بجلی بحران: ہوش رُبا انکشافات
نیپرا رکن کے ’’تکنیکی ریمارک‘‘ کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ درحقیقت یہ تنبیہ ہے کہ اگر اب بھی فوری سمجھتے ہوئے خاطرخواہ اصلاحات نہ کی گئیں تو توانائی کا موجودہ بحران ایسا معاشی طوفان بن جائے گا جس سے نکلنا ممکن نہیں ہوگا
شبیرحسین امام
پاکستان میں توانائی بحران سنگین سے سنگین ہونے کا عمل جاری ہے اُور یہ اونٹ کسی کروٹ نہیں بیٹھ رہا۔ بنیادی طور پر اِس بحران کی وجوہات پر پردہ ڈالنے کی روش بھی اپنی جگہ خرابیٔ بسیار کا سبب ہے جسے ترک کئے بغیر بحران سے نمٹنا ممکن نہیں ہو
توجہ طلب ہے کہ ہر بار بجلی کی قیمتوں میں اضافے کو عالمی فیول قیمتوں‘ موسمی اثرات یا گردشی قرضوں سے جوڑا جاتا ہے لیکن ’’نیپرا‘‘ کے ایک رکن نے اضافی (اختلافی) نوٹ لکھا ہے۔ قبل ازیں کہ اُس نوٹ کے بارے میں کچھ کہا جائے‘ قارئین یہ بات ذہن نشین رکھیں کہ نیپرا (NEPRA) نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی ہے۔ یہ خودمختار ادارہ ہے جو پاکستان میں بجلی کے شعبے کی ترسیل و نظم و ضبط (ریگولیٹری) کو دیکھتا ہے۔ نیپرا کا قیام 1997ء میں ’’نیپرا ایکٹ‘‘ کے تحت عمل میں آیا اور اس کا بنیادی مقصد ملک میں بجلی کی پیداوار‘ ترسیل‘ تقسیم‘ نرخوں کا تعین اور انہیں ریگولیٹ کرنا ہے۔ پیمرا کے ’’رکن ٹیکنیکل‘‘ رفیق شیخ کے اضافی نوٹ نے حقیقت کو بے نقاب کر دیا ہے۔ ان کے انکشافات کے مطابق بجلی کی بڑھتی قیمتوں کا بنیادی سبب نظام کی ناکامی‘ ناقص گورننس‘ اور انفراسٹرکچر کی کمزوریاں ہیں نہ کہ صرف فیول مہنگا ہونے کا بہانہ۔ نیپرا ممبر کے مطابق‘ جولائی 2022 سے لے کر اب تک بجلی کے شعبے میں ہونے والے 121 ارب روپے کے نقصانات کا براۂ راست بوجھ عوام پر ڈالا گیا ہے۔ یہ خسارہ نہ تو قدرتی آفات کا نتیجہ ہے‘ نہ ہی بیرونی حملہ بلکہ یہ ’’خالص انتظامی نااہلی‘‘ کا ثبوت ہے۔ اس بوجھ میں بڑے منصوبوں کی بندش‘ گرڈ اسٹیشنز کی تاخیر اور ترسیلی نظام کی کمزوری شامل ہیں۔ مثال کے طور پر‘ گڈو پاور پلانٹ کی تکنیکی بندش نے صرف جولائی 2025 میں 96 کروڑ روپے کا اضافی مالی بوجھ پیدا کیا۔ اس نقصان کی واحد وجہ سسٹم میں بروقت مرمت اور دیکھ بھال نہ ہونا ہے۔ اس کے برعکس‘ صارفین کو نہ صرف اس بندش کے دوران بجلی نہیں ملی بلکہ بلوں میں اضافی رقم بھی بھرنی پڑی۔ اسی طرح‘ نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ جو فی الوقت بند ہے‘ اس سے متعلق 75 ارب روپے سے زائد کے سرچارجز پہلے ہی عوام سے وصول کیے جا چکے ہیں۔ یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ اگر ایک منصوبہ چل ہی نہیں رہا‘ تو اس کی قیمت عوام کیوں ادا کریں؟
یہ سراسر ناانصافی اور بدترین منصوبہ بندی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
رفیق شیخ کے نوٹ میں لاہور نارتھ گرڈ اسٹیشن کی تاخیر کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ گرڈ اسٹیشن کی بروقت تکمیل نہ ہونے اور جزوی لوڈ ایڈجسٹمنٹ کی وجہ سے 71 ارب روپے سے زائد کا نقصان ہوا۔ نتیجتاً بجلی کی طلب کے مطابق فراہمی ممکن نہ بن سکی‘ جس نے لوڈشیڈنگ کے دورانیے کو بھی طول دیا۔ اس کا براہِ راست اثر ملک کی صنعتی پیداوار‘ تجارتی سرگرمیوں‘ اور گھریلو صارفین پر پڑا۔ نیپرا کے اضافی نوٹ میں ایک اور تلخ حقیقت یہ سامنے آئی کہ پاکستان میں مسئلہ ’’بجلی (مقدار کے لحاظ سے) کی کمی‘‘ کا نہیں بلکہ ’’بجلی کی ترسیل‘‘ کا ہے یعنی بجلی کا ترسیلی نظام بوسیدہ ہے۔ بجلی پیدا تو ہو رہی ہے لیکن اس کی صارفین تک بروقت اور مؤثر ترسیل موجودہ نظام کے لئے ممکن نہیں۔ بجلی موجود ہونے کے باوجود عوام کو اندھیروں میں رکھنا‘ بدترین ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق‘ پاکستان میں بجلی کی اوسط پیداواری لاگت 29 سے 35 روپے فی یونٹ ہو چکی ہے‘ جس میں فیول ایڈجسٹمنٹ‘ سر چارجز اور دیگر اخراجات شامل ہیں لیکن یہ اضافی اخراجات صرف اس وقت توجیہہ کے حامل ہوتے جب نظام کارآمد ہوتا۔ موجودہ صورت ِحال میں‘ مہنگی بجلی کی وجہ نہ فیول ہے‘ نہ طلب بلکہ سراسر ادارہ جاتی نااہلی ہے۔ یہ حقیقت کہ عوام ہر ماہ اپنے بجلی کے بل میں ان ناکامیوں کی قیمت ادا کر رہے ہیں‘ ملک میں توانائی کی پالیسیوں کی شدید ناکامی کا ثبوت ہے۔ جب ایک غیر فعال منصوبے سے اربوں روپے بٹورے جا رہے ہوں‘ جب گرڈ اسٹیشن وقت پر مکمل نہ ہوں‘ جب ترسیلی نظام کی نااہلی سے بجلی ضائع ہو جائے‘ تو ان تمام خرابیوں کا بوجھ صرف عوام پر ڈال دینا ظلم کے مترادف ہے۔
قومیں وہی ترقی کرتی ہیں جو اپنی غلطیوں کی دہرانے کی بجائے اُن (تجربات) سے سبق سیکھتی ہیں۔ ’نیپرا‘ رکن کے مذکورہ اضافی نوٹ کو محض ’’تکنیکی ریمارک‘‘ سمجھتے ہوئے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ درحقیقت یہ تنبیہ ہے
کہ اگر اب بھی فوری سمجھتی ہوئے خاطرخواہ اصلاحات نہ کی گئیں تو توانائی کا موجودہ بحران ایسا معاشی طوفان بن جائے گا جس سے نکلنا یا نمٹنا خدانخوستہ ممکن نہیں رہے گا۔ وقت ہے کہ حکومت‘ وزارت توانائی اور بالخصوص پاور ڈویژن خواب ِغفلت سے بیدار ہوں۔ بجلی بحران سے متعلق زمینی حقائق کو نظرانداز نہ کیا جائے۔ صرف بجلی کے نرخ بڑھا کر یا بجلی کی قیمت کم کرنے کے لئے قومی خزانے سے سبسڈی دینے سے یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا بلکہ اِس پورے نظام کی اصلاح ناگزیر حد تک ضروری ہو چکی ہے۔ اگر حکمرانوں نے اب بھی آنکھیں بند رکھیں‘ تو ہر مہینے کے بل میں چھپی ناکامیوں کی قیمت صرف عوام کو ہی نہیں‘ ملکی معیشت کو بھی چکانی پڑے گی۔
بشر پہ قرض جو ہوتے ہیں کار ہائے جہاں
تمام عمر وہ ان کا حساب دیتا ہے
(شاعر: مہندر پرتاپ چاند)
بجلی بحران: ہوش رُبا انکشافات