجت سے کام لیا اور بلدیاتی انتخابات میں تاخیری حربے استعمال کیے مگر جب عدالت نے حکم دیا تو الیکشن کمیشن نے مئی 2022 میں بلدیاتی انتخابات کا اعلان کر دیا اور اس کے لیے 31 جولائی پولنگ کی تاریخ مقرر کی گئی مگر بدقسمتی سے یونین کونسلوں کی تعداد کا بہانہ بنا کر انتخابات کو منسوخ کر دیا گیا ۔ الیکشن کمیشن نے ایک بار پھر اکتوبر میں بلدیاتی انتخابات کا اعلان کیا اور 25 دسمبر پولنگ کی تاریخ مقرر کی گئی مگر بعد میں اسے تبدیل کر کے 31 دسمبر کر دیا گیا ، اس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا مگر بدقسمتی سے ایک بار پھریونین کونسلوں کی تعداد کا بہانہ بنا کر حکومت نے بلدیاتی انتخابات کو ملتوی کرانے کی کوشش کی ، معاملہ عدالت میں گیا تو عدالت نے اختیار الیکشن کمیشن کو دے دیا الیکشن کمیشن نے ستائیس دسمبر کو پولنگ سے عین تین دن قبل انتخابات ملتوی کر دیے۔ اس دوران حکومت نے نئی قانون سازی بھی کی کہ اسلام آباد میں 101کی بجائے 125یونین کونسلیں ہوں گی اور میئرکا انتخاب براہ راست ہو گا۔ اس بل کو صدر عارف علوی نے بغیر دستخط واپس کر دیا ہے ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ مزید عدالت اور الیکشن کمیشن کیا فیصلہ کرتے ہیں۔ بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے اسلام آباد میں لمحہ بہ لمحہ بدلتی ہوئی صورت حال کی وجہ سے حتمی طور پر کچھ کہنا ممکن نہیں مگر اب تک کی صورتحال پر تجزیہ کیا جا سکتا ہے۔ دراصل ہماری حکومتیں تو بلدیاتی انتخابات کرانے پر کبھی بھی راضی نہیں ہوئیں ، کسی بھی جماعت کی حکومت ہو وہ بلدیاتی انتخابات کرانے میں کبھی دلچسپی نہیں لیتی ، مگر مسئلہ اداروں کا بھی ہے کہ ہمارے ادارے بھی کوئی ایک اور واضح فیصلے نہیں کرتے بلکہ وہ بھی سب کو راضی کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔ جس کی وجہ سے واضح فیصلہ نہیں ہو پاتا ۔ بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے عدالت میں پہلی سماعت کے بعد ایک لمبی تاریخ دے دی گئی حالانکہ وقت انتہائی مختصر تھا جس کی وجہ سے جلد ہی کیس کو نمٹا لینا چاہیے تھامگر عدالت نے کئی روز بعد کی تاریخ الیکشن کمیشن کو فیصلے کے لیے دے دی یعنی 27دسمبر ۔ جب الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنایا تو پھر کیس عدالت میں چلا گیا جس پر عدالت نے 30دسمبر کو شام 4 بجے بلدیاتی انتخابات کرانے کا حکم دیا ، یعنی فیصلے کے چند گھنٹے بعد انتخابات ہونے تھے ۔ اگر ہمارے ادارے اتنے تیز ہوتے تو آج ملکی حالت یہ نہ ہوتی ، عدالتوں کو بھی معلوم تھا کہ اتنی جلدی بلدیاتی انتخابات کرانے ممکن نہیں۔ ہم بھی حکومت کی طرح یہی کہہ سکتے ہیں کہ عدالت کا حکم سر آنکھوں پر مگر اتنی جلدی بلدیاتی انتخابات کرانے ممکن نہیں تھے ۔ عدالت کو چاہیے تھا کہ ایسا فیصلہ دے جس پر عمل کرنا ممکن ہو۔ مگر عدالتی فیصلے کی وجہ سے انتخابات کا معاملہ لٹک گیا چونکہ اس دن انتخابات ممکن نہیں تھے جس کی وجہ سے حکومت اور الیکشن کمیشن کو بہانہ مل گیا اور بلدیاتی انتخابات نہ ہو سکے ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ عدالت میں مزید کیا کارروائی ہوتی ہے اور اس پر کیا فیصلہ آتا ہے ؟ بہرحال عدالت کو یہ چاہیے تھا کہ وہ کم از کم چار سے پانچ دن کا وقت دیتی ، اگر ایک ہفتے کا ہوتا تو زیادہ بہتر تھا کہ 31 دسمبر کی بجائے 8دسمبر کو انتخابات ہوں گے یوں الیکشن کمیشن کے پاس کوئی بہانہ بھی نہ ہوتا اور بلدیاتی انتخابات کے انعقاد میں کوئی ابہام نہ رہتا۔ ہمارے حکومت اور اداروں کی عدم دلچسپی نے عوام کو الگ مخمصے میں ڈال رکھا ہے اور امیدواروں کو الگ پریشان کر رکھا ہے ظاہرہیکہ امیدواروں نے اچھی خاصی انتخابی مہم چلائی ، بہت سے اخراجات کیے ، اس کے باوجود بلدیاتی انتخابات کا نہ ہونا پریشانی کا باعث بن رہا ہے۔ ایک طویل عرصے سے یہی آنکھ مچولی جاری ہے کہ بلدیاتی انتخابات ہوں گے یا نہیں کبھی ایک تاریخ آتی ہے پھر وہ ملتوی ہو جاتی ہے پھر دوسری تاریخ دی جاتی ہے پھر وہ بھی منسوخ ہو جاتی ہے ۔ امیدوار بھی ایک دوسرے کا منہ دیکھ رہے ہیں کہ کیا کیا جائے ؟ انتخابات ہوں گے یا نہیں؟ لہٰذا حکومت اور اداروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ بلدیاتی انتخابات کے حوالے اپنی پوزیشن عوام کے سامنے واضح کریں اور بلدیاتی انتخابات کی حتمی تاریخ کا اعلان کر کے عوام اور امیدواروں کی تشویش کو دور کریں۔

بشکریہ اردو کالمز