کیا سرکاری تعلیمی ادارے پرائیویٹ ھونے چائیے ؟ 351

کیا سرکاری تعلیمی ادارے پرائیویٹ ھونے چائیے ؟

ھماری بدقسمتی ھے یا جلدی بازی ، ناقص منصوبہ بندی ھے کہ کریڈٹ لینے کی خواہش ،کوئی بھی بات کسی کے ذھین میں آتی ہے اسے میڈیا میں ایسے جاری کر دیتے ہیں جیسے سب ھوگیا ھے اور جب اس پر ری ایکشن آتا ہے بات آئی گئی ھو جاتی ھے ، اس سارے عمل میں تعلیم تو کسی کی بھی ترجیح میں نہیں ھے آج سے نہیں قیام پاکستان کے بعد جائزہ لیں تو ایسا ہی المیہ نظر آئے گا ،اس کے متوازی بھارت نے تعلیم کو اول دن سے ترجیح دی جس کی وجہ سے ادارے مضبوط ھوئے سیاست ، سماج اور معاش نے ترقی کی اور ملک کو عزت ملی ، یہاں نظام تعلیم اور نصاب تعلیم پر 75 سال سے بحث جاری ہے ، اسی طرح کالا باغ ڈیم بننا ھے کہ نہیں بننا آدھی صدی بیت گئی ، بھاشا ڈیم بنے گا نہیں بنے گا دہائیاں گزر گئیں ، ان میں ایک ھی کام ھوا جو تیز رفتاری کا ریکارڈ توڑ گیا وہ ھے ھاؤسنگ سوسائٹیوں کی بھرمار اور چند خاندانوں کے لیے پیسہ اور اختیار بے شمار ، جس میں تعلیم اور تعلیمی ادارے لاچار ، کیا کیا جائے؟ ، جب اٹھارویں ترمیم منظور ھو رہی تھی, ھمارا خیال تھا شعبہ تعلیم اور صحت وفاق میں رہ جائے ، ھم نے کچھ وکلاء سے بات کی ، ھمارا خیال تھا وہ مقدمہ مفت میں لڑیں گے ، ایک ماہر وکیل نے لاکھوں میں فیس بتائی ، چپ کر کے بیٹھ گئے ، آج تعلیم کے لیے کسی نصاب اور نظام کا نفاذ مشکل ھو چکا ھے ، میں یہ نہیں کہہ رہا کہ ھم درست سوچ رہے تھے لیکن ایک کوشش تھی کہ چاروں صوبے کسی وجہ سے جڑے رہیں ، 
اجکل پنجاب اور آزاد کشمیر میں ایک مہم جاری ہے کہ سرکاری تعلیمی اداروں کو پراوئیٹائز کر دیا جائے ، نگران حکومت اور آزاد کشمیر کی حکومت اس پہ کام جاری رکھے ہوئے ہے حالانکہ آئین اور قانون کی روح سے یہ کام منتخب حکومت کا ھے ، اس کے ری ایکشن میں اساتذہ اور طلباء دونوں مزاحمت کر رہے ہیں ، پنجاب میں تو اساتذہ کو اتنا زدو کوب کیا گیا کہ روح تک کانپ اٹھی ، ایک استاد کے چہرے پر جوتے مارے جا رہے تھے، یہ منظر تو قومی انحطاط کا ھے کیا یہ قوم کے منہ پر جوتا نہیں مارا جا رہا تھا ؟ھمیں حکومت کے کام میں دلچسپی نہیں ، کیونکہ ھم نے تو کام کرنا ھے ، مگر تعلیم ، تعلیمی اداروں اور اساتذہ و طلباء کی ہمیشہ فکر رہتی ہے ، کیونکہ یہیئ ھمارا حال و مستقبل ھے ، کیا سرکاری تعلیمی ادارے پرائیویٹ ھونے چائیے کہ نہیں ، یہ الگ بات ہے اصل بات کسی منصوبے کے لیے مکمل ھوم ورک کی ھوتی ھے ، آئین اور قانون سمیت معاشرے اور ملک کی ضرورت کو دیکھا جاتا ہے ، آپ کے ذھین میں یہ منصوبہ ھے تو کوئی حرج نہیں ، اساتذہ ، ماہرین تعلیم اور حکومتی نمائندے مل بیٹھیں اور ایک لائحہ عمل تشکیل دیں ، جس پر آرا لیں اور فیصلہ کر لیں ، اس میں کوئی مضائقہ نہیں ، 
رہی بات تعلیم کی تو ایک عرصہ سے پنجاب ، سندھ ، اور بلوجستان میں گھوسٹ اساتذہ ، اداروں اور نظام تعلیم کا سنتے اور دیکھتے آئے ہیں جس کے ازالے کے لئے متعلقہ حکومتوں نے کوئی منصوبہ بندی ، کوئی کام نہیں کیا ، جب آپ کو اپنے بچوں ، اپنی جاگیر دارانہ سوچ اور ضرورت کے لئے سکولوں ، کالجوں اور اداروں کی ضرورت پڑتی ہے ، تو سب میرٹ کو قتل کر دیا جاتا ہے ، یہاں تک کہ میڈیکل کالج میں داخلہ لینے ، کے لیے سفارش اور رشوت ، تعلیمی اداروں کو سیاسی جلسوں ، ذاتی استعمال اور نظام تعلیم کو ایک مافیا بنا دیا گیا اس وقت کسی نے نہیں سوچا جو رہی سہی کسر تھی وہ بغیر میرٹ بھرتی ھونے والے اساتذہ نے پوری کر دی ، ان سب باتوں کے باوجود یہ ھزاروں تعلیمی ادارے ، لاکھوں اساتذہ اور والدین سے مل کر تعلیم کو ترجیح کیوں نہیں بنایا جا سکتا ؟اپ کے تین کروڑ بچے ایسے ہیں جو سکول جا ھی نہیں سکے اوپر سے ریاست اور حکومت کے پاس یہ واضع آئینی شق ھے 25 اے جس کے تحت سولہ سال تک بچے کو مفت تعلیم دینا حکومت و ریاست کی زمہ داری ہے ، کیا یہ پرائیوٹائزیشن اس کی خلاف ورزی نہیں ھوگی؟ ، دوسرا کیا لاکھوں اساتذہ جو آدھی زندگی گزار چکے ہیں آن کو تحفظ ملے گا ؟ جو تھوڑے بہت غریب لوگ سکول دیکھتے ہیں کیا وہ بھی تعلیمی ادارے چھوڑ دیں گے تو کیا منظر ھوگا؟ ، اس وقت چالیس فیصد سے زائد لوگ خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں کیا وہ پرائیویٹ تعلیم حاصل کر سکیں گے؟ ، باقی ماندہ میں صرف بیس فیصد لوگ ایسے ھوں گے جو پرائیویٹ تعلیم حاصل کرنے کی کوشش کریں گے یہ کل ملا کر اسی فیصد لوگ کہاں جائیں گے ؟کیا آپ سرکاری تعلیمی اداروں کا معیار اور نظام بہتر نہیں کر سکتے؟
پیوند کاری سے نظام درست نہیں ھوتے اور نہ ہی تجربہ کرنے کی ضرورت ہے ، تعلیمی اداروں کو سیاست سے پاک کرنے کے لیے ایک منظم نظام بنایا جائے اور اس نیٹ ورک میں میرٹ کو ترجیح دے کر اہل لوگ آگے لائیں جائیں ، جو اساتذہ کی تربیت اور سسٹم کی بہتری کے لیے ماہانہ بنیادوں پر پر رپورٹ جاری کریں ، اساتذہ کا انتخاب ماہانہ کیمپ لگا کر کیا جائے ابتدائی ٹیسٹ کے بعد پڑھانے اور نفسیاتی تجزیے کا ایک ماہ کا کیمپ ھونا چاھئے جہاں اساتذہ کو ہر لحاظ سے پرکھا جائے ، اس کے بعد ماہرین کی ٹیم اساتذہ کا انتخاب کرے جس میں سفارش ، سیاسی اثر و رسوخ کی کوئی گنجائش نہ ھو ، کم از کم اساتذہ کے انتخاب میں تو میرٹ کشی بند کر دیں ، موجودہ اساتذہ کو تربیتی پروگرام کے تحت ترقی دی جائے اور سب بڑا کام کہ سکولوں سے باہر بچوں کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں ، تعلیمی اداروں میں ٹیکنکل ایجوکیشن کے مختلف پروگرامز شروع کیے جائیں تاکہ جو بچے پڑھ نہیں سکتے ، مفید شہری بن سکیں ، سب سے زیادہ ترجیح پرائمری تعلیم کو دی جائے ، جہاں سے بچے کا سفر شروع ھوتا ھے اس کے بعد اس کا شوق و ذوق پیدا ھو گا ، وہ کسی حد تک تعلیم حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہینگے ، اس وقت لاکھوں اساتذہ اس ملازمت میں موجود ہیں انہیں روزگار کا تحفظ اور ضمانت دینا ضروری ہے ، آزاد کشمیر میں خواندگی کی شرح سب سے بہتر ہے ، جبکہ تعلیم کا شعبہ سب سے بڑا ھے وہاں سرکاری تعلیمی اداروں کی طرف رغبت کم ہوتی جا رہی ہے اس کی طرف توجہ دی جائے ، سیاست کو تعلیم اداروں سے دور رکھنا بھی ضروری ہے ، ان سب باتوں میں ایک بات واضح ہے کہ تعلیم چاہے ٹیکنکل ھو یا شعوری اس کے بغیر قومی کیا معاشی اور معاشرتی ترقی ناممکن ہے ، بہتر ہے کہ کل توجہ نہیں دی آج ہی توجہ دے دیں ، اساتذہ اور طلباء کو کسی آزمائش میں نہ ڈالیں رہی سہی کسر بھی نکل جائے گی

بشکریہ اردو کالمز